پاکستان کے کسی بھی شہر، قصبے یا شاہراہ کا رخ کیجیے۔ ٹریفک سگنل پر سرخ بتی جلتے ہی شیشوں پر دستکیں شروع ہو جاتی ہیں۔ بازار میں قدم رکھیں تو کوئی آستین پکڑ لیتا ہے، کوئی معذوری دکھاتا ہے، کوئی بچوں کا واسطہ دیتا ہے۔ مساجد، مزارات، بس اڈے، ریلوے اسٹیشن — ہر جگہ پھیلے ہوئے ہاتھ ہیں۔
ہم جیب سے چند سکے یا نوٹ نکالتے ہیں، دل کو تسلی دیتے ہیں کہ ثواب مل گیا، ذمہ داری پوری ہو گئی۔
مگر سوال وہیں کھڑا رہتا ہے:
کیا واقعی ہم غربت کم کر رہے ہیں یا ایک منظم کاروبار کو مضبوط بنا رہے ہیں؟
گداگری اب محض انفرادی مجبوری نہیں رہی۔ یہ کئی شہروں میں باقاعدہ نیٹ ورک، منافع بخش سرگرمی اور غیر دستاویزی معیشت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس میں تقسیم کار ہے، مخصوص علاقے ہیں، روزانہ کی وصولی ہے، اور بعض جگہوں پر باقاعدہ سرپرست بھی۔
یہ مسئلہ صرف غربت کا نہیں، ریاستی عملداری، سماجی انصاف اور مذہبی فہم کا امتحان ہے۔
گداگری کی تعریف — لغت، قانون اور شریعت کی روشنی میں۔عربی میں سوال کو‘‘تسول’’کہا جاتا ہے، یعنی لوگوں سے ضرورت پوری کرنے کے لیے طلب کرنا۔
اردو میں گداگری یا بھیک مانگنا اس عمل کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص بغیر محنت یا خدمت کے دوسروں سے مالی یا مادی امداد طلب کرے۔
پاکستان کے مختلف قوانین میں پیشہ ورانہ بھیک مانگنے کو جرم قرار دیا گیا ہے، خاص طور پر جب اس میں بچوں کا استعمال، گروہی نظام یا دھوکہ شامل ہو۔لیکن اسلام اس معاملے کو نہایت متوازن انداز سے دیکھتا ہے۔قرآن کیا کہتا ہے؟
قرآن مجید سائل کو جھڑکنے سے منع کرتا ہے:
وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْہَرْ
(اور سائل کو جھڑکو نہیں) — الضحیٰ: 10
یہ آیت معاشرے کو اخلاقی تربیت دیتی ہے کہ محتاج کی تذلیل نہ ہو۔
لیکن قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ اصل مستحق کون ہیں:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَائِ وَالْمَسَاکِینِ…(صدقے فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں…) — التوبہ: 60
یعنی ایک باقاعدہ نظامِ تقسیم موجود ہے، اندھا بانٹنا نہیں۔
حدیث کیا کہتی ہے؟
نبی کریم ﷺ نے بلا ضرورت سوال کرنے سے سختی سے روکا:>‘‘جو شخص لوگوں سے مال مانگتا رہتا ہے حالانکہ اسے ضرورت نہیں، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت نہ ہوگا۔’’(بخاری، مسلم)
ایک اور موقع پر فرمایا:
‘‘اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔’’
اور محنت کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
‘‘اگر کوئی شخص لکڑیاں کاٹ کر اپنی پیٹھ پر لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے۔’’
دین کا مزاج بالکل واضح ہے:
مجبور کی مدد — ہاں
پیشہ ور سوال — نہیں
اصل الجھن — مستحق اور پیشہ ور میں فرق
یہی وہ مقام ہے جہاں جدید معاشرہ سب سے زیادہ پریشان ہے۔
کون واقعی فاقہ زدہ ہے؟
کون کسی مافیا کا حصہ ہے؟
کون وقتی ضرورت مند ہے؟
کون اسے روزگار بنا چکا ہے؟جب اصل محتاج اور پیشہ ور ایک ہی چہرہ اختیار کر لیں تو شہری کنفیوژن میں مبتلا ہو جاتا ہے، اور یہی کنفیوژن اس کاروبار کی طاقت ہے۔
اعدادوشمار کیا بتاتے ہیں؟
مختلف فلاحی اداروں، پولیس رپورٹس اور سماجی تحقیق کے مطابق:بڑے شہروں میں بھیک مانگنے والوں کی بڑی تعداد منظم گروہوں سے وابستہ پائی گئی۔
بعض تحقیقات کے مطابق ایک بڑے شہری مرکز میں ایک پیشہ ور گداگر روزانہ ہزاروں روپے تک کما لیتا ہے۔
بچوں کو استعمال کرنے کے واقعات بار بار رپورٹ ہوئے ہیں۔
کئی گرفتار افراد نے اعتراف کیا کہ انہیں روزانہ مخصوص ہدف دیا جاتا ہے۔
اگر یہ صورت حال درست ہے تو ہم ہمدردی کے نام پر استحصال کی معیشت کو سرمایہ فراہم کر رہے ہیں۔
شہری کی نفسیات — فوری سکون
ایک عام آدمی کے پاس تحقیق کا وقت نہیں۔
وہ روتا ہوا بچہ دیکھتا ہے اور دل ہار دیتا ہے۔
وہ یہ نہیں سوچ پاتا کہ:
رقم کس کے پاس جائے گی؟
کیا بچہ اسکول جا سکتا تھا؟
کیا یہ کسی گروہ کے قبضے میں ہے؟ہم چند لمحوں کے سکون کے لیے مسئلے کو لمبا کر دیتے ہیں۔
بڑھتی ہوئی گداگری — نظام کی کمزوری کی علامت۔
جب مانگنے والوں کی تعداد بڑھے تو اس کا مطلب ہے:۔
بیروزگاری۔مہنگائی۔ہنر کی کمی۔دیہی علاقوں سے ہجرت۔
سماجی تحفظ کا فقدان۔
لیکن اس کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی ہے:آسان آمدنی۔جب بغیر محنت پیسہ ملتا رہے تو کچھ لوگ کام کیوں کریں گے؟
ریاست کی ذمہ داری
ریاست صرف پکڑ دھکڑ سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔
ضرورت ہے:
ہنر کی فراہمی۔چھوٹے قرضے۔علاج۔رہائش۔روزگار اسکیمیں۔بحالی مراکز۔اگر یہ متبادل کمزور ہوں گے تو سڑک مضبوط ہو گی۔
بچوں کا استعمال — سب سے خطرناک پہلو
اگر کسی نیٹ ورک کی طرف سے بچوں کو بھیک کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو یہ صرف گداگری نہیں، چائلڈ ایکسپلائٹیشن ہے۔اس کے نتائج:
تعلیم ختم۔تشدد کا خطرہ۔جرائم کی دنیا میں دھکیلنا۔یہ پورے مستقبل کو تباہ کرتا ہے۔زکوٰۃ اور خیرات — بہت بڑی طاقت۔
پاکستان میں رمضان کے دوران اربوں روپے تقسیم ہوتے ہیں۔
اگر یہی رقم منظم نظام کے ذریعے مستحقین تک پہنچے تو سڑکوں پر موجود تعداد نمایاں کم ہو سکتی ہے۔مسئلہ پیسے کی کمی نہیں،نظام کی کمی ہے۔
دنیا نے کیا کیا؟کئی ممالک نے:
سوشل سکیورٹی۔شیلٹر۔فوڈ پروگرام۔اسکل ٹریننگ۔فراہم کر کے پیشہ ور گداگری کا دائرہ محدود کیا۔سبق واضح ہے:
صرف سزا نہیں، راستہ بھی۔میڈیا، مسجد اور معاشرہ یہ کام صرف حکومت کا نہیں۔
علما۔صحافی۔اساتذہ۔سماجی تنظیمیں۔سب کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ رحم ضرور کریں مگر دانشمندی سے۔
حل کی سمت — عملی تجاویز
1. مستحقین کا قومی ڈیٹا
2. پیشہ ور گروہوں کے خلاف آپریشن
3. بحالی + ہنر
4. بچوں کے استعمال پر زیرو ٹالرنس
5. زکوٰۃ کا شفاف نظام
6. عوامی آگاہی مہم
فیصلہ آج کرنا ہوگا۔کیا ہم چاہتے ہیں کہ اگلی نسل ہنر سیکھے یا ہاتھ پھیلانا؟یہ سوال ہر شہری، ہر عالم، ہر افسر کے سامنے ہے۔
نتیجہ۔۔گداگری ایک فرد کا نہیں، پورے معاشرے کا آئینہ ہے۔جہاں ریاست کمزور ہو، وہاں سڑک طاقتور ہو جاتی ہے۔اگر ہم نے رحم کو عقل سے نہ جوڑا تو استحصال بڑھتا رہے گا۔وقت آگیا ہے کہ:پالیسی بنے۔ادارے حرکت کریں۔عوام ذمہ داری لیں۔تب ہی اصل مستحق کوعزت ملے گی اورپیشہ ور کے لئے جگہ کم ہوگی،بشکریہ سی سی پی۔



