انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

برطانیہ میں بدلتاسماج

تحریر :حسنین جمیل (لندن)

برطانوی سماج کی پچھلے 70سال سے جو سماجی ہیت تھی وہ اب تبدیلی کے مراحل میں ہے یہ ایک سماجی حقیت ہے کہ انسانی نفسیات میں نسل در نسل جب ایک سوچ پروان چڑھتی ہے تو دو نسلوں کے بعد اس کی سوچ میں تبدیلی آتی ہے، فطری عمل بدلتے سیاسی سماجی ثفافتی حالات ہوں یا بڑی سائنسی ایحادات انسانی سوچ میں ارتقا کا عمل جاری رکھتے ہیں تبدیلی مثبت بھی ہوتی ہے منفی ہوتی ہے یہ زمانے کے حالات پر منحصر ہے وہ انسانی ذہن کو کس طرف لئے جاتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم سے پہلے برطانوی سوچ مختلف تھی اس وقت درحقیت برطانیہ گریٹ برٹین تھا ایک سامراج تھا دنیا کے 5 براعظموں میں یونین جیک لہرا رہا تھا یورپ ایشیا ، افریقہ ، آسٹریلیا ، امریکہ تک برطانوی نوآبادیت تھی کہا جاتا یونین جیک کبھی سرنگوں نہیں ہوتا سلطنت برطانیہ میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا ، مگر دوسری جنگ عظیم نے برطانوی سوچ اور سماج میں تبدیلی برپا کر دی ۔

سلطنت برطانیہ نے فیصلہ کیا اب اپنا استعماری اور سامراجی کردار پس پشت میں ڈال کر ایک فلاحی ریاست ترتیب دینی ہے جہاں بنیادی انسانی حقوق کا راج ہو ریاست کا کوئی مذہب نہ ہو آزادی اظہار کا بول بالا ہو ہو گا یوں برطانیہ ایک سامراج سے بدل کر فلاحی ریاست بن گیا اوردنیا بھر کے راندہ درگاہ انسانی سماجی سیاسی حقوق کے ماروں کا ملک بن گیا ۔

پچھلے 2برس سے خاص طور پربعد از کرونا برطانوی سماجی سوچ میں ایک بار پھر تبدیلی کے آثار واضح ہیں گو کہ کے فلاحی ریاست اسی طرح قائم ہےآزادی اظہار کا پرچم بلند ہے سیاسی پناہ کا سلسلہ تھما نہیں ہے مگر برطانوی سوچ بدل رہی ہے برطانوی گورے ہمارا برطانیہ لوٹا دو کے نعرے کے ساتھ میدان عمل میں اتر چکے ہیں ٹومی رابنس کی قیادت احتجاجی سیاست شروع ہو چکی ہے اس کے دبائو کے نتیجے میں برطانوی حکومت نے ویزے امیگرشن اور سیاسی پناہ کے قوانین میں سخت تبدیلیاں کی ہیں۔

ٹومی رابنسن بڑھتی شدت پسندی کے بہت خلاف ہے وہ برطانوی سماج کو اس سے بچانا چاہتا ہے ٹومی کے ہم خیال مسلمانوں کی ویڈیوزسوشل میڈیا پر چلاتے جہاں مسلم عورتیں برقعے پہن کر لندن یا دوسرے شہروں میں گھوم رہی ہیں وہ اسے کابل ان انگلینڈ قرار دے رہے ہیں ، کچھ لوگ جو خاص برطانوی پرانے ذہن کے گورے ہیں وہ ٹومی رابنسن کو اسلامی فوبیا کا شکار کہتے ہیں ، مگر یہ ایک حقیت ہے۔

برطانوی مسلمان اپنی اصلاح کرنے کو تیار نہیں وہ برطانوی سماج میں گھل مل کر نہیں رہتے اپنے آپ کو دنیا بھر سے منفرد ثابت کرنا چاہتے ہیں ، اگر برطانیہ میں اسلامی فوبیا ہوتا تو کبھی صادق خان لندن کےمیئر نہ بن سکتے تھے آج برطانیہ کی وزیر داخلہ ایک مسلم خاتون ہیں، جہاں ٹومی رابنسن کی سوچ غلط ہے وہاں مسلمانوں کو بھی اپنے طرزعمل میں تبدیلی کرنی ہو گی ایک طرف جہاں وہ فخر سے ان گرجاگھروں کو خرید کر مسجدوں میں بدل رہے ہیں جن کو مقامی حکومت فروخت کر رہی ہے وہاں برطانیہ مسلمان اخلاقی جرائم میں ملوث ہو کر جیلوں میں بھی جا رہے۔

مسلمانوں کو خاص طور پر افریقی مسلمانوں کو ازسرنو اپنی حکمت عملی بدلنی ہو گی بیشتر اس کے کہ پرانےذہن کے برطانوی گورے بھی انکی حمایت نہ چھوڑ دیں ، اگر ایسا ہوا تو مسلم سماج کے لیے بہت بڑا المیہ ہو گا ، برطانیہ درحقیت گورے کا ملک ہے یہ کبھی اپنی ہیت تبدہل نہیں کرے گا ، سات کروڑ کے لگ بھگ اس یو کے ( یونیڈ کنڈیم ) میں مسلمان چالیس لاکھ تک ہیں صرف افزائش نسل سے آپ بہترنہیں ہوسکتے بلکہ تعلیم حاصل کرنے اور برطانوی سماج میں گھل مل کر رہنے سے ہی بہتری آسکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button