سی سی ڈی مقابلوں کی ایک جیسی کہانی،نتائج کیا ہوں گے کسی کونہیں پتہ
مارے جانے والے ایک ہی استاد کے شاگرد،اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک،پولیس میں’’اعلی کارکردگی‘‘ پر تاریخ کی سب سے زیادہ ترقیاں ،نیک کمائی سے بھی آسودہ
لاہور:(رپورٹ/میاں حبیب)سی سی ڈی مقابلوں کی ایک جیسی کہانی ہے کل کیا ہوجائے کسی کو کچھ نہیں پتہ۔سی سی ڈی کے مقابلوں میں سب مارے جانے والوں کی کہانی بھی ایک جیسی ہے ایسے لگتا ہے یہ سب ایک ہی استاد کے تربیت یافتہ ہیں یا ایک ہی اکیڈمی سے ٹیوشن لیتے رہے ہیں تمام واقعات میں پولیس ملزمان کو گرفتار کر کے ریکوری کروانے جا رہی ہوتی ہے راستے میں ان ملزمان کے ساتھی انھیں چھڑوانے کے لیے فائرنگ کر دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں پولیس محفوظ رہتی ہے اور ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے جاتے ہیں قانون کی نظر میں یہ سارا کچھ کیا ہے ہم اس بارے کچھ نہیں کہتے لیکن ایک بات ہے۔
پورے پنجاب میں جرائم پیشہ افراد پر سی سی ڈی پولیس کا اتنا خوف طاری ہو چکا ہے کہ بڑے بڑے بدمعاش مارے جانے کے خوف سے بلوں میں گھسے بیٹھے ہیں بےشک یہ ساری مشقیں نچلی سطح پر آزمائی جا رہی ہیں لیکن اس کے اثرات بہت گہرے مرتب ہو رہے ہیں کل کو کیا ہوتا ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا(ویسے سب کو پتہ ہے ماورائے عدالت اقدامات کے سائیڈ افیکٹس کیا ہوں گے)۔
لیکن آج پنجاب پولیس کی بلے بلے ہے آج پنجاب پولیس تاریخ کی سب سے زیادہ با اختیار پولیس ہے اور اس اعلی کارکردگی پر تاریخ کی سب سے زیادہ ترقیاں بھی پولیس والوں کو ملی ہیں اور پنجاب پولیس کے اہلکار نیک کمائی سے آسودہ بھی ہوئے ہیں پنجاب پولیس زندہ باد۔



