انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبجرم-وسزاکالم

ریاستیں تب گرتی ہیں جب شہری سو جائیں

”بے حسی اور اندھی رواداری ایک مرتی ہوئی سوسائٹی کی آخری خوبیاں ہوتی ہیں۔“یہ جملہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک سماجی اصول کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ محض ایک قول نہیں، بلکہ ایک گہرا انتباہ ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس میں ہر معاشرہ اپنا حال دیکھ سکتا ہے، اگر وہ دیکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ معاشرے اچانک منہدم نہیں ہوتے۔ وہ اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں، اور یہ کھوکھلا پن کسی بیرونی حملے سے نہیں بلکہ داخلی کمزوری سے پیدا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے احساسِ ذمہ داری مدھم پڑتا ہے، پھر حساسیت ختم ہوتی ہے اور بالآخر اجتماعی شعور تحلیل ہونے لگتا ہے۔ہر زوال سے پہلے ایک ذہنی تبدیلی آتی ہے۔ لوگ ردِعمل دینا چھوڑ دیتے ہیں۔ غلط کو غلط کہنا ترک کر دیتے ہیں۔ سوال کرنا بے فائدہ سمجھ لیا جاتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے اجتماعی بے حسی جنم لیتی ہے۔یوں زوال خاموشی سے در آتا ہے، بے حسی دراصل تباہی کی پہلی علامت ہوتی ہے۔

کسی بھی ریاست کی بنیاد اس کے ادارے نہیں بلکہ اس کے شہری ہوتے ہیں۔ جب شہری یہ سمجھنے لگیں کہ معاملات کی ذمہ داری صرف حکمرانوں، عدالتوں یا کسی اور ادارے پر عائد ہوتی ہے، تو دراصل وہ اپنی شہری حیثیت سے دستبردار ہو رہے ہوتے ہیں۔جب شہری یہ کہنا شروع کر دیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں، تو سمجھ لیجیے کہ بہت کچھ ہاتھ سے نکل چکا ہے۔جب بدعنوانی معمول بن جائے، ناانصافی روزمرہ کا حصہ سمجھی جائے، اور سچ بولنے والے تنہا رہ جائیں، تو یہ کسی بھی معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

تاریخ صرف ظالموں کے ہاتھوں تباہ نہیں ہوتی، بلکہ اُن لوگوں کی خاموشی سے بھی جو آواز اٹھا سکتے تھے مگر نہیں اٹھاتے۔ہم اپنے اردگرد دیکھ سکتے ہیں کہ ٹیکس چوری کو ہوشیاری سمجھا جاتا ہے۔سرکاری وسائل کے غلط استعمال پر ہنسی آتی ہے، غصہ نہیں۔تعلیمی اداروں میں معیار کی گراوٹ کو”زمانے کا تقاضا“کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔جھوٹ اور پروپیگنڈا سوشل میڈیا پر معمول بن چکا ہے، مگر ہم اسے روکنے کی کوشش نہیں کرتے۔یہ سب چھوٹے واقعات نہیں۔ یہ اجتماعی مزاج کی تبدیلی کے اشارے ہیں۔ اس کے بعد رواداری کا ایک ایسا رخ سامنے آتا ہے جو بظاہر خوبصورت مگر درحقیقت تباہ کن ہوتا ہے۔رواداری ہمیشہ سے ایک مثبت قدر رہی ہے۔ یہ اختلاف کو جگہ دیتی ہے، تنوع کو قبول کرتی ہے اور مکالمے کو ممکن بناتی ہے۔ لیکن جب رواداری اصولوں سے دستبرداری میں بدل جائے تو وہ طاقت نہیں، کمزوری بن جاتی ہے۔
اندھی رواداری کی نمایاں شکلوں میں نااہل قیادت کو برداشت کرناکہ کوئی اور بھی تو ایسا ہی ہوگا، بددیانتی پر خاموش رہنا کہ ”سب کرتے ہیں“ اور اخلاقی گراوٹ کو”وسعتِ نظر“کا نام دینا،یہ دراصل اصولوں سے دستبرداری ہے۔مذہبی، لسانی یا سیاسی نفرت کو اس لیے برداشت کرنا کہ”امن خراب نہ ہو“۔اداروں کی ناکامی پر خاموش رہنا تاکہ ذاتی نقصان سے بچا جا سکے۔یہ برداشت نہیں، بلکہ مہذب طریقہ سے اجتماعی ہتھیار ڈال دینا ہے۔جب معیار گرنا معمول بن جائے، جب اخلاقی وضاحت کو انتہا پسندی کہا جائے اور جب لوگ سچ بولنے سے زیادہ ردعمل سے خوفزدہ ہوں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرہ پسپائی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
رومن سلطنت کا زوال صرف بیرونی حملوں سے نہیں ہوا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ اندرونی اخلاقی کمزوری، سیاسی بدعنوانی اور شہری بے حسی نے اس کی بنیادیں پہلے ہی کمزور کر دی تھیں۔اسی طرح بیسویں صدی کے کئی ممالک میں آمریت اس لیے مضبوط ہوئی کہ اکثریت نے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔ ظلم ہمیشہ اقلیت کرتی ہے، مگر اسے طاقت اکثریت کی خاموشی سے ملتی ہے۔
ارسطو نے اسی خطرے کی طرف اشارہ کیا تھاکہ کسی قوم کے لیے سب سے بڑا خطرہ اختلافِ رائے نہیں، بلکہ اجتماعی بے حسی ہے۔ اس کے نزدیک جمہوریت کی بقا صرف آئین سے نہیں بلکہ شہری شعور سے وابستہ ہے۔ جب شہری ذمہ داری چھوڑ دیتے ہیں تو نظام خود بخود کمزور ہو جاتا ہے۔بے حسی صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں رہتی۔یہ معاشرتی رویوں میں سرایت کر جاتی ہے۔حادثہ ہوتا ہے، لوگ ویڈیو توبناتے ہیں، مگر مددکرنے والے کم ہوتے ہیں۔جب امید ختم نہیں ہوتی بلکہ ذمہ داری ختم ہوتی ہے، تب معاشرہ اندر سے مرنا شروع ہو جاتا ہے۔
قومیں جنگوں سے کم اور بے حسی سے زیادہ مرتی ہیں۔جنگ بیرونی خطرہ ہے، بے حسی اندرونی زہر۔اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے ادارے کتنے مضبوط ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے شہری کتنے بیدار ہیں۔کیا ہم غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟کیا ہم اصولوں کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں؟کیا ہم سہولت کے بجائے سچ کا انتخاب کر سکتے ہیں؟اگر نہیں، تو مسئلہ نظام نہیں، ہم ہیں۔زوال کا عمل خاموش ہوتا ہے، مگر اس کی بازگشت دیر تک سنائی دیتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی زندہ معاشرہ ہیں؟یا ہم مہذب انداز میں اپنے ہی زوال کے خاموش تماشائی بن چکے ہیں؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button