اسلام آباد (ویب ڈیسک ) وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمت میں 4روپے 4پیسے کی کمی اور ایکسپورٹرز کیلئے ٹیکس ساڑھے 7سے کم کر کے ساڑھے4فیصد کرنے، ویلنگ چارجز میں 9روپے کی کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، پوری قوم نے قربانی دی، مشکل فیصلے کر کے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10روپے کم کر دوں، لیکن میرے ہاتھ بندھے ہیں، فیلڈ مارشل کے خصوصی تعاون سے بہت سے معاملات کو حل کیا، پاکستان اتنا مضبوط ہوگا کہ بھارت کو غشی کے دورے پڑیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی دارالحکومت میں ملک کے نامور ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تقریب میں شرکت باعث فخر ہے۔
عظیم پاکستانیوں نے شبانہ روز محنت سے ایکسپورٹس میں میدان مارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کی جتنی تحسین کی جائی کم ہے، آپ لوگوں نے مشکل حالات میں ایکسپورٹس میں اضافہ کیا، آپ نے خطرات مول لیکر پاکستان کیلئے اربوں ڈالرز کمائے، پوری قوم آپ تمام ایکسپورٹرز کی احسان مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عظیم کاروباری شخصیات نے شبانہ روز محنت سے ملک کا نام روشن کیا، باتیں چل رہی تھیں کہ پاکستان خدانخواستہ ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے، کچھ لوگوں نے ٹویٹس میں لکھ دیا تھا کہ ملک ٹیکنیکلی ڈیفالٹ کر چکا، میری 2023ء میں پیرس میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات ہوئی، ایم ڈی آئی ایم ایف نے مجھے کہا اس وقت نیا سٹرکچر آفر کرنا بہت مشکل ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ سری لنکا ہمارا دوست ملک ہے، سری لنکا اس وقت ڈیفالٹ سے دوچار ہو چکا تھا، سری لنکا میں ڈیفالٹ کے بعد سڑکوں پر مظاہرے ہو رہے تھے، سری لنکا کے صدر نے کہا آپ میرے ساتھ ایم ڈی آئی ایم ایف کے پاس چلیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے دوبارہ بات کی، ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا آپ پروگرام درمیان میں ادھورے چھوڑ جاتے ہیں، میں نے یقین دلایا کہ ہم آئی ایم ایف معاہدے پر ضرور عملدرآمد کریں گے، جس پر ایم ڈی آئی ایم ایف نے مجھے کہا آپ کیلئے شارٹ ٹرم پروگرام دے رے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بالکل ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، ہم نے مشکل فیصلے کر کے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، پوری قوم نے قربانی دی، غریب آدمی نے مشکلات کا سامنا کیا، پالیسی ریٹ 22فیصد تھا، ملک میں ایک کہرام کی کیفیت تھی، پاکستان کے صنعتکاروں نے بھی مشکلات کا سامنا کیا، تاجروں اور صنعتکاروں نے نقصانات برداشت کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستانی معیشت میں استحکام آچکا ہے، آج مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں ہے، پالیسی ریٹ ساڑھے 10فیصد پر ہے، صنعتکار وزیر خزانہ کے مشوروں پر عمل کریں اور تگڑے ہو کر فیصلے کریں۔ شہباز شریف نے کہا کہ دوست ممالک کے قرضوں کی وجہ سے ہمارے فارن ایکسچینج ریزروڈبل ہوئے، ہم نے قرض کیلئے دوست ممالک سے درخواستیں کیں، جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سر ہمیشہ جھکا ہوتا ہے، چین نے ہمارے اربوں ڈالر رول اوور کئے، چائنہ نے ہمیشہ مشکل ترین وقت میں مدد کی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور قطر نے بھی ہمارا مشکل وقت میں ساتھ دیا، ہماری معیشت میں استحکام آچکا لیکن یہ کافی نہیں، آج پاکستان میں مہنگائی اور بیروزگاری بڑھ گئی ہے، آج کئی ممالک میں مصنوعات کی قیمتیں پاکستان سے کم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پالیسی ریٹ ساڑھے 10فیصد پر آیا، پالیسی ریٹ میں مزید کمی نہ ہوئی تو تمام صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لایا جاسکتا، کمیٹیز چیئرمین کیلئے پرائیویٹ سیکٹرز سے بہترین لوگوں کا انتخاب کیا، دنیا میں کہیں بھی گورنمنٹ بزنس نہیں کرتی، جہاں گورنمنٹ بزنس کرے وہ تباہی کا موجب بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار کرنا پرائیویٹ سیکٹر کا کام ہے، ماضی میں بھی عملی فیصلے کئے گئے، بڑے بھائی نوازشریف نے پرائیویٹ سیکٹر کیلئے جو اقدامات کئے وہ تاریخ کا حصہ ہیں، آج ہمیں آگے بڑھنا ہے، گروتھ کی جانب بڑھنا ہے، ایکسپورٹس کر کے ڈالر کمائیں یہ مشکلات کا حل ہے، کاروباری برادری کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ رسک کے بغیر دنیا میں کوئی چیز کامیاب نہیں ہوئی، میڈیم اور سمال لیول کے انٹرپنیور کا ہاتھ پکڑنا پڑے گا، اس وقت کالے بادل بھی منڈلا رہے ہیں، کہا جا رہا ہے آپ کی امپورٹس بڑھ رہی ہیں، امپورٹس بڑھیں گی تو ایکسپورٹس ہوں گی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ تاجر، صنعتکار اور ایکسپورٹرز ہمارے سر کا تاج ہیں، معاشی ترقی کیلئے آپ کے مشوروں پر عمل کرنا میرا اور میری ٹیم کا فرض ہے، تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی کاروباری طبقے نے بھی مدد کرنی ہے، آج پاکستان کو سفارتی محاذ پر کامیابیاں مل رہی ہیں، گزشتہ سال ہندوستان کے ساتھ مڈبھیڑ ہوئی، ہندوستان کو ایسی شکست فاش ہوئی کہ اس کی آئندہ نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج دوست ممالک پاکستانی پاسپورٹ کو اہمیت دیتے ہیں، فیلڈ مارشل کے ساتھ مختلف ممالک کی دعوت پر دورے کر رہا ہوں، جو ہمارے ساتھ ہاتھ نہیں ملاتے تھے وہ آج کئی قدم آگے بڑھ کر بغل گیر ہوتے ہیں، جن ایکسپورٹرز نے اپنی اپنی فیلڈ میں ٹاپ کیا ان کو بلیو پاسپورٹ دیں گے، بلیو پاسپورٹ کی مدت 2سال ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری انتہائی شفاف طریقے سے ہوئی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا میں پی آئی اے کو دوبارہ اسی طرح متعارف کرایا جائے گا، پی آئی اے کے ذریعے کروڑوں پاکستانیوں کا دنیا میں سفر لائق تحسین ہے، عارف حبیب گروپ کو پی آئی اے کے حوالے سے حکومت کی پوری سپورٹ حاصل ہوگی، عارف حبیب گروپ کو کہوں گا مسافروں کو ورلڈ کلاس سروس ملنی چاہیے، پی آئی اے نے بہترین کارکردگی دکھائی تو صدر سے ایوارڈ کا کہوں گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ گورنمنٹ کے پی ڈبلیو ڈی سمیت کئی ادارے بند ہو چکے۔
یوٹیلیٹی سٹور بھی بند کئے، یوٹیلیٹی سٹورز میں بھی بہت کرپشن ہوتی تھی، سٹورز کے سامنے لائنوں میں لگے لوگوں کی عزت مجروح ہوتی تھی، پاسکو میں بھی کرپشن تھی ،اس کو بھی بند کردیا گیا، ہم اداروں میں اصلاحات لا رہے ہیں، اربوں روپے کی کرپشن کو ختم کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2023ء میں ایم ڈی آئی ایم ایف پاکستان کو پروگرام نہیں دے رہی تھیں، اب ڈیووس میں ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا پاکستان جو کہتا ہے وہ کرتا ہے، ایم ڈی آئی ایم ایف نے پی آئی اے نجکاری کی بھی تعریف کی، ناروے جیسے ملک میں بھی کرپشن ختم نہیں ہوئی، ہم کرپشن پر بھی جلد قابو پالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹ ٹیکسز کل نہیں آج کم ہونے چاہئیں، کنزیومر سے ٹیکس لیکر جیب میں ڈال لیں اس سے بڑا کوئی جرم نہیں ہو سکتا، جو ٹیکس جمع کرا رہے ہیں ان کو سلیوٹ کرتا ہوں، پٹرولیم سمگلنگ تقریبا بند ہو چکی ہے، پٹرولیم سمگلنگ بند ہونے سے سالانہ 12ارب روپ ریونیو آ رہا ہے، پٹرولیم سمگلنگ بند کرنے میں فیلڈ مارشل کا اہم کردار ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ڈیجیٹل فیلڈ میں بہترین کاوشیں جاری ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سپورٹ نہ ہوتی تو کئی مسائل حل نہ کر سکتا، ایسا اتحاد رہا تو ہندوستان کو دورے پڑیں گے کہ پاکستان اتنا مضبوط ملک بن چکا ہے۔ وزیراعظم نے انڈسٹری کیلئے ٹیرف میں 4روپے 40پیسے کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میرا بس چلے تو اس کو 10روپے مزید کم کر دوں، لیکن ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں مختلف بینکس کے ہیڈ بھی بیٹھے ہیں، ایکسپورٹرز کیلئے ٹیکس ساڑھے 7فیصد سے کم کر کے ساڑھے 4فیصد کر رہا ہوں، ایکسپورٹرز کو ٹیکس میں کمی کا بے پناہ فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی شک نہیں پی آئی اے سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں ترقی کرے گی۔
پاکستانی مسافروں کو پی آئی اے میں بہترین سہولیات ملنی چاہئیں، دوبارہ بارسلونا، پیرس اور نیویارک میں یہی سلوگن لگے ہوں گے گریڈ پیپل ٹو فلائی وید پی آئی اے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا غریب نے مشکلات کا سامنا کیا، ہمیں اب گروتھ کی طرف جانا ہے، کاروباری برادری کی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں، تاجر برادری سے مشاورت کے بعد معاشی پالیسیاں بنائی جائیں گی، سیاسی و عسکری تعاون سے ملکی ترقی کی راہیں کھل رہی ہیں۔ شہباز شریف نے ایک بار پھر ملکی معیشت کی بحالی کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور فوج کی شراکت داری ملک کیلئے بہتر ہے، حکومت اور فوج کی پارٹنر شپ اسی طرح چلتی رہی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر مضبوط ملک بن کر ابھرے گا۔
تقریب میں موجودہ حکومت کی معاشی کارکردگی پر دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جبکہ وزیر اعظم نے لکی ٹیکسٹائل، صوفی انڈسٹریز، نوا ٹیکسٹائل، یو ایس اپیرل ٹیکسٹائل، آصف رائس ملز، الکرم ٹیکسٹائل، سفائر ٹیکسٹائل، غریب سنز رائس ملز ، ڈائمنڈ فیبرکس،ریاض ٹیکسٹائل، صداقت پرائیویٹ لمیٹڈ، سٹائل ٹیکسٹائل سمیت نمایاں برآمد کنندگان کو ایوارڈ بھی دیئے۔ادھر وزیر پاور اویس لغاری نے بھی سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ صنعتوں کے لیے بجلی بلوں میں فی یونٹ 4روپے 4پیسے کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اویس لغاری کے مطابق، حکومت کے آغاز میں صنعتوں پر یہ بوجھ 8روپے 90پیسے فی یونٹ تھا، جو اب وزیراعظم کی رہنمائی میں آہستہ آہستہ صفر تک پہنچ گیا ہے۔ وزیر پاور نے بتایا کہ صنعتوں کے لیے بوجھ کے خاتمے سے ویلنگ چارجز میں بھی کراس سبسڈی کے تحت 4روپے 40پیسے کی کمی ہوگی، جس کے نتیجے میں بجلی کی مجموعی قیمت تقریباً ساڑھے گیارہ سینٹ فی یونٹ دستیاب ہوگی۔ اویس لغاری نے اپنے پیغام کا اختتام ’’ اڑان پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعروں کے ساتھ کیا۔



