اس دنیا میں شاید ہم وہ واحد قوم ہیں جنہیں اپنے بارے میں بہت خوش فہمیاں ہیں، ڈھیروں غلط فہمیاں ہیں اور اس سب سے بڑھ کر بلند وبانگ دعوے ہیں کہ ہم یہ کرسکتے ہیں ، ہم وہ کرسکتے ہیں۔ بچپن میں یہی سنا ”جنہے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا نئیں” ،”لاہور باغوں کا شہر ہے” ( آج باغ تو دور درخت نظر نہیں آتے)، ”لاہور یونیورسٹیوں کالجوں کا شہر ہے” (آج لاہور کے تعلیمی اداروں کے تعلیمی معیار پر ہزاروں سوالات ہیں اور تعلیم صرف ناجائز آمدن والا ”خرید” سکتا ہے)۔
سب سے بڑا بازار انارکلی ( اس دعوے پر تو بچپن میں بھی کبھی یقین نہیں ہوا تھا)، کپڑے کی سب سے بڑی مارکیٹ اعظم کلاتھ مارکیٹ ( کبھی کسی مارکیٹ سے مقابلہ کرکے دکھایا نہیں گیا) ، کراچی کے بارے میں دعویٰ کہ روشنیوں کا شہر ہے (آج اندھیروں کا شہر کہلاتا ہے) چنانچہ ان دعوؤں کا اصل جواب یہی ہے کہ ہم کنوئیں کے مینڈک ہیں۔ ہم نے اپنے کنوئیں کے باہر کبھی دیکھا ہی نہیں کہ دنیا میں کیا کیا کچھ ہے۔ ہم بلند و بانگ دعوئوں کے سوا کچھ نہیں کرتے۔
ہم میں سے کسی نے استنبول کی ”کورڈ مارکیٹ” نہیں دیکھی لیکن دعویٰ ایسے کرتے ہیں جیسے ساری بڑی مارکیٹیں ہمارے پاس ہی ہیں۔ ہم میں سے کسی نے دنیا کی بڑی بڑی خوبصورت ترین مساجد نہیں دیکھیں لیکن وہی دعویٰ کہ سب سے بڑی مسجد ہمارے پاس ہے۔ بالکل ہے بلکہ تھی، یہ مسجد ایک بادشاہ نے اپنے عوام سے ”لیکر” اور ”غیروں سے خراج” وصول کر کے بنائی جبکہ اسی بادشاہ ( اورنگزیب کے باپ شاہجہان ) نے اس سرخ پتھر سے بنی مسجد سے مہنگا سفید سنگ مرمر کا مقبرہ آگرہ میں اپنی ”بیوی کی یاد” میں بنا دیا، یہ ہے ہماری تاریخ۔
ہمیں آزاد ہوئے صرف 78 واں سال ہے لیکن ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اس اسلامی مملکت کے وارث ہیں جو نبی کریمۖ ﷺنے مدینہ میں بنائی تھی، یعنی کہ ہماری 1500 سالہ تاریخ ہے ( لیکن یاد رکھیں وہ 1500 سالہ تاریخ تمام مسلمانوں کی ہے، اس پر ہم اکیلے دعویدار کیسے ہوسکتے ہیں)۔ خیر مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ ہم صرف دعوے کرتے ہیں اور غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں کا شکار رہتے ہیں۔
کھیلوں میں بھی ہم کارکردگی سے زیادہ دعوؤں پر یقین رکھتے ہیں۔ کرکٹ میں دنیا کا سب سے تیز رفتار بولر شعیب اختر ہے، سب سے لمبے اور سب سے زیادہ چھکے شاہد آفریدی مارتا ہے، فخر ہمارا فخر ہے، بابر اعظم نمبرون کھلاڑی ہے، یہ تو درحقیقت سکندر اعظم ہے۔ بابر کے مقابلے ویرات کوہلی کیا ”بیچتا” ہے۔
رضوان کے مقابلے کا کھلاڑی پہلے کبھی پاکستان کو نہیں ملا، حارث رؤف جیسا ماں نے پیدا نہیں ہی کیا، شاہین آفریدی اور نسیم شاہ جیسی ”فاسٹ جوڑی” دنیا میں کہیں نہیں، افتخار چاچا جیسا ”ہارڈ ہٹر” کوئی اور نہیں، جھوٹے دعوئوں کی ایک بھرمار ہے جو ہمارے اعلیٰ درجے کے کھلاڑیوں کے ”مائوتھ آرگن” بجاتے رہتے ہیں۔
ہر ”بڑے کھلاڑی” نے ”بڑے صحافی” کی خدمات حاصل کی ہوئی ہیں جو ”معمولی کارکردگی” پر بھی آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں۔ گزشتہ صبح نیوزی لینڈ نے ہمیں جس برے طریقے سے ہرایا (غلط، ہرایا نہیں دھویا) اور ہمارے تمام کھلاڑی نیوزی لینڈ والوں کو کیچ پکڑنے کی پریکٹس کرواتے آؤٹ ہوئے (گیارہ کھلاڑی ملکر بھی سنچری نہ کرسکے) اس سے مجھے اپنے کھلاڑیوں کی ”اوقات” یاد آگئی ( سوچا کہ ہم دعوے تو بہت کرتے ہیں ان کھلاڑیوں کے ریکارڈ تو کھنگالے جائیں)۔
اس وقت صرف آئی سی سی ٹورنامنٹس کے ریکارڈ سامنے رکھ کر ”اعلیٰ کارکردگی کے دعوے” کرنے والوں کے اصل ریکارڈ سامنے لاؤنگا۔ ورلڈکپ (50 اوورز)، چیمپینز ٹرافی (50 اوورز ) اور ٹی 20 میں ہمارے کھلاڑی تو کہیں بھی نظر نہیں آرہے۔ انکے نام پر تو کوئی ریکارڈ ہے ہی نہیں، ہم کہتے ہیں ہم چیمپیئن ہیں جبکہ ہم نے آج تک ہونے والے ورلڈکپ کے 13 ٹورنامنٹوں میں صرف ایک مرتبہ ورلڈ کپ جیتا ہے۔
چیمپئز ٹرافی کے 9 ٹورنامنٹ میں صرف ایک مرتبہ ٹورنامنٹ جیتا ہے، ٹی ٹونٹی کے نو مقابلوں میں بھی صرف ایک بار ٹورنامنٹ جیتا ہے، یہ ہے ہمارے ”اعلیٰ” ریکارڈ۔ ون ڈے ٹورنامنٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے پہلا مقابلہ ہے جو 1975ء میں شروع ہوا۔ اس مقابلے کو لگاتار دو دفعہ ویسٹ انڈیز نے جیتا اور پھر اسکے بعد یہ مقابلہ اوپن ہوگیا۔ آج تک ہونے والے مقابلوں میں آسٹریلیا 6 مرتبہ اس ٹورنامنٹ کو جیت چکا ہے اور ”بے تاج بادشاہ” ہے۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت دو، دو مرتبہ ٹورنامنٹ کو جیت چکے ہیں۔ پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کے حصے میں یہ اعزاز ایک ایک مرتبہ آیا ہے۔
ایک روزہ کرکٹ میچوں کے ان مقابلوں میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ بھارتی کھلاڑی ٹنڈولکر کا ہے جنہوں نے 2278 سکور بنائے۔ دوسرے نمبر پر آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ ہیں جنہوں نے 1743 سکور بنائے ہیں۔ سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والوں میں آسٹریلیا کے گلین میگرا نے 71 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
سنچریوں کا ریکارڈ بھی بھارت کے دو کھلاڑیوں روہت شرما اور ویرات کوہلی کے پاس ہے جنہوں نے سات، سات سنچریاں بنائی ہیں۔ ایک ورلڈکپ میں پانچ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ بھی روہت شرما اور ویرات کوہلی کے پاس ہے جنہوں نے پانچ، پانچ سنچریاں ایک ٹورنامنٹ میں بنائی ہیں۔ بہترین بولنگ کا ریکارڈ آسٹریلیا کے گلین میگرا کے پاس ہے جنہوں نے 7 وکٹیں 15 رنز دیکر حاصل کی ہیں۔
ایک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں آسٹریلیا کے مچل سٹارک نے 27 وکٹیں حاصل کی ہیں، سب سے زیادہ کیچ کرنے والے وکٹ کیپر سری لنکا کے کمار سنگاکارا ہیں جنہوں نے 54 کیچ اور سٹمپ کئے ہیں۔ آسٹریلیا کے وکٹ کیپر ایڈم گلکرسٹ دوسرے نمبر پر ہیں، انہوں نے 52 کیچ اور سٹمپ کئے ہیں۔ بطور فیلڈر سب سے زیادہ کیچ کا ریکارڈ آسٹریلین ریکارڈ یافتہ کپتان رکی پونٹنگ کا ہے جنہوں نے 28 کیچ پکڑے ہیں۔
سب سے زیادہ سکور کا ریکارڈ جنوبی افریقہ کا ہے جنہوں نے 428 رنز پانچ وکٹوں کے نقصان پر بنائے جبکہ کم از کم سکور کینیڈا کا ہے جس نے صرف 36 رنز بنائے۔ ایک میچ میں سب سے زیادہ سکور ( ڈبل سنچری ) کا ریکارڈ مارٹن گپٹل کا ہے جنہوں نے 237 رنز بنائے جس میں انکے 11 چھکے شامل تھے۔ ایک اور ڈبل سنچری ویسٹ انڈیز کے کرس گیل نے بنائی ہے جن کے 215 رنز میں 16 چھکے شامل تھے۔
کسی بھی ٹورنامنٹ کی بہترین پارٹنرشپ ویسٹ انڈیز کے کرس گیل اور میلکم سیموئیل کے درمیان 372 رنز کی ہے۔ ان تمام ریکارڈ میں مجھے تو اپنے کھلاڑیوں کے دعوئوں کے مطابق پاکستان کہیں نظر نہیں آیا۔ آسٹریلیا کے پاس ایک اور منفرد ریکارڈ بھی ہے۔ انہوں نے 2003 ء اور 2007ء کے ورلڈ کپ میں کوئی میچ نہیں ہارا اور اپنے تمام 11 ـ 11 میچ جیتے اور شکست ان سے بہت دور کھڑی تلملاتی رہی۔
ان تمام ٹورنامنٹس میں 80 سے زائد میچ کھیلنے والی ٹیموں میں آسٹریلیا نے سب سے زیادہ 103 میچ کھیلے، 76 جیتے، 25 ہارے، ایک ٹائی اور ایک بلا نتیجہ رہا۔ نیوزی لینڈ نے 98 میچ کھیلے 59 جیتے، 37 ہارے، ایک ٹائی اور ایک بلا نتیجہ رہا۔ بھارت نے 92 میچ کھیلے، 61 جیتے، 29 ہارے، ایک ٹائی اور ایک بغیر نتیجہ رہا۔ انگلینڈ نے 92 میچ کھیلے، 51 جیتے، 38 ہارے، 2 ٹائی اور ایک بلا نتیجہ رہا۔ پاکستان نے 88 میچ کھیلے، 49 جیتے، 37 ہارے اور 2 بلا نتیجہ رہے۔
سری لنکا نے 89 میچ کھیلے، 40 جیتے، 46 ہارے، ایک ٹائی اور دو بلا نتیجہ رہے۔ ویسٹ انڈیز نے 80 میچ کھیلے، 43 جیتے، 35 ہارے اور 2 بلانتیجہ رہے۔ ان ٹورنامنٹوں میں چار مرتبہ کسی بھی میچ میں دونوں ٹیموں کا سکور 700 سے زیادہ رہا اور ان میں سے کسی بھی میچ میں پاکستان شامل نہیں تھا۔ سب سے زیادہ میچ سکور آسٹریلیا بمقابلہ نیوزی لینڈ 771 رنز تھے جو 19 وکٹوں کے عوض بنائے گئے۔
دوسرے نمبر پر جنوبی افریقہ بمقابلہ سری لنکا میچ میں 754 رنز بنے جو 15 وکٹیں گنوا کر بنائے گئے۔ تیسرے نمبر پر 724 رنز ہیں جو 14 وکٹوں کے عوض بنائے گئے اور یہ میچ انڈیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان تھا۔ چوتھے نمبر پر 714 رنز 13 وکٹوں کے عوض بنے۔ یہ میچ آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے درمیان تھا۔ سب سے زیادہ ورلڈکپ جیتنے والے تین کھلاڑی ہیں جن کا تعلق آسٹریلیا سے ہے۔ گلین میگرا، رکی پونٹنگ اور ایڈم گلکرسٹ، ان تین فاتح آسٹریلین ٹیموں کا حصہ تھے جنہوں نے ورلڈکپ کی ٹرافی کو اٹھایا۔(جاری ہے)



