انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

ٹرمپ کی تازہ دھمکی،ایرانی وفد کا احتجاج،مذاکرات کے مقام سے روانہ

تہران:(ویب ڈیسک)ایرانی وفد نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے کی براہ راست دھمکی پر احتجاج کیا اور مذاکرات کے مقام سے روانہ ہوگئے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ حملوں کی دھمکی پر امریکی وفد سے براہ راست احتجاج کیا اور اب اگلے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ ذرائع نے بتایا کہ ایرانی وفد نے امریکی عہدیداروں کے سامنے اعتراض کیا اور اس وقت ٹرمپ کی زبانی دھمکی کا مناسب جواب دینے کے لیے صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ میں ایرانی نیم سرکاری خبرایجنسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایرانی وفد ٹرمپ کی تازہ دھمکی پر احتجاجاً امریکی وفد سے مذاکرات کے مقام سے دور چلا گیا ہے۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی کا نام لیے بغیر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ لبنان میں بھاری معاوضوں والی پراکسیز کو حالات خراب کرنے سے روکے، اگر ایسا نہیں کیا تو حملے دوبارہ شروع کریں گے۔

ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ایران نے پراکسیز نہیں روکا تو پہلے سے بھی زیادہ شدت سے حملے کریں گے۔

امریکی صدر کی جانب سے ایران کو یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی جب دونوں ممالک کے وفود سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے اہم مذاکرات میں مصروف ہیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے 14 نکات پرعمل درآمد کے لیے تیکنیکی راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت پر امریکا اور ایران نے چند روز قبل دستخط کیے تھے، جس پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بطور ثالث دستخط کیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی دھمکی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا کے وعدوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے، جس کی پہلی شق کے تحت دونوں فریق اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کسی جنگ یا فوجی کارروائی کا آغاز نہیں کریں گے اور ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کریں گے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button