انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

’’ وقت نےہڑتال کردی ‘‘

بے لگام / ستارچوہدری

رات کے ٹھیک بارہ بج کرایک منٹ پر دنیا میں کچھ عجیب ہوا،کسی نے شورنہیں سنا، کوئی دھماکہ نہیں ہوا،آسمان پربجلی نہیں گری، کوئی خطرے کا سائرن نہیں بجا۔۔۔۔۔ بس۔۔۔۔وقت رک گیا۔۔۔شہرکی بلند عمارتوں پرلگے گھڑیال ایک ہی لمحے پرمنجمد ہوگئے۔ گھروں میں رکھی گھڑیاں رک گئیں۔
 ہاتھوں میں بندھیں گھڑیاں بھی رک گئیں،موبائل فون کی سکرین پروقت وہیں کا وہیں ٹھہرگیا۔۔۔۔بارہ بج کر ایک منٹ۔۔۔۔ایک سیکنڈ بھی آگے نہ بڑھا،پہلے پہل کسی نے توجہ نہیں دی۔۔۔۔ایک شخص نے کروٹ بدلی، آنکھیں کھولیں، موبائل دیکھا اوردوبارہ سوگیا۔کسی ماں نے بچے کو دودھ پلایا۔کسی چوکیدار نے گلی کا چکرلگایا۔کسی ہسپتال میں ڈاکٹر مریض دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
دنیا اپنے معمول کے مطابق چل رہی تھی،مگروقت نہیں چل رہا تھا۔۔۔صبح ہوئی تو سورج حسب معمول طلوع ہوا،پرندے چہچہائے،دکانوں کے شٹر اٹھے،سڑکوں پرگاڑیاں نکل آئیں،لیکن عجیب بات یہ تھی کہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ صبح کے کتنے بجے ہیں۔۔۔ایک دفتر میں ملازم نے اپنی کلائی کی گھڑی دیکھی،بارہ بج کر ایک منٹ،اس نے موبائل دیکھا،بارہ بج کرایک منٹ،دیوارپرلگی گھڑی دیکھی،بارہ بج کر ایک منٹ۔۔۔۔
وہ ہنسا،لگتا ہے آج سب گھڑیاں خراب ہوگئی ہیں،اس کے ساتھی نے موبائل نکالا،وہ بھی وہیں رکا ہوا تھا،پھرکسی نے باہر لگی بڑی گھڑی کی طرف دیکھا،وہ بھی رک چکی تھی۔چند منٹ میں خبرپھیل گئی،پھرپوری دنیا میں ہرگھڑی رک چکی تھی۔ ماہرین نے کہا، شاید کوئی عالمی تکنیکی خرابی ہے،سائنس دان لیبارٹریوں میں پہنچ گئے،ٹی وی چینلوں پرہنگامی نشریات شروع ہوگئیں ،بازاروں میں لوگ ایک دوسرے سے وقت پوچھنے لگے،مگرکسی کے پاس جواب نہیں تھا۔۔۔کیونکہ وقت کسی کے پاس نہیں تھا۔۔۔۔
پھرایک اورخوفناک بات سامنے آئی،ٹرینیں رک گئی تھیں،ہوائی جہاز فضا میں اپنی رفتار سے تو چل رہے تھے، مگران کے نظام میں وقت آگے نہیں بڑھ رہا تھا،بینکوں کے نظام رک گئے،سٹاک مارکیٹ رک گئی،کارخانوں کی مشینیں بند ہوگئیں،آن لائن لین دین رک گیا،دفاترمیں حاضری کا نظام رک گیا۔۔۔۔دنیا پہلی بارایک ایسے لمحے میں کھڑی تھی جہاں سب کچھ موجود تھا۔۔۔مگر۔۔۔۔اگلا لمحہ موجود نہیں تھا۔۔۔۔
لوگ گھبرا گئے،کسی نے کہا قیامت آگئی،کسی نے کہا یہ کسی بڑی جنگ کا آغاز ہے،کسی نے کہا دنیا کا نظام ختم ہونے والا ہے،لیکن کسی کے پاس یقین سے کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔۔۔۔اورپھر۔۔۔دنیا کے ایک بڑے خبررساں ادارے نے ایک عجیب خبر نشر کی،اسکرین پر ایک ماہرفلکیات بیٹھا تھا،اس نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا،ہم ابھی تک یہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ گھڑیاں کیوں رکی ہیں۔۔۔۔ وہ رکا۔۔۔۔ پھربولا۔۔۔۔ لیکن مسئلہ گھڑیوں کا نہیں ہے۔۔۔۔
اینکرنے چونک کرپوچھا !! توپھرمسئلہ کیا ہے۔۔۔۔۔؟ ماہرنے گہری سانس لی۔۔۔ بولے !! ہمیں لگ رہا ہے۔۔۔۔ وقت ہی آگے نہیں بڑھ رہا۔۔۔۔ سٹوڈیو میں خاموشی چھا گئی۔۔۔۔ پوری دنیا نے یہ جملہ سنا۔۔۔ اورشاید پہلی بار انسان نے اپنے دل میں ایک ایسا خوف محسوس کیا جس کا کوئی نام نہیں تھا۔۔۔۔ اگروقت واقعی رک گیا ہے، تو پھراگلا لمحہ کب آئے گا۔۔۔؟ اوراگراگلا لمحہ کبھی آیا ہی نہیں، تو ہماری زندگیوں کا کیا ہوگا۔۔۔؟
اسی لمحے ایک چھوٹے سے گھر میں ایک بوڑھا آدمی اپنی دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھ رہا تھا، وہ کئی برس سے اسی گھڑی کو دیکھ کر دوا کھاتا تھا، صبح بچوں کو سکول بھیجتا تھا، دکان کھولتا تھا، بیوی کے ساتھ چائے پیتا تھا، زندگی کا ہر کام وقت کے مطابق کرتا تھا، آج پہلی باراس نے گھڑی کو دیکھا اورمسکرا دیا۔۔۔۔ اس کی بیوی نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔!! آپ کو فکر نہیں۔۔۔؟ بوڑھے نے گھڑی سے نظریں ہٹائیں، بہت آہستہ بولا۔۔۔ فکر تو ہے، پھر چند لمحے خاموش رہ کر کہا۔۔
 مگر ایک بات سوچ رہا ہوں۔۔۔۔ کیا۔۔۔؟ بوڑھے نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا، اگر وقت رک گیا ہے۔۔۔۔ تو شاید پہلی بار ہمارے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت ہے۔۔۔۔ اور شاید، وہ اس عجیب دن کا پہلا انسان تھا جس نے سمجھ لیا تھا کہ وقت کی ہڑتال صرف گھڑیوں کا رکنا نہیں تھی، یہ انسان کی دوڑکا رکنا تھا۔۔۔۔
دن چڑھتا گیا، مگر گھڑی کی سوئیاں وہیں کھڑی رہیں،دنیا کے بڑے بڑے ادارے وقت کو دوبارہ چلانے کی کوشش کر رہے تھے، مگر وقت کسی کی سننے کو تیار نہیں تھا،دفاترمیں لوگ بیٹھے تھے، مگر کام نہیں ہو رہا تھا،بازار کھلے تھے، مگرخرید و فروخت نہیں،سڑکیں موجود تھیں، مگر منزل کا احساس کہیں غائب ہوگیا تھا۔۔۔۔
اورپھر ایک عجیب چیز شروع ہوئی،لوگوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھنا شروع کیا،ایک باپ، جو ہر روز صبح دفتر کے لیے نکلتے ہوئے بیٹے کو صرف اتنا کہتا تھا، پڑھائی کرنا، آج اس کے پاس بیٹھ گیا،بیٹے نے حیرت سے باپ کو دیکھا،آپ کوآج دفتر نہیں جانا۔۔؟ باپ مسکرا دیا، پتا نہیں۔۔۔ شاید وقت ہی دفتر نہیں جانے دے رہا۔۔۔ دوسرے گھر میں ایک عورت برسوں بعد اپنی ماں کے پاس بیٹھ گئی، ماں نے پوچھا، آج اتنی فرصت کیسے مل گئی۔۔۔؟ بیٹی نے ماں کا ہاتھ پکڑ لیا، اماں، شاید وقت رک گیا ہے، ماں نے ہنس کر کہا، نہیں، بیٹی۔۔۔۔ وقت نہیں رکا۔ تم رکی ہو، پہلی بار میرے پاس۔۔۔۔
 ایک شخص اپنے دفتر کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا، اس کے پاس دولت تھی، گاڑیاں تھیں، بڑے بڑے منصوبے تھے،مگر اچانک اسے یاد آیا،اس نے آخری بار اپنے بیٹے کے ساتھ کب کھانا کھایا تھا۔۔۔؟ اسے یاد نہیں تھا، اس نے بیٹے کو فون کیا، بیٹا، گھرپرہو۔۔۔۔؟ جی ابو۔۔۔ آج میرے ساتھ کھانا کھاؤ گے۔۔۔؟ بیٹے نے کہا، آپ کے پاس وقت ہے۔۔۔؟باپ بولا،آج وقت ہی وقت ہے۔۔۔ اور شاید یہی اس دن کا سب سے عجیب واقعہ تھا، دنیا میں پہلی بار لوگوں کے پاس وقت تھا۔
 مگر کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ وقت کتنی دیر کے لیے ہے۔۔۔ پھر شام ہوگئی، اب لوگوں کے چہروں پر خوف کم تھا۔ کچھ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ کچھ اپنے والدین کے پاس تھے، کچھ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، کچھ برسوں بعد کسی پرانے دوست کو فون کر رہے تھے۔۔کسی کو معلوم نہیں تھا اگلی صبح کیا ہوگا۔۔۔؟
رات گہری ہوگئی۔۔۔ دنیا اب بھی ایک ہی لمحے میں کھڑی تھی۔۔۔ بارہ بج کرایک منٹ۔۔۔۔ لوگ سوئے نہیں۔ سب اپنی اپنی گھڑیوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔اورپھر، اچانک ایک گھرمیں گھڑی کی سوئی ہلی۔۔۔۔ٹک ۔۔۔۔۔ صرف ایک آواز۔۔۔ پھر دوسری گھڑی چلی۔۔۔ ٹک ۔۔۔۔ ٹک۔۔۔۔ پھرتیسری۔۔۔ چند ہی لمحوں میں دنیا بھر کی گھڑیاں چلنے لگیں۔۔۔ وقت واپس آ گیا تھا۔۔۔۔ لوگ خوشی سے باہر نکل آئے۔۔۔۔ گاڑیاں چل پڑیں۔۔۔ بازار کھل گئے۔۔۔۔
 ہوائی اڈوں پر اعلانات ہونے لگے۔۔۔ دنیا پھراپنی رفتارمیں واپس آگئی۔۔۔۔ مگرایک عجیب بات ہوئی۔۔۔ جس باپ نے برسوں بعد بیٹے کے ساتھ کھانا کھایا تھا، اس نے اگلے دن دفترجانے سے پہلے بیٹے کو گلے لگایا۔۔۔۔ جس بیٹی نے ماں کا ہاتھ پکڑا تھا، اس نے ماں سے کہا، اماں، آج شام بھی آپ کے پاس بیٹھوں گی۔۔۔۔ جس شخص نے برسوں بعد پرانے دوست کو فون کیا تھا، اس نے فون بند کرنے کے بعد ایک جملہ کہا، ہمیں وقت نہیں ملا تھا۔۔۔۔ ہم نے وقت دیا ہی نہیں تھا۔۔۔۔
 اور شاید یہی اس ایک دن کا اصل راز تھا۔۔۔ وقت نے صرف ’’ایک دن ہڑتال‘‘ کی تھی۔۔۔ نہ دنیا ختم ہوئی، نہ سورج رکا، نہ زندگی ختم ہوئی، بس انسان کی دوڑ رک گئی تھی۔۔۔۔ اور جب وقت دوبارہ چل پڑا تو انسان سمجھ چکا تھا کہ زندگی لمبی ہونے کا نام نہیں، زندگی، وقت کو صحیح جگہ دینے کا نام ہے۔۔۔ ہم دولت کمانے کے لیے وقت نکالتے ہیں۔۔۔۔ کاروبار کے لیے وقت نکالتے ہیں۔۔۔۔ موبائل کے لیے وقت نکالتے ہیں۔۔۔۔ دنیا کیلئے وقت نکالتے ہیں۔۔۔۔
 مگران لوگوں کے لیے وقت نہیں نکالتے جن کے بغیر ہماری دنیا ہی بے معنی ہے۔۔۔ شاید وقت کو ہڑتال کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ہمیں خود ایک دن رک کر سوچنے کی ضرورت تھی۔۔۔۔ کہ کہیں ایسا نہ ہو، گھڑی چلتی رہے، عمر گزرتی رہے، دنیا آگے بڑھتی رہے۔۔۔ اورایک دن ہمیں احساس ہو کہ ہم نے زندگی گزارنے کیلئے وقت ہی نہیں نکالا۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button