ایک ماہ میں 1830 ارب قرضہ اور 75 سال کی تاریخ کا دھوکہ
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔ اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ موجودہ مالیاتی حکمتِ عملی پائیدار نہیں رہی۔ صرف ایک ماہ میں شہباز شریف کی حکومت نے 1830 ارب روپے کا نیا قرضہ لیا ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک ایسا بوجھ ہے جو آنے والی نسلوں کے کندھوں پر رکھا جا رہا ہے۔ اس کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان نے پچھلے 75 برسوں میں جتنا قرضہ لیا تھا، اس کا تقریباً 80 فیصد صرف گزشتہ تین سالوں میں لیا جا چکا ہے۔ یہ حقیقت معیشت کی کمزوری اور پالیسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
قرضوں کی تاریخ: 75 سالہ پس منظر
قیامِ پاکستان کے بعد شروع کے چند عشروں میں ملک نے ترقی کی بنیادیں رکھیں۔ زراعت اور صنعت کے کچھ شعبے آگے بڑھے۔ اس دوران قرض ضرور لیا گیا مگر اس کی شرح اور مقدار قابلِ برداشت تھی۔ 1990 کے بعد جب سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں میں غیر تسلسل بڑھا تو قرضوں کا گراف تیزی سے اوپر جانے لگا۔
2000 کی دہائی میں مشرف دور اور بعد ازاں پیپلز پارٹی و ن لیگ کے ادوار میں قرضوں کی شرح میں اضافہ ہوا۔ لیکن سب سے خطرناک جست پچھلے چند برسوں میں نظر آئی۔ 2018 کے بعد قرضوں کا انبار اتنی تیزی سے بڑھا کہ آج ہر پاکستانی کے ذمے لاکھوں روپے کا قرض ہے۔
موجودہ حکومت اور ایک ماہ میں 1830 ارب
شہباز شریف حکومت کا ایک ماہ میں 1830 ارب روپے کا قرض لینا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ قرض کہاں سے آیا اور کیوں لیا گیا؟ ماہرین کے مطابق اس کے تین بڑے اسباب ہیں:
1. بجٹ خسارہ: حکومت کے اخراجات آمدنی سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے قرض لیا جاتا ہے۔
2. سود کی ادائیگی: پرانے قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے نیا قرض لینا مجبوری بن چکا ہے۔
3. سیاسی دباؤ: عوامی ریلیف اور سبسڈیز دینے کے لیے وقتی انتظام قرض کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
یہ صورتحال خطرناک ہے کیونکہ قرض لینے کا مقصد ترقیاتی منصوبے یا پیداواری سرمایہ کاری نہیں بلکہ پرانے قرضے اتارنا اور سرکاری اخراجات پورے کرنا ہے۔
80 فیصد قرض صرف تین سال میں
پاکستان نے اپنی 75 سالہ تاریخ میں جتنا قرض لیا، اس کا تقریباً 80 فیصد صرف گزشتہ تین برس میں لیا جا چکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ریاست اب اپنی معیشت چلانے کے لیے مکمل طور پر قرض پر انحصار کر رہی ہے۔ یہ پالیسی ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص پرانے قرضے اتارنے کے لیے نئے قرض لیتا جائے اور کبھی بھی اپنی آمدنی بڑھانے کی کوشش نہ کرے۔
عوام پر اثرات
قرضوں کا بوجھ براہِ راست عوام کے کندھوں پر منتقل ہوتا ہے۔
مہنگائی: روپے کی قدر میں کمی اور آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث روزمرہ اشیاء کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔
بے روزگاری: غیر یقینی معیشت میں سرمایہ کاری کم ہوتی ہے، جس سے روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں۔
ٹیکسوں کا دباؤ: حکومت قرض لینے کے بعد مزید ٹیکس لگاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر تنخواہ دار طبقے اور غریب عوام پر پڑتا ہے۔
عالمی اداروں کا دباؤ
آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے قرض دیتے وقت سخت شرائط عائد کرتے ہیں۔ بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانا، روپے کی قدر کم کرنا، سبسڈی ختم کرنا یہ سب اسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ یوں قرضہ لینے کی قیمت عوام مہنگائی اور غربت کی شکل میں ادا کرتے ہیں۔
کیا یہ سلسلہ رک سکتا ہے؟
یہ سوال اب ہر ذہن میں ہے کہ کیا پاکستان اس قرضوں کے جال سے نکل سکتا ہے؟ جواب ہے: ہاں، لیکن شرط یہ ہے کہ ہم اپنی پالیسیوں کو بدلیں۔
📌 چند بنیادی اقدامات یہ ہو سکتے ہیں:
1. اخراجات میں کمی: غیر ضروری پروجیکٹس اور سرکاری عیاشیوں پر کٹ لگایا جائے۔
2. برآمدات میں اضافہ: زراعت اور صنعت کو سہولت دے کر ڈالر کمانے کے ذرائع بڑھائے جائیں۔
3. ٹیکس نیٹ کو وسعت: صرف چند لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں، یہ دائرہ بڑھایا جائے۔
4. ادارہ جاتی اصلاحات: کرپشن اور غیر شفافیت کم کیے بغیر کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
5. سیاسی استحکام: بار بار کی تبدیلیاں اور انتشار معاشی اعتماد کو تباہ کر دیتے ہیں۔
نتیجہ
پاکستان کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ قرض لیا جا رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ قرض کہاں اور کیسے استعمال ہو رہا ہے۔ اگر یہ قرض پیداواری منصوبوں پر لگایا جائے تو واپسی ممکن ہے، مگر جب یہ صرف پرانے قرض اتارنے اور حکومتی اخراجات چلانے کے لیے لیا جائے تو یہ ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جاتا ہے۔
1830 ارب روپے کا صرف ایک ماہ میں قرضہ اور 80 فیصد قرضوں کا تین سال میں بڑھ جانا اس بات کی علامت ہے کہ اب فیصلہ کن اصلاحات کے بغیر آگے بڑھنا ناممکن ہے۔ ورنہ آنے والے سالوں میں پاکستان کے پاس اپنے بجٹ کا بڑا حصہ صرف سود دینے کے لیے ہوگا، ترقی اور عوامی فلاح کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔



