بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

ویلنٹائن ڈے: ہندووانہ رسم یا تہذیبی بحران؟

فیاض احمدرانا،معروف ماہر تعلیم،لاہور

فروری کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہمارے بازار، شاپنگ مال اور سوشل میڈیا ایک خاص رنگ میں ڈھلنے لگتے ہیں۔ دل کے نما غبارے، سرخ گلاب، محبت کے پیام لئے کارڈز اور مختلف تشہیری مہمات، ہمیں یہ بتانے لگتی ہیں کہ ویلنٹائن ڈے قریب آ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دن ہماری تہذیب، ہمارے دین اور ہمارے اجتماعی مزاج کا حصہ ہے، یا یہ ایک بیرونی تہذیب کی یلغار ہے جو محبت کے نام پر ہمارے گھروں اور دلوں میں داخل کی جا رہی ہے؟تاریخی اعتبار سے ویلنٹائن ڈے کی بنیاد مغربی اور رومی روایات سے جڑی ہوئی ہے، جہاں اسے ابتدا میں ایک پادری ’’سینٹ ویلنٹائن‘‘ کی نسبت سے منایا گیا، مغربی شعرا اور مصنفین نے اسے محبت اور رومان کا استعارہ بنا دیا اور رفتہ رفتہ یہ دن تجارتی، جذباتی اور ثقافتی صنعت کی شکل اختیار کر گیا۔پاکستان جیسے اسلامی نظریاتی ملک میں ویلنٹائن ڈے کا فروغ محض ایک ثقافتی رجحان نہیں بلکہ تہذیبی خودسپردگی کی علامت بن چکا ہے۔ بڑے شہروں میں میڈیا، نجی چینلز، اشتہاری کمپنیاں اور آن لائن پلیٹ فارمز اسے شدت کے ساتھ مناتے اور منواتے ہیں۔ نوجوان نسل کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ محبت کا واحد یا بڑا دن یہی ہے، اور اس کا اظہار بھی صرف رومانوی تحائف اور مخصوص انداز میں کیا جانا چاہئے۔ اس کے نتیجے میں معاشرتی حیا، خاندانی نظام اور مذہبی پابندیاں ’’پسماندہ‘‘ اور’’قدامت پسند‘‘ کہلانے لگتی ہیں، جبکہ مغربی اندازِ زندگی کو ’’جدید‘‘ اور ’’بہادرانہ‘‘ رویہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

ریاستی سطح پر بھی اس حوالے سے ردِ عمل سامنے آ چکا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2017 میں سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات پر ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی عائد کی، اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو اس کی تشہیر سے روکا۔ عدالت کے روبرو دائر پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ دن مسلمانوں کی ثقافت کا حصہ نہیں، بلکہ عریانی، بے حیائی اور مغربی طرزِ معاشرت کے فروغ کا ذریعہ ہے، اس لئے اسے سرکاری سرپرستی یا عوامی سطح پر فروغ نہیں دیا جا سکتا۔ اس فیصلے نے کم از کم یہ بحث ضرور زندہ کی کہ ہماری ریاست اور سماج اپنی تہذیبی سمت کے بارے میں کتنا حساس ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے محبت کو کبھی ممنوع قرار نہیں دیا، بلکہ محبت ہی تو ایمان کی بنیادوں میں سے ایک ہے۔ والدین سے محبت، اولاد سے محبت، استاد و شاگرد کا رشتہ، میاں بیوی کے درمیان محبت، اور سب سے بڑھ کر خالق سے محبت، یہ سب ہماری دینی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اسلام محبت کو حیا، ذمہ داری اور بندگی کے دائرے میں رکھتا ہے، جبکہ ویلنٹائن ڈے کے زیر اثر محبت کو اکثر حدود سے آزاد، بے باک اور وقتی جذبات کے کھیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی وہ زاویہ ہے جہاں سے یہ تہوار ہمارے لئے فکری و اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول ہو جاتا ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ جن معاشروں میں خاندان کا ادارہ کمزور پڑ چکا، وہاں کے تہوار ہم نے آنکھیں بند کر کے مستعار لے لئے، جبکہ اپنی روایتی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اگر نوجوان نسل کو حقیقی معنوں میں محبت کی طرف لانا ہے تو انہیں بتانا ہوگا کہ ماں باپ کی خدمت، اساتذہ کا احترام، وطن سے وفا اور دین سے لگاؤ ہی محبت کے اعلیٰ ترین مظاہر ہیں۔ صوفیائے کرام نے عشق کو روحانیت اور خدمتِ خلق کے ساتھ جوڑا، نہ کہ مارکیٹنگ کمپنیوں کے تیار کردہ تحائف اور چند گھنٹوں کے جذباتی اظہار کے ساتھ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس مغربی تہوار کے اندھے بہاؤ میں بہنے کے بجائے اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کریں اور مثبت متبادل پیش کریں۔ بعض حلقوں نے ”یومِ حیا”، ”یومِ عفاف” یا ”یومِ وفا” جیسے تصورات پیش کئے ہیں، جن کا مقصد نوجوانوں کو یاد دلانا ہے کہ محبت، غیرتِ ایمانی اور حیا ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔ اگر ہمارے تعلیمی ادارے، مساجد، میڈیا اور دانشور مشترکہ حکمتِ عملی کے ساتھ اس پیغام کو عام کریں تو ویلنٹائن ڈے جیسی رسوم خود بخود اپنی کشش کھو دیں گی۔

آخرکار فیصلہ ہمیں خود کرنا ہوگا۔ کیا ہم اپنی نئی نسل کو ایسے راستے پر ڈالنا چاہتے ہیں جہاں محبت کا مفہوم اشتہارات، ڈسکاؤنٹ آفرز اور وقتی رومان سے جڑا ہو، یا ہم انہیں اس محبت سے روشناس کرانا چاہتے ہیں جو وفا، نکاح، خاندان اور خدا ترسی کے رشتے سے بندھی ہوتی ہے؟ ویلنٹائن ڈے کا رد یا بائیکاٹ محض ایک دن کی بحث نہیں، یہ اپنی تہذیبی خودی کو پہچاننے، اس کی حفاظت کرنے اور آنے والی نسلوں کو اُن کی اصل شناخت یاد دلانے کا نام ہے۔ اگر ہم نے یہ ذمہ داری نہ نبھائی تو کل شاید ہمارے بچوں کو یہ بھی یاد نہ رہے کہ ان کی اپنی تہذیب میں محبت کا مفہوم کیا تھا، اور وہ کن مقدس رشتوں میں پہلی سانس سے آخری سانس تک جڑے ہوئے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button