انٹر نیشنلتازہ ترینجرم-وسزا

غزہ:اسرائیلی بمباری، انڈونیشین ہسپتال کے ڈائریکٹر سمیت 116شہید

ڈائریکٹر مروان السلطان کے بیوی بچے بھی شہید ہو ئے، جنگ بندی سے متعلق ٹرمپ کی تجاویز کا جائزہ لے رہے : حماس

غزہ :(ویب ڈیسک )اسرائیلی فوج کی تازہ بمباری کے نتیجے میں 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 116 فلسطینی شہید ہوگئے۔الجزیرہ کے مطابق غزہ شہر میں اسرائیلی حملے میں انڈونیشیا کے ہسپتال کے ڈائریکٹر مروان السلطان اپنے اہل خانہ سمیت مارے گئے ہیں۔یہ حملہ غزہ شہر کے جنوب مغرب میں ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا۔

اس حملے میں ان کی بیوی اور بچے بھی مارے گئے۔شہر غزہ میں کم از کم 25 گھروں کو براہ راست حملوں کا ہدف بنایا۔ فلسطینی محکمہ شہری دفاع کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 70 فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں، جبکہ دو سو سے زائد شدید زخمی ہوئے ہیں۔شہدا میں 12 معصوم بچے، 14 خواتین اور 11 ایسے شہری شامل ہیں جو امدادی اشیا کی تقسیم کے انتظار میں ایک مقام پر جمع تھے۔ درندگی کی اس خونی لہر نے غزہ کے رہائشی علاقوں کو ماتم کدہ بنا دیا ہے۔

فلسطینی دفاع مدنی کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ صہیونی بمباری کا سب سے المناک منظر اس وقت دیکھنے کو ملا، جب مشرقی غزہ کے علاقے الزیتون میں واقع کشکو سڑک پر ابو سمرہ خاندان کا چھ منزلہ گھر صہیونی بمباری کی زد میں آ گیا۔ اس وقت بھی ہماری امدادی ٹیمیں شہدا، زخمیوں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی فوج نے خان یونس کا علاقہ فوری خالی کرنے کا حکم دے دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج بھرپور قوت سے کارروائی کر رہی ہے، راکٹ لانچ کر کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنایا جائے گا۔

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ وہ غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔تاہم حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اس معاہدے کے تحت غزہ سے انخلا کرنا ہوگا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ حماس کو غزہ سے مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button