انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

جب توپیں خاموش ہوئیں اور میزیں بولنے لگیں

عاصم رضا خیالوی

ایک وسیع سلطنت تھی۔ اس کے بازار آباد تھے، اس کے خزانے بھرے ہوئے تھے اور اس کی فوجوں کی دھاک دور دور تک بیٹھی ہوئی تھی۔ لوگ سمجھتے تھے کہ دنیا کی معیشت اس کی مرضی سے سانس لیتی ہے اور عالمی سیاست اس کے اشاروں پر چلتی ہے۔
مگر اس سلطنت کی طاقت کے باوجود ایک حقیقت ایسی تھی جسے وہ نظر انداز نہیں کر سکتی تھی۔
اس کے تجارتی قافلے، اس کی دولت اور اس کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ایک تنگ آبی راستے سے جڑا ہوا تھا۔ اس راستے پر ایک ایسی ریاست کی نگاہ تھی جو رقبے میں چھوٹی، وسائل میں محدود مگر ارادوں میں مضبوط تھی۔ برسوں تک دونوں ایک دوسرے کو آزماتے رہے۔ کبھی پابندیوں سے، کبھی دھمکیوں سے، کبھی جنگی بیانات سے اور کبھی ہتھیاروں کی زبان سے۔
پھر ایک وقت آیا جب گولہ بارود کی گھن گرج کے باوجود دنیا کی نظریں جنگ کے میدان سے ہٹ کر مذاکرات کی میز پر جا ٹکیں۔
یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ہمارے عہد کی سیاسی حقیقت کا عکس ہے۔
آج امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشمکش بھی کچھ اسی منظر کی یاد دلاتی ہے۔ مہینوں پر محیط جنگ، اقتصادی دباؤ، بحری ناکہ بندیاں، توانائی کی عالمی منڈیاں، لبنان کا محاذ، اسرائیل کی کارروائیاں اور آبنائے ہرمز کی غیر معمولی اہمیت آخرکار دونوں فریقوں کو ایک ایسے مقام پر لے آئی ہیں جہاں جنگ سے زیادہ گفتگو کی اہمیت محسوس ہونے لگی ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران ایک ایسے فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جس کے تحت جنگ بندی میں مزید ساٹھ دن کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ابھی حتمی اتفاق نہیں ہوا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ دونوں فریق مسلسل رابطے اور مذاکرات میں مصروف ہیں۔
واشنگٹن کا اصرار ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھلی رہے، ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے اور افزودہ یورینیم کے معاملے پر قابلِ قبول انتظامات کیے جائیں۔ دوسری طرف تہران کا مؤقف ہے کہ اس پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں، منجمد اثاثے بحال کیے جائیں، ایرانی تیل کی برآمدات دوبارہ شروع ہوں اور خطے میں اس پر ڈالا جانے والا دباؤ کم کیا جائے۔
یہ تنازع صرف دو ممالک کے درمیان اختلاف نہیں۔ اس کے مرکز میں آبنائے ہرمز ہے، وہ آبی گزرگاہ جس سے دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اسی لیے جب اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اثر صرف خلیج تک محدود نہیں رہتا بلکہ یورپ، ایشیا، امریکہ اور عالمی منڈیوں تک محسوس کیا جاتا ہے۔
دنیا کی بڑی طاقتوں کے لیے آبنائے ہرمز محض سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے گرد ہونے والی ہر پیش رفت تیل کی قیمتوں، اسٹاک مارکیٹوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔
اس بحران کے دوران لبنان بھی ایک اہم محاذ بن کر سامنے آیا۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں نے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا، بستیاں اجڑیں اور پورا خطہ مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوا۔ جنگ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکنے والی آگ اکثر سرحدوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے شعلے عالمی سیاست اور معیشت تک پہنچ جاتے ہیں۔
لیکن ان تمام واقعات کے درمیان سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر طاقتور ریاستیں بالآخر مذاکرات کی طرف لوٹ آتی ہیں تو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟
کیا یہ کسی ایک فریق کی شکست ہوتی ہے؟
یا پھر یہ اس حقیقت کا اعتراف ہوتا ہے کہ جدید دنیا میں بعض مسائل صرف فوجی طاقت سے حل نہیں کیے جا سکتے؟
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگیں اکثر طاقت کا اظہار ہوتی ہیں، لیکن امن معاہدے حقیقت کا اعتراف ہوتے ہیں۔ میدانِ جنگ میں چلنے والے ہزاروں گولے بھی بعض اوقات وہ نتیجہ پیدا نہیں کر پاتے جو مذاکرات کی میز پر ہونے والی چند ملاقاتیں پیدا کر دیتی ہیں۔
آج امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشمکش بھی اسی حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے۔ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے، دوسری طرف ایک ایسا ملک جو شدید پابندیوں اور دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں کے درمیان اختلافات گہرے ہیں، مگر اس کے باوجود دونوں مذاکرات کے دروازے بند کرنے پر آمادہ نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں طاقت کی روایتی تعریف کمزور پڑنے لگتی ہے۔ طاقت صرف یہ نہیں کہ کس کے پاس زیادہ میزائل، طیارے یا جنگی بحری بیڑے ہیں۔ طاقت یہ بھی ہے کہ کون اپنی معیشت کو سنبھال سکتا ہے، کون اپنے عوام کا اعتماد برقرار رکھ سکتا ہے، کون عالمی دباؤ کا مقابلہ کر سکتا ہے اور کون مذاکرات کی میز پر اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے۔
اس پوری صورتحال میں مسلم دنیا کے لیے بھی کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔ معاشی خودمختاری، سائنسی ترقی، تکنیکی مہارت اور سیاسی استحکام کے بغیر حقیقی آزادی حاصل کرنا مشکل ہے۔ صرف جذباتی نعروں سے قومیں مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ مضبوط ادارے، تعلیم، تحقیق اور اقتصادی طاقت انہیں باوقار مقام دلاتی ہے۔
آج جب دنیا ایک نئے عالمی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے تو شاید سب سے اہم سبق یہی ہے کہ جنگوں کے شور میں بھی مذاکرات کی اہمیت ختم نہیں ہوتی۔ طاقت کا اصل امتحان صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب مخالف فریق ایک ہی میز پر بیٹھ کر اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ممکن ہے آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کسی معاہدے تک پہنچ جائیں، ممکن ہے اختلافات دوبارہ شدت اختیار کر جائیں، لیکن ایک حقیقت اپنی جگہ قائم رہے گی کہ دنیا نے ایک بار پھر دیکھا کہ بعض اوقات ایک تنگ آبی گزرگاہ بڑی بڑی سلطنتوں کے فیصلوں کا رخ بدل دیتی ہے، اور بعض اوقات طاقت کی اصل تعریف توپوں کی گھن گرج سے نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر لکھی جاتی ہے۔
کیونکہ تاریخ آخرکار جنگ شروع کرنے والوں سے زیادہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو جنگ کے بعد امن کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button