برازیلی ناول نگاراورنغمہ نگار پاؤلو کوئیلولکھتے ہیں۔۔۔!!
’’ ایک بھیڑ پوری زندگی بھیڑیے سے خوفزدہ رہتی ہے اورآخر میں اسے چرواہا کھا جاتا ہے ‘‘۔۔۔۔
یہ میرا تجربہ ہے ۔۔۔!
’’ سب سے قریبی لوگوں کا وار سب سے خطرناک ہوتا ہے کیونکہ وہ کم فاصلے سے کیا جاتا ہے ‘‘۔۔۔۔
اکتیس مارچ تک وہ سب کچھ ہوجائے گا،جس کا خاکسارنے آٹھ ماہ قبل بتایا تھا،ایک ماہ قبل دسمبر کو بھی اپنی بات پر قائم رہنے کا اعادہ کیا تھا۔۔۔ بات بہت آگے بڑھ چکی، کامران نامی شخص سمیت خوفناک خبریں ہیں۔۔۔ پہلے آپ کہانی کو سمجھیں۔۔۔
آپ نے ہاکی یا فٹ بال کا میچ دیکھا تو ہوگا،خاص کرآخری لمحات، جو ٹیم میچ جیت چکی ہو،وہ آخری منٹس میں گول کرنے کا رسک نہیں لیتی، کیونکہ رسک الٹا بھی پڑ سکتا،ایک ہی طریقہ ، وقت ضائع کیا جائے،کھلاڑی آپس میں ہی کھیلتے رہتے ہیں،کبھی بال کو پیچھے لےجاتے ہیں،کبھی آگے،کبھی اس کے پاس،کبھی اس کے پاس،بس ایسے ہی وقت پورا کرلیتے ہیں۔۔۔ اور وکٹری کا نشان بناتےہوئے گراؤنڈ سے باہرآتے ہیں۔
حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ہونیوالے مذاکرات ۔۔۔ بس ہاکی میچ کافائنل سمجھ لیں،تحریک انصاف میچ جیت چکی،بس اب ٹائم پاس پالیسی کے تحت کھیل رہے ہیں۔۔۔ سوچنے والی بات، جن سیاسی پارٹیوں کے درمیان ’’یا تم، یا ہم ‘‘ والی سوچ ہو،ان کے درمیان مذاکرات کیسے ہوسکتے ہیں ۔۔۔ ؟ اگر ہوں بھی تو کسی نتیجے پر پہنچ ہی نہیں سکتے،کوئی رزلٹ نہیں نکل سکتا۔۔۔اتنی سی بات ہے،حکومت کو کہا گیا،چلو جاؤ !! مذاکرات کرو۔۔۔حکم دینے والے اپنے بڑے طاقتوروں کو دکھا رہے ہیں۔۔۔جی !! دیکھیں !! ہم بات چیت سے معاملات حل کررہے ،حکومت کی مذاکراتی ٹیم کو تو یہ بھی معلوم نہیں،کس لیول پر بات کرنی ہے،انکے پاس اختیارات کیا ہیں،اگر اختیارات ہوتے، تو وہ پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم کی کپتان سے ملاقات کرچکے ہوتے۔۔۔۔کپتان ٹھنڈے دماغ سے کھیل،کھیل رہے،اپنی ٹیم کو ہلکی پھلکی موسیقی چلانے کا کہا ہوا،علیمہ خان کوسخت بیان کی ہدایت، اور کھلاڑیوں کی آپس میں بھی توں توں،میں میں۔۔۔ یہ سب کھیل کا حصہ، تاکہ ناظرین فلم سے بور نہ ہوجائیں۔ کپتان پہلے دن سے جانتے وہ کب باہر آئینگے،جیل کی چابی انکی اپنی جیب میں ہے، کپتان کی سیاست کا جب عروج شروع ہوا۔۔۔۔ لکھا تھا،اس بندے کو کوئی نہیں’’ مار ‘‘سکتا،جب یہ ’’مرے ‘‘ گا،اپنے ہاتھوں سے ہی مرے گا۔۔۔’’ مولے نوں مولا نہ مارے تو مولا نہیہ مردا‘‘۔۔۔۔کپتان سیاستدان نہیں،سیاستدان ہوتا تو نہ تحریک عدم اعتماد آتی، نہ اس کےبعد اتنے پھڈے پڑتے،نہ 9مئی،نہ گرفتاریاں،نہ تشدد،نہ سزائیں،نہ قید۔۔۔صرف سر جھکانا تھا۔۔۔۔حضور !! سر جھکانے کی قیمت ملتی ہے،سراٹھانے کی قیمت اداکرناپڑتی ہے۔۔۔ اور قیمت ادا ہوچکی،کہانی کا ’’ دی اینڈ ‘‘ آگیا۔۔۔کتاب کا ’’ حرف آخر ‘‘ لکھا جارہا۔ہمارے پاس تو کوئی چڑیا نہیں، نہ ہی طوطا،پیشن گوہی کرنا نجومیوں کا کام،ہم صحافی،زمینی حقائق،تاریخ و دیگر معاملات دیکھ کرتجزیہ کیا جاتا، بعض اوقات حالات اچانک تبدیل ہوجاتے،تجزیے غلط ثابت ہوجاتے ہیں،بے نظیر کے قتل کا کسی کو علم تھا ؟ پرویزالٰہی کے وزیراعظم بننے والی خبر اور تجزیئے غلط ثابت ہوگئے تھے۔۔۔پہلے دن ہی کہا تھا کپتان مارچ2025تک رہا ہوجائے گا،31مارچ تک انتظار ہے،31مارچ سے بچپن یاد آگیا، یہ دن سکول میں رزلٹ کا دن ہوا کرتا تھا،جب ہمارے استاد بشیر احمد شاہ صاحب (مرحوم ) تمام طلبا کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر رزلٹ سنایا کرتے تھے،ایک ایک طالبعلم کا نام لیکر رزلٹ بتاتے،صرف فیل یا پاس کا ہی اعلان ہوتا،جب طالبعلم کا نام پکار کر کہتے۔۔۔۔پاس۔۔۔۔ایک دم تمام طلبا تالیاں بجاتے۔بس31مارچ کو ایسی ہی ایک آواز آنے والی ۔۔۔۔پاس۔۔۔۔پھر پورے ملک نے تالیاں بجانی ہیں۔۔۔کپتان کے مخالف فریق ٹرمپ کے الیکشن جیتنے کے بعد صرف اب تک اتنا ہی کرپائے ہیں،عمران خان کی حامی امریکا میں مضبوط ترین ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن سے صرف ایک کامران نامی عہدیدار کوہی ’’خرید ‘‘ سکیں ہیں، وہ اکیلا کیا کرلے گا۔۔۔ ؟ اسے تو ویسے تنظیم سے ہی نکال دیا گیا ہے،اپنا نقصان کر بیٹھا۔۔۔جتنا کچھ تحریک انصاف اور اسکے بانی کیخلاف ہوا سارا امریکی مدد سے ہی ہوا،جوبائیڈن بھی فریق بنے ہوئے تھے،امریکی رجیم چینج کرنیوالے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے تھے،اب ان کا وار ہی انتہائی خطرناک ہوگا۔۔۔کیونکہ ’’ سب سے قریبی لوگوں کا وار سب سے خطرناک ہوتا ہے کیونکہ وہ کم فاصلے سے کیا جاتا ہے‘‘۔۔۔ صرف رہائی،مقدمات ہی ختم نہیں ہونے۔۔۔2024 کے عام انتخابات بھی ردی کے ٹوکری میں چلے جانے ہیں۔۔۔جو سب سے زیادہ خطرناک خبر،وزیراعظم سمیت اہم ترین سیاستدانوں اور کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں پر سفری پابندیاں بھی لگنے کا امکان ہے،بہت جلد یہ بل پاس ہونےوالا ہے،اس کے بعد اس سے بھی بڑی خطرناک خبر،ان افراد کےغیر ملکی اثاثے بھی ضبط کئے جائینگے۔۔۔۔حکومت اور انکے سرپرست اب تک ڈرکپتان سے رہے تھے،لیکن انہیں انکے ’’ دوست ‘‘ ہی ’’ پتھر کے دور‘‘ میں پہنچا دیں گے۔۔۔برازیلی ناول نگاراورنغمہ نگار پاؤلو کوئیلولکھتے ہیں۔۔ ’’ایک بھیڑ پوری زندگی بھیڑیے سے خوفزدہ رہتی ہے اورآخر میں اسے چرواہا کھا جاتا ہے ‘‘۔۔۔۔رانا ثنا ءاللہ نے بہت پہلے کہا تھا ’’ یا وہ ہیں یا ہم ہیں ‘‘ ۔۔۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



