
جنت سے نکالا گیا ایک فرشتہ زمین پرآیا۔۔۔۔کہتے ہیں جب اسے جنت سے زمین پربھیجا گیا تواس کے ذہن میں انسانوں کے بارے میں ایک عجیب تصورتھا،اسے بتایا گیا تھا کہ زمین والے آزاد ہیں، اپنی مرضی سے جیتے ہیں، فیصلے خود کرتے ہیں، راستے خود چنتے ہیں۔۔۔۔جنت میں ہرچیزاپنے نظام کے مطابق تھی، مگرزمین پراختیارتھا، انتخاب تھا، خواہش تھی، جدوجہد تھی۔۔۔۔فرشتہ جب زمین پراترا تواس نے بڑے بڑے شہردیکھے، آسمان کو چھوتی عمارتیں، روشنیوں میں نہائے بازار، دوڑتی گاڑیاں اورہاتھوں میں چمکتے موبائل، اسے لگا واقعی یہ ایک آزاد دنیا ہے، مگرچند دن انسانوں کے درمیان گزارنے کے بعد اس کی حیرت بڑھنے لگی۔۔۔۔
اس نے دیکھا کہ ایک شخص ساری عمر صرف اس لیے کام کررہا ہے کہ لوگ اسے کامیاب کہیں، دوسرا اس لیے خاموش ہے کہ کہیں لوگ ناراض نہ ہو جائیں، تیسرا اپنے خواب دفن کرچکا ہے کیونکہ خاندان کیا کہے گا،چوتھا اپنی سچائی چھپا رہا ہے کیونکہ معاشرہ اسے قبول نہیں کرے گا۔۔۔۔ فرشتے نے سوچا، یہ کیسی آزادی ہے۔۔۔۔؟ جنت میں تو قوانین تھے مگرغلامی نہیں تھی، یہاں قوانین کم ہیں مگرزنجیریں زیادہ ہیں، وہ ایک پارک میں بیٹھا لوگوں کو دیکھ رہا تھا، ہرچہرہ مصروف تھا، ہرقدم تیزتھا، مگرہرآنکھ میں ایک انجانی تھکن تھی،ایسا لگتا تھا جیسے انسان دوڑ تو رہے ہیں مگراپنی منزل کی طرف نہیں، بلکہ دوسروں کی توقعات کی طرف۔۔۔۔ فرشتے نے آسمان کی طرف دیکھا اوردھیرے سے کہا،مجھے بتایا گیا تھا کہ زمین پرانسان آزاد ہیں۔۔۔۔ مگریہاں تو ہرشخص کسی نہ کسی نظرنہ آنے والی زنجیرمیں قید ہے۔۔۔
فرشتہ اپنی تلاش میں شہرکے مختلف حصوں میں گھومتا رہا،اسے یقین تھا کہ شاید اس نے چند لوگوں کو دیکھ کرجلدی فیصلہ کرلیا ہے،شاید کہیں نہ کہیں وہ آزادی موجود ہوجس کا چرچا آسمانوں تک پہنچا ہوا ہے، مگرجتنا وہ انسانوں کوقریب سے دیکھتا گیا، اتنا ہی الجھتا گیا۔۔۔۔ ایک دن وہ ایک بہت بڑے دفتر میں پہنچا۔ وہاں درجنوں لوگ کمپیوٹروں کے سامنے بیٹھے تھے،اچھے کپڑے، اچھی تنخواہیں، ٹھنڈے کمرے، ہرسہولت موجود تھی، لیکن چہروں پرخوشی نہیں تھی۔۔۔
فرشتے نے ایک شخص سے پوچھا۔۔۔!! تم یہ کام کیوں کرتے ہو۔۔۔؟ اس نے جواب دیا، گھرچلانے کے لیے، فرشتے نے پوچھا، اورگھرکیوں چلاتے ہو۔۔۔؟ وہ بولا، تاکہ معاشرے میں عزت رہے، فرشتے نے پوچھا۔۔۔۔ اورعزت کیوں چاہیے۔۔۔۔؟ اس شخص نے کچھ دیرخاموش رہ کرکہا، کیونکہ لوگ کیا کہیں گے۔۔۔؟ یہ جواب سن کرفرشتہ خاموش ہوگیا۔۔۔۔ چند روزبعد وہ ایک مشہور سیاست دان کے پاس گیا،ہزاروں لوگ اس کے نام کے نعرے لگا رہے تھے،اس کے پاس طاقت تھی، اختیار تھا، دولت تھی۔۔۔۔ فرشتے نے پوچھا۔ کیا تم آزاد ہو۔۔۔۔؟
سیاست دان ہنس پڑا۔۔۔ آزاد۔۔۔۔؟ میں ہروقت ووٹروں، حمایتیوں، مخالفوں اورطاقتورلوگوں کے درمیان پھنسا رہتا ہوں، ایک غلط جملہ میری پوری زندگی بدل سکتا ہے۔۔۔ فرشتہ آگے بڑھ گیا، پھروہ ایک سوشل میڈیا اسٹار کے پاس پہنچا،لاکھوں لوگ اسے پسند کرتے تھے، ہرتصویر پرتعریفوں کی بارش ہوتی تھی، فرشتے نے پوچھا، تم تو یقیناً آزاد ہوگے۔۔۔؟ وہ مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں اداسی تھی۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ میں روزوہی بننے کی کوشش کرتا ہوں جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں،اگر ایک دن اپنی اصل شخصیت دکھا دوں تو شاید سب چھوڑ جائیں۔۔۔
اب فرشتے کو ایک عجیب حقیقت سمجھ آنے لگی تھی، زمین پراکثر انسان لوہے کی زنجیروں میں قید نہیں تھے، بلکہ لوگوں کی رائے کے قیدی تھے، وہ کپڑے بھی دوسروں کے لیے پہنتے تھے، فیصلے بھی دوسروں کے لیے کرتے تھے، خواب بھی دوسروں کی مرضی سے چنتے تھے۔۔۔۔ اور بعض اوقات پوری زندگی بھی دوسروں کی خوشنودی میں گزاردیتے تھے۔۔۔ اس رات فرشتہ ایک بلند عمارت کی چھت پربیٹھا شہر کی روشنیاں دیکھتا رہا، نیچے لاکھوں انسان تھے، مگراسے یوں محسوس ہوا جیسے ہرشخص اپنے ساتھ ایک ان دیکھی زنجیر گھسیٹ رہا ہو، تب اس کے دل میں ایک سوال پیدا ہوا، اگرانسان دوسروں کی رائے کا غلام ہے، تو پھراس کا مالک کون ہے۔۔۔؟ وہ خود۔۔۔۔ یا وہ لوگ جن سے وہ ہروقت ڈرتا رہتا ہے۔۔۔؟۔۔۔ اور اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے فرشتے نے اگلی صبح شہرکے دوسرے حصے کا رخ کیا۔۔۔۔
اگلی صبح فرشتہ شہرکے اُس حصے میں پہنچا جہاں نہ شیشے کی عمارتیں تھیں، نہ قیمتی گاڑیاں، نہ چمکتی ہوئی دکانیں، تنگ گلیاں تھیں، کچی دیواریں تھیں اورزندگی کی سختیاں ہردروازے سے جھانک رہی تھیں۔۔۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر دولت مند لوگ غلام ہیں تو شاید یہاں اسے آزادی مل جائے، ایک گلی کے کونے پراس نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا، اس کے کپڑے سادہ تھے، گھر چھوٹا تھا، جیب تقریباً خالی تھی، مگرچہرے پرعجیب سا سکون تھا، فرشتے نے اس کے پاس بیٹھ کر پوچھا، کیا تم خوش ہو۔۔۔۔؟ بوڑھا مسکرایا،بولا، جتنا ایک انسان ہوسکتا ہے، فرشتے نے پوچھا، تمہارے پاس تو زیادہ کچھ نہیں ہے، پھر بھی تم مطمئن کیوں ہو۔۔۔؟
بوڑھے نے جواب دیا، کیونکہ میں نے اپنی خواہشات کو اپنی اوقات کے مطابق رکھا ہے، اپنی اوقات کو خواہشات کے مطابق نہیں، یہ جواب سن کر فرشتہ چونک گیا،پھراس نے کئی دن اس بوڑھے کے ساتھ گزارے۔ اس دوران اس نے دیکھا کہ بوڑھا کسی انسان سے نہیں ڈرتا تھا، مگر ایک چیز سے ضرور ڈرتا تھا؛ اپنے ضمیر سے، وہ جھوٹ نہیں بولتا تھا، کسی کا حق نہیں مارتا تھا، اور رات کو سکون سے سوتا تھا، فرشتے نے سوچا کہ شاید اسے آزادی کا راز مل گیا ہے۔۔۔۔
مگرچند دن بعد ایک اور حیرت اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔ اس نے دیکھا کہ اسی بستی میں رہنے والے بہت سے غریب لوگ بھی آزاد نہیں تھے، کوئی حسد کا غلام تھا، کوئی غصے کا، کوئی نفرت کا، کوئی لالچ کا۔۔۔ تب فرشتے کو پہلی بار احساس ہوا کہ غلامی کا تعلق دولت یا غربت سے نہیں، ایک امیر آدمی بھی غلام ہوسکتا ہے، اور ایک غریب بھی۔۔۔۔اصل زنجیریں ہاتھوں اور پاؤں میں نہیں ہوتیں، دل اور دماغ میں ہوتی ہیں، اس رات فرشتہ بہت دیر تک سوچتا رہا، جنت میں اس نے فرشتوں کو دیکھا تھا، ان کے پاس خواہشات نہیں تھیں، اس لیے ان کی آزمائش بھی نہیں تھی۔
لیکن انسان کو خواہش دی گئی تھی، اختیاردیا گیا تھا، اور یہی اس کا امتحان تھا، اچانک اسے احساس ہوا کہ زمین پر سب سے خطرناک غلامی کسی بادشاہ، کسی حکومت یا کسی طاقتور انسان کی غلامی نہیں، سب سے خطرناک غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے، کیونکہ جو شخص اپنی خواہشات کا قیدی بن جائے، وہ سچ جانتے ہوئے بھی جھوٹ بولتا ہے، انصاف جانتے ہوئے بھی ظلم کرتا ہے۔۔۔ اور حق پہچانتے ہوئے بھی باطل کا ساتھ دیتا ہے۔۔۔۔فرشتے نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا، اب میں سمجھنے لگا ہوں کہ انسان کو اشرف المخلوقات کیوں کہا گیا تھا،اس لیے نہیں کہ وہ سب سے طاقتور ہے، بلکہ اس لیے کہ اسے اپنی زنجیریں توڑنے کا اختیار دیا گیا تھا۔۔۔۔
لیکن۔۔۔۔کسی کو دولت کی دوڑ نے قید کر رکھا تھا، کسی کو شہرت کی بھوک نے، کسی کو اقتدار کی خواہش نے، اور کسی کو نفرت کی سیاست نے،تب اسے احساس ہوا کہ زمین پر آزادی کا سب سے بڑا دشمن جیل کی دیواریں نہیں، بلکہ وہ خیالات ہیں جو انسان سوچے بغیر قبول کرلیتا ہے، وہ انسان جو سوال کرنا چھوڑ دے، آہستہ آہستہ غلام بن جاتا ہے، وہ انسان جو اپنے ضمیر کی آواز سننا چھوڑ دے، آہستہ آہستہ غلام بن جاتا ہے۔۔۔۔ اور وہ معاشرہ جو سچ سے زیادہ نعرے پسند کرنے لگے، آہستہ آہستہ غلام بن جاتا ہے۔۔۔
فرشتہ کئی ماہ زمین پر رہا،اس نے بادشاہ بھی دیکھے، فقیر بھی،حکمران بھی دیکھے، محکوم بھی،امیر بھی دیکھے، غریب بھی۔۔۔ آخرکار جب اس کی واپسی کا وقت آیا توآسمان نےان سے سے پوچھا ۔۔۔۔ زمین کے انسان کیسے ہیں۔۔۔۔؟ فرشتہ کچھ دیر خاموش رہا، پھراس نے جواب دیا، میں نے وہاں عجیب مخلوق دیکھی۔ انہیں آزادی دی گئی تھی، مگر وہ اکثر غلامی منتخب کر لیتے ہیں۔ انہیں عقل دی گئی تھی، مگر وہ اکثر دوسروں کے ذہن سے سوچتے ہیں، انہیں ضمیر دیا گیا تھا، مگر وہ اکثر خواہشات کی آواز سن لیتے ہیں۔۔۔۔
پھر وہ مسکرایا اور بولا۔۔۔!! مگرمیں نے کچھ ایسے انسان بھی دیکھے ہیں جو واقعی آزاد ہیں،وہ سچ بولتے ہیں اگرچہ نقصان ہو، وہ انصاف کرتے ہیں اگرچہ تنہا رہ جائیں، وہ اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتے اگرچہ دنیا ان کے خلاف ہوجائے۔۔۔۔ اوریہی چند لوگ زمین کی اصل امید ہیں۔۔۔۔ واپسی سے پہلے فرشتے نے آخری بارزمین کی طرف دیکھا اور ایک جملہ کہا، انسان کی سب سے بڑی کامیابی آسمان تک پہنچنا نہیں، بلکہ اپنے اندرموجودغلام کو شکست دینا ہے۔



