بلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

جماعت اسلامی کا قیام اور مقاصد

تحریر:راحیلہ بقائی (اسلام آباد)

بر صغیر میں جب 1930 کے عشرے میں مسلم قومیت اور متحدہ قومیت کی تحریکیں برسر پیکار تھیں مخلص مسلمان حیران اور پریشان تھے کہ وہ ان حالات میں کیا کریں برطانوی غلامی کاشکنجہ بڑھتا جا رہا تھا اسلامی تعلیمات صرف فرقہ پرستی، قوم پرستی،مسلک کی دعوت اور فقہی بحثوں کا نام بن گیا تھا۔

بانی جماعت سید ابوالاعلی مودودی نے 26 اگست 1941 کو 75 نفوس کو جمع کر کے فریضہ اقامت دین، شہادت حق اور حکومت الہیہ کے نصب العین کو اپنانے کی دعوت دی اس دعوت کو برپا کرنے والوں کا اولین ہدف نظریے اور تصور کی درستگی، حقیقت دین، عقیدہ توحید کو گم کرنے والے مشرکانہ تصورات کی تطہیر اور اسلام کی صاف ستھری تعلیمات کو وقت گزرنے کے ساتھ در انے والی آلودگیوں سے پاک کرنا تھا۔

سید مودودی نے سمجھایا حقیقی دین کیا ہے یعنی دین اسلام ہی انسانی زندگی میں واحد حقیقی اور موزوں طریقہ ہے اسی میں کامیابی ہے اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اسلام عیسائیت یہودیت اور بدھ مذہب کی طرح چند رسومات اور معلوم طریقوں کی مانند مذہب نہیں کہ انہیں انسان ادا کر کے اپنے معاملات زندگی میں ازاد ہو جائے پھر جیسا چاہے کرتا پھرے اور کوئی پابندی قبول نہ کرے بلکہ اسلام انسان کی مکمل انفرادی اور اجتماعی زندگی کا نام ہے یہی وہ بندگی کی دعوت ہے جو اللہ نے اپنے انبیاءکے ذریعے تمام انسانوں کو دی۔

سورہ الشوریٰ (13) امت مسلمہ تو برپا ہی اسی لیے کی گئی ہے کہ وہ اس پیغام کو دنیا بھر میں پہنچائے ۔ تاریخ نے ان زندہ مشاہدات کو اپنے سینے میں محفوظ کر رکھا ہے کہ پہلے دور میں امت نے اپنے اس فریضے کو بہترین طریقے سے ادا کیا جس میں صحابہ ، تابعین اور سلف صالحین شامل تھے مگر جب امت اس فریضے سے غافل ہو گئی اور آج تک غافل ہی چلی آ رہی ہے ہماری نجات اسی فریضے کی انجام دہی میں ہے سید مودودی نے پوری وضاحت سے دعوت کے تین نکات رکھے۔
1۔ بندگی رب
2۔ منافقت سے پاک ہر مسلمان کا کردار
3۔ نظام کی تبدیلی

بندگی رب سے مراد یہ نہیں کہ زندگی کو دو حصوں میں بانٹ لیا جائے ایک حصہ مذہبی اور دینی امور سے متعلق ہو اور دوسرا حصہ دنیا کے امور اور معاملات سے متعلق ہو۔ کلمہ طیبہ کے اقرار سے ہی یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اللہ اپنے بندوں کا حقیقی حاکم اور لائق اتباع اور اطاعت ذات ہے وہی قانون اور دستور کشا اور امور معاملات کا مالک ہے ۔

سورہ البقرہ (208)اپنی پوری زندگی کو اس کے دین کے تابع کر دیں تاکہ کوئی شے اس کی حکمرانی سے باہر نہ ہو یہ مناسب نہیں کہ اپنی زندگی کے گوشوں میں سے کسی گوشے اور شعبے میں اس کی کامل بندگی سے اپنے اپ کو الگ تھلگ رکھا جائے یا اپنے معاملات میں جن خود ساختہ طریقوں اور نظاموں کو چاہیں اختیار کیا جائے بندگی رب کا یہ مفہوم تمام مسلمانوں اور غیر مسلمانوں میں پھیلانا اور عام کرنا چاہتے ہیں اسی پر ہم ایمان رکھتے ہیں۔

دعوت کا تیسرا نکتہ منافقت کا خاتمہ، منافقت سے پاک صرف ذاتی زندگی نہیں بلکہ منافقت یہ بھی ہے کہ انسان ایک خاص نظام پر ایمان کا دعوی کرے مگر اس نظام کے بالکل خلاف ماحول میں مطمئن زندگی گزارے اپنے دین کے غلبے کیلئے کوئی جدوجہد نہ کرے بلکہ اس کے برعکس اپنی صلاحیتوں اور طاقتوں کو اسی فاسد اور فاسق ظالمانہ نظام کو مضبوط کرنے اور ترقی دینے میں صرف کرے۔ اسلام کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ اس کی بعض علامات کو اپنا رکھا ہے لیکن جوں ہی عملی دنیا میں داخل ہوتے ہیں۔ سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہیں، معیشت اور معاشرت کے مسائل میں بحث کرتے ہیں تو اسلام کی تعلیمات کو چھوڑ کر من مانی زندگی گزارتے ہیں یہ منافقت اور دو رنگی نہیں تو کیا ہے؟ دن رات اقرار کرتے نہیں تھکتے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں لیکن ساتھ ہی وہ ہراس نااہل کے پیچھے چلنے میں ذرا ہرج محسوس نہیں کرتے یہاں تک کہ اللہ کی زمین پر کسی ظالم وجابر کے سامنے جھکنے اور اس کے حکم کی بجا آوری میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔

مسلمانوں کی اس اخلاقی بیماری کے نتیجے میں کبھی کمیونزم کبھی کیپیٹلزم کبھی سیکولرزم اور کبھی مادر پدر ازادی جیسے نظاموں کو ہم گلے لگا لیتے ہیں۔ ہماری دعوت کا تیسرا نکتہ یہی ہے کہ غیر اللہ سے جڑے ہر طرح کے تعلق کو توڑ کر اپنے تعلق کو صرف اللہ کے لیے خالص کریں اور یکسو ہو کر اسی کا بندہ بن کر رہیں۔اس دعوت کی ابتدا ماہنامہ ترجمان القران کے اجرا سے کی گئی جس کے مدبر سید ابو الاعلی مودودی تھے ان کی عمر 30 برس سے زیادہ نہ تھی اپنی تحریروں میں مولانا نے سب سے زیادہ توجہ افکار و نظریات کی پاکیزگی پر دی۔

دین کی اشاعت اور دعوت کے اصول و مبادی کو اچھی طرح ذہن نشین کرایا گویا اس زمانے میں اسلامی تحریک کا بیج بویا گیا۔ اس زمانے میں صوبائی اور لسانیت قوم پرستی نے سر اٹھایاہندوئوں کے ناپاک عزائم سامنے نے لگے جو مسلمانوں کے خلاف بغض اور عناد اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کو ان کی غفلت سے بیدار کرنے کیلئے مولانا نے اپنے قلم کو متحرک کیا اور تسلسل سے اس درست راستے کی طرف مسلمانوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ اگر مولانا کا یہ قلمی اور فکری جہاد نہ ہوتا تو مسلم قومی تنظیمیں ہندی قومیت کے سیلاب میں بہہ جاتیں۔

قیام پاکستان کی تحریک میں مسلمانوں میں، مولانا کے مضامین نے ایک فکری انقلاب برپا کیا ساتھ ہی مسلم قیادت کو اپنے طریقہ کار اور مستقبل کے لائحہ عمل پر سوچنے پہ مجبور کیا۔ اس فکری انقلاب کے نتیجے میں نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ مولانا کے گرد جمع ہونے لگے اور ان کے نظریہ اور فکر سے متاثر ہونے لگا۔ اور سید مودودی سے اصرار کیا جانے لگا کہ وہ ایک جماعت کی تشکیل دیں اور اس کی قیادت کی باگ دوڑ سنبھالیں۔ سید مودودی نے ملک کے طول و عرض میں ایسے تمام لوگوں کو دعوت دی اور بتایا کہ وہ ہر قسم کی عصبیت کو چھوڑ کر اللہ بزرگ و برتر کے سامنے جھک جائیں اور اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کو اسلام کی دعوت اور دین اسلام کے نفاذ کی جدوجہد میں صرف کریں پھر اپنے ساتھیوں کو اس راہ میں آنے والے خطرات اور تکلیفوں سے بھی آگاہ کیا۔

بالاخر سید مودودی کی اس دعوت پر یکم شعبان 1360ھ، 25 اگست 1941 کو ہندوستان کی 42 کروڑ کی آبادی میں سے 75 افراد لاہور میں جمع ہوئے اور انہوں نے اقامت دین کے کام کو اس کے تقاضوں کو زمین پر اللہ کا نظام اور عدل اجتماعی کے قیام کو قائم کرنے کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا ،26 اگست 41 19کو ہی جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آگیا، دستور جماعت کی منظوری دی گئی جس میں جماعت نے اپنا پروگرام قواعد و ضوابط اورطریقہ کار منظم طور پر درج کیا گیا اس دعوت کو قبول کرتے ہی ان قیمتی لوگوں نے اپنے کاروبار اپنی ملازمتوں اور مالی مفادات کی عظیم الشان قربانیاں پیش کیں۔مخالفت بھی زور پکڑنے لگی دینی مدارس اور حجروں اور گوشوں میں بیٹھے ہوئے علماءبھڑک اٹھے۔

بعض نوجوانوں کے والدین نے بیٹوں پر سختی بھی شروع کر دی نفرت اور حقارت سے کفر کے فتوے لگانے شروع کر دیے گئے مگر تربیت کا فکری طریقہ اختیار کرتے ہوئے ہر فرد نے دعوت کی راہ میں آنے والی مشکلات پر استقامت سے ڈٹے اور جمے رہنے کو ہی اہمیت دی یہاں تک کہ ان کے کردار نکھرتے چلے گئے۔ یوں جماعت اسلامی اپنے اس طریقہ کار پر اول دن سے قائم ہے جو اس نے اپنے لیے طے کیا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ یہ تحریک تناور درخت بنتی جا رہی ہے۔اس کے مخلص محنتی ارکان اس جماعت کا سرمایہ ہیں جو ہر دور میں حق بات کہنے کیلئے اور کونو مع الصادقین کا بہترین نمونہ ہیں۔ اللہ تعالی جانے والوں کی مغفرت فرمائے اور جماعت اسلامی کو پوری دنیا کی قیادت کا فریضہ احسن طریقے سے ادا کرنے کی توفیق دے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button