امریکہ بھر میں ٹرمپ کیخلاف احتجاج، فوج کی تعیناتی پر عوام برہم
نیویارک سے لاس اینجلس تک ریلیاں، ہزاروں افراد کی شرکت، فوج کی تعیناتی شہری علاقوں میں طاقت کے غیر ضروری استعمال سے تعبیر
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکہ کے مختلف بڑے شہروں میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے شہری علاقوں میں فوج کی تعیناتی کو طاقت کے غیر ضروری استعمال سے تعبیر کیا اور کہا کہ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی آزادی اظہار اور شہری حقوق کے منافی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیویارک سے لے کر لاس اینجلس تک امریکہ کے بڑے شہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نکالی گئی ریلیوں اور مارچز میں دس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔
یہ مظاہرے جنوری میں ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کی صدارت کے خلاف سب سے بڑے عوامی ردعمل کے طور پر سامنے آئے۔ مظاہروں کا آغاز اس دن ہوا جب ہزاروں فوجی اہلکار، فوجی گاڑیاں اور طیارے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی فوج کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر پریڈ اور فضائی مظاہرے میں شریک تھے۔ واضح رہے کہ نیشنل گارڈ کے دستے اور امریکی میرینز لاس اینجلس میں تعینات کئے گئے ہیں، ٹرمپ نے انہیں اپنی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف ممکنہ مظاہروں کے دوران، ڈیموکریٹک اکثریتی شہر کو محفوظ رکھنے کے لیے تعینات کیا ہے۔
ٹرمپ مخالف گروہوں نے ملک بھر میں تقریبا 2ہزار مظاہروں کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ یوم پریڈ کے ساتھ ساتھ احتجاج بھی کیا جاسکے۔ ان میں سے کئی مظاہرے نوکنگز کے نعرے کے تحت ہو رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں۔ تاہم، تمام منصوبہ بند نو کنگز احتجاجی مظاہرے منی سوٹا میں اس وقت منسوخ کر دیئے گئے جب ایک ڈیموکریٹک قانون ساز کو قتل کر دیا گیا اور دوسرے کو زخمی کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ہزاروں افراد لاس اینجلس میں صدر ٹرمپ کی جانب سے ملک کے دوسرے بڑے شہر میں فوجی تعیناتی کے خلاف احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئی، یہ مظاہرے امیگریشن چھاپوں کے بعد پیدا ہونے والی جھڑپوںکے نتیجے میں شروع ہوئے۔لاس اینجلس پولیس نے مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے آنسوگیس اورگھڑ سوار اہلکاروں کا استعمال کیا، یہ مظاہرین شہر کے مرکز میں واقع اس وفاقی عمارت کے سامنے جمع تھے، جو گزشتہ ایک ہفتے سی مظاہروں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
شمالی ریاست منی سوٹا میں ڈیموکریٹ رکن اسمبلی اور ان کے شوہرکے قتل نے، جسے گورنر نے ایک منصوبہ بند اور ہدف بنا کرکیاگیا حملہ قرار دیا، مارچ کی فضاکو مزید سوگوارکر دیا۔صدر ٹرمپ نے منی ایپلس کے قریب ہونے والے ان حملوںکی فوری مذمت کی،جن میں ریاست کی سابق سپیکر ملیسا ہورٹ مین اور ان کے شوہر ہلاک ہوگئے، جب کہ ایک اور رکن اسمبلی اور ان کی اہلیہ گولی لگنے کے بعد ہسپتال منتقل کئے گئے۔ادھر ہزاروں افراد شکاگو کے ڈیلی پلازہ اور اس سے ملحقہ سڑکوں پر جمع ہوئے،جہاں مشہور پکاسو کے مجسمے کے نیچی احتجاج کیا گیا۔ مظاہرے میں شامل کچھ افراد اسے جیل میں ڈالو! کے نعرے لگا رہے تھے، جو صدر ٹرمپ کے خلاف ایک اشارہ تھا۔



