انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

امن کے نام پر جنگ، جنگ کے بعد امن کی فریاد

عاصم رضا خیالوی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست، عسکری حکمتِ عملی اور سفارتی کشمکش کا مرکز بن چکا ہے۔ ایران، اسرائیل، لبنان اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں، شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے ہیں، عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور توانائی کی منڈیاں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ مگر ان تمام تباہ کاریوں کے بعد آج وہی دنیا امن، مذاکرات اور جنگ بندی کی بات کر رہی ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: اگر آخرکار منزل امن تھی تو راستہ جنگ کیوں تھا؟

تاریخ گواہ ہے کہ طاقت اکثر اپنے ساتھ غرور بھی لے کر آتی ہے۔ یہی غرور بعض اوقات طاقتور قوموں اور ان کے پالیسی سازوں کو یہ یقین دلا دیتا ہے کہ سامنے کھڑا فریق کمزور ہے، جلد ٹوٹ جائے گا، دباؤ برداشت نہیں کر سکے گا اور چند حملوں کے بعد ہتھیار ڈال دے گا۔ لیکن حقیقت ہمیشہ جنگی منصوبہ سازوں کے نقشوں کے مطابق نہیں چلتی۔ جنگل کا ایک اصول ہے۔ بعض اوقات آپ دور سے کسی جانور کو کمزور سمجھتے ہیں، لیکن جب آپ اس کے قریب پہنچتے ہیں تو وہی جانور شیر کی طرح آپ کا استقبال کرتا ہے۔ پھر صورتحال بدل جاتی ہے۔ آپ کو زخم بھی کھانے پڑتے ہیں، دوڑ بھی لگانی پڑتی ہے، اپنی حکمت عملی بھی بدلنی پڑتی ہے اور کبھی کبھی وہ راستہ بھی تبدیل کرنا پڑتا ہے جس پر آپ بڑے اعتماد کے ساتھ روانہ ہوئے تھے۔ اگر یہی حقیقت پہلے سمجھ لی جاتی تو نہ اتنے زخم لگتے، نہ اتنی رسوائی ہوتی اور نہ ہی عزت بچانے کے لیے اچانک راستہ بدلنا پڑتا۔

آج مشرقِ وسطیٰ کا منظرنامہ کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔ چند روز قبل بین الاقوامی میڈیا میں یہ خبر نمایاں ہوئی کہ امریکہ کی کوششوں کے نتیجے میں اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ اسی دوران ایران اور امریکہ کے درمیان بھی مذاکرات کی خبریں سامنے آئیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود لبنان میں حملے جاری رہے، حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات آتی رہیں اور پورا خطہ مسلسل کشیدگی کی گرفت میں رہا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ میدانِ جنگ میں پیدا ہونے والے حقائق اکثر سیاسی بیانات سے زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان عالمی ذرائع ابلاغ کی سرخی بن گیا۔ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ لبنان میں جاری لڑائی کے حوالے سے گفتگو کے دوران انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو "پاگل” کہا تھا۔ بظاہر یہ ایک سیاسی بیان تھا، لیکن اس کے اثرات اور مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ یہ بیان کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔

اگر نیتن یاہو واقعی ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا تھے جو خطے کو مزید تباہی اور عدم استحکام کی طرف لے جا رہی تھیں تو یہ احساس ہزاروں لاشیں گرنے کے بعد کیوں پیدا ہوا؟ اگر خطرات اتنے واضح تھے تو کیا دنیا کے طاقتور ترین انٹیلی جنس ادارے ان کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے؟ کیا سفارتی ماہرین، عسکری تجزیہ کار اور پالیسی ساز اس صورتحال کو پہلے نہیں سمجھ سکے؟ یا پھر طاقت، سیاسی مقاصد اور جنگی اعتماد نے تمام خدشات کو پسِ پشت ڈال دیا تھا؟

یہ سوال عالمی میڈیا کے کردار پر بھی اٹھتا ہے۔ کیا عوام تک مکمل تصویر پہنچائی جا رہی تھی یا پھر صرف وہ معلومات نمایاں کی جا رہی تھیں جو جنگی بیانیے کو مضبوط بناتی تھیں؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ کے آغاز میں جو دلائل بڑے اعتماد سے پیش کیے جاتے ہیں، اکثر جنگ کے اختتام پر انہی دلائل پر سب سے زیادہ سوالات اٹھتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں ایران کسی بھی بڑے معاہدے میں لبنان کو شامل دیکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی کی سپلائی کو معمول پر لانے کا خواہاں ہے۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دے رہا ہے۔ لبنان تباہی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ حزب اللہ اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ دوسری جانب عالمی طاقتیں مذاکرات کی میزوں پر وہ حل تلاش کر رہی ہیں جو شاید مہینوں پہلے بھی سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیے جا سکتے تھے۔

یہ تمام واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ شروع کرنا آسان لیکن اس کے نتائج کو قابو میں رکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ بعض اوقات طاقتور ممالک بھی ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں جن کے اثرات ان کی ابتدائی توقعات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ثابت ہوتے ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب فتح کے نعرے خاموش ہونے لگتے ہیں اور ان کی جگہ جنگ بندی، مذاکرات اور سیاسی سمجھوتوں کی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔

آج دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ ٹالا جا سکتا تھا؟ اگر آخرکار مذاکرات ہی کرنے تھے تو پہلے کیوں نہیں کیے گئے؟ اگر امن ہی مطلوب تھا تو جنگ کیوں چنی گئی؟ اگر حقیقت یہی تھی کہ خطہ ایک بڑے بحران میں پھنس سکتا ہے تو پھر اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے ہزاروں جانوں کی قربانی کیوں درکار تھی؟

تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا۔ بعض اوقات تاریخ ان سوالوں کے جواب تلاش کرتی ہے جو جنگ ختم ہونے کے بعد بھی باقی رہ جاتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ انہی سوالوں کے درمیان کھڑا نظر آتا ہے۔ امن کی سب سے بڑی قیمت وہ لوگ ادا کرتے ہیں جنہوں نے کبھی جنگ کا فیصلہ نہیں کیا ہوتا، اور جنگ کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ آخرکار اسے ختم کرنے کے لیے دوبارہ امن ہی کی طرف لوٹنا پڑتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button