دریائے راوی نے ایراوتی کو بلالیا،قبضہ مافیا سے زمین واگزار
’’جے راوی وچ پانی کوئی نئیں اپنی کہانی کوئی نئیں‘‘لاہورمیں تنومند ایرا وتی کمزور گندے نالے میں تبدیل، سبزہ ،درخت،پرندے ،ملاح ،شاعرسب غائب،صدقے کے گوشت والوں کےڈیرے ، نہ کوئی عدالتی سمن نہ تاریخ، صرف آپریشن کلین اپ
لندن:(رپورٹ/حسنین جمیل) دریائے راوی ضلع کانگڑامیں درہ روتنگ سے نکلتا ہے اور ساڑھے چار سو میل لمبا (720 کلومیٹر)ہے۔ پاکستانی پنجاب کا درالحکومت لاہور اسی دریا کے کنارے واقع ہے۔ دریائے راوی اور دریائے چناب کا درمیانہ علاقہ دوآبہ رچنا کہلاتا ہے۔ دریائے راوی پہلے ایراوتی کہلاتا تھا۔ پنجاب کے پانچ دریاؤں میں سے ایک اہم دریا راوی ہے۔

زمانہ قبل ازمسیح ایرا وتی اپنے پورے جوبن پر تھا دریا کی لہریں کسی الہڑ دشیزہ کی منہ زور جوانی کی طرح اچھل اچھل کر اپنے کناروں سے باہر نکلنے کو بے تاب تھی دریا کے کنارے سبزہ ہی سبزہ تھا آبادی کناروں سے دور تھی لوگ بستی سے نکل کر ایرا وتی کے کنارے وقت بتانے آیا کرتے تھے۔
ایسے ہی ایک پریم کرنیوالا جوڑا سویرے سویرے ایرا وتی کنارے آجایا کرتے تھے ، کپیل اور وسنوترا دونوں ایرا وتی کنارے اسکی منہ زور لہروں کو گواہ بنا کر اپنی محبت کی قسمیں کھایا کرتے تھے ، دونوں کہتے تھے یہ ایراوتی ہماری محبت کا گواہ ان دونوں پریمیوں کو ایک کوی دور بیٹھ کر دیکھا کرتا وہ مہا کوی سویرے ایرا وتی کو دیکھ کر شاعری کرتا تھا ۔

وہ اپنی ہر کویتا میں ہی کہتا تھا یہ ایرا وتی کا چوڑا پاٹ یہ منہ زور لہریں یہ دریا کا کنارا یہ چاروں طرف پھیلے درخت یہ بھانت بھانت کے پرندے اور خاص طور پر کوئل کی کوک یہ دونوں پریمی مجھے شاعری پر مجبور کرتے ہیں ، اے اشیور میرے ایرا وتی اور اس کے ارگرد بسی بستی لاہور کو آباد رکھنا اوم شانتی اوم ،،،،، منظر بدلتا ہے ،،،،، آج کا لاہور۔

وہ تنومند ایرا وتی ایک کمزور گندے نالے کی صورت راوی بن چکا ہو ہے سبزہ اوردرخت ناپید ہو گئے ہیں اردگردآبادی ہی آبادی بےہنگم ٹریفک کا شورہے، شہر لاہور پھیلتا گیا دریا ختم ہوا وہ کشتی چلاتے ملاح جانے کہاں چلے گئے پرندے ناپید ہوئے صدقے کے گوشت پر گدھ منڈلانے لگے ، شاعروں کے قلم سے محبت کے گیت نکلنے بند ہو گئے تو آہ نکلنے لگی۔
جے راوی وچ پانی کوئی نئیں تے اپنی کہانی کوئی نہیں ، واقعی شہروں کی کہانیاں اسکے دریا کے پانیوں سے نکلتی ہیں دریا کنارے تہذیب جنم لیتی ہے ثقافت پنپتی ہے کہانی لکھی جاتی ہے مگر یہ آج کے لاہور نے صدیوں پرانی اپنی تاریخ کو فرمواش کر دیا یوں لگتا ہے جیسے دریا اپنی لاہور سے روٹھ گیا تھا اور خاموش ہو گیا مگر اسکی خاموشی معنی خیز تھی وہ ناتواں راوی اب لاہور سے انتقام لینے کا سوچ رہا تھا ، اور اچانک ایرا وتی نے راوی کے کان میں شرگوشی کی میں آ رہا ہوں۔
میرا دوست یوں ایرا وتی راوی سے مل گیا ، آو مل جائیں ہم ثمن اور سوگندھ کی طرح ایک ہو جاہیں ہم جان اور بدن کی طرح ،،، تاریخ نے دیکھا بدترین سیلاب آیا راوی نے اپنی زمین قبضہ مافیا سے واگزار کر لی ، نہ کوئی عدالتی سمن نہ تاریخ صرف آپریشن کلین اپ۔



