بلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریں

تھل کی سوغات ،ثقافتی عکاس’’ تراڑہ‘‘،لذت،غذائیت سے بھرپور

چنے کے خوشوں کو آگ کے شعلوں پر رکھ کربھوننا تراڑہ کہلاتا ہے،بھکر،لیہ،خوشاب میں مقبول،بچے،بڑے سب لطف اٹھاتے ہیں

لاہور:(رپورٹ :سید ظہیر نقوی)تھل میں چنے کے سبز خوشوں کو بھون کر کھانے کی ایک قدیم روایت ہے، جسے "تراڑہ ” کہا جاتا ہے۔

بھکر:علاقہ مکین تراڑہ سے لطف اندوز ہورہے ہیں

تراڑہ خاص طور پر بھکر، لیہ و خوشاب کے دیہی علاقوں میں بہت مقبول ہے۔ پہلے چنوں کے خوشوں کو آگ کے شعلوں پر ہلکی آنچ میں بھونا جاتا ہے، پھر مزید آگ پر رکھ کر پکایا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہاتھوں میں لے کر چھلکے الگ کیے جاتے ہیں اور بڑے مزے سے کھایا جاتا ہے یہ نہ صرف ایک لذیذ دیسی خوراک ہے بلکہ تھل سرائیکی کی ثقافت اور روایات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

پرانے دُور میں جب چنوں کی فصل تیار ہوجاتی تو دہقاں کھیت میں ” تراڑہ ” لازمی لگایا کرتے تھے یہ گائوں کی ایک قدیم روایت ہوا کرتی تھی جو بچوں،بڑوں ،بوڑھوں سب میں یکساں مقبول ہے۔

تراڑہ کیلئے سوکھی گھاس لکڑیوں کے ڈھیر پر رکھ کر چنوں کے خوشوں کو آگ لگا ئی جاتی ہے ، اس میں خاص مہارت ضروری ہے ورنہ چنے جل کر راکھ ہو سکتے ہیں۔

تراڑہ تیار ہونے کے بعد وہیں زمین پر بیٹھ کر زمین سے چُن کر کھانا پڑتا ہے اور یہی اس کا اصل مزا ہے کھاتے وقت ہاتھ اور ہونٹ بھی کالے ہوجاتے ہیں لیکن ان تازہ بُھنے گرم چنوں کا جو لطف جو مزا اور جو ذائقہ آتا ہے وہ ناقابلِ بیان ہے ۔

ان میں کچھ چنے مکمل بُھن کر کرسپی ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ کچے پکے ہوتے ہیں کچھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہلکی سی ہیٹ لگتی ہے اور نرم سے محسوس ہوتے ہیں جیسے اسٹیم میں بنے ہوں یہ سارے ملے جُلے ذائقے جب منہ میں آتے ہیں تو مزا آجاتا ہے

اس بار گائوں گیا تو تراڑہ سے بھرپور لطف اٹھایا بھولی بسری روایت کو تازہ کیا ، میری بچپن کی یاداشتوں میں تراڑہ موجود ہے ان دنوں چنے کی فصل میں تراڑے کا رواج عام تھا ، آج بھی چنوں کی فصل ویسے ہی ہوتی ہے لیکن گاوُں دیہاتوں سے اب اکثر پرانے رواج متروک ہوچکے ہیں ۔

تراڑہ کی سب سے بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ زمین پر سب رنگ ونسل کے فرق کے بغیر اکٹھے بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ دردبٹانے اور مستقبل کے پلان بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی یادوں کو بھی تازہ کرتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button