پاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریں

مائنز حادثات کی روک تھام ،جرگہ کا بروقت انسپکشن ،متاثرین کو ادائیگیوں کا مطالبہ

کان کنوں کی سوشل سیکیورٹی ، ای او بی آئی یقینی بنائی جائے:عبدالستار،شہید مائنز ورکرزکے لواحقین،یتیموں،بیواﺅں کیلئے ماہانہ 15000 معاوضہ مقرر کیا جائے:عبدالحلیم خان

لاہور:(قیصر چوہان ) پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن اورشانگلہ کول مائنز ورکرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (سموا) کے زیر اہتمام”میں اور میری ذمہ داری ‘ ‘ کے موضوع پر ایک جرگہ منعقد کیا گیا۔

کول مائنز ورکرز کی نرسری کہلائے جانے والے صوبہ خیبر پختوانخوا کے پسماندہ ترین ضلع شانگلہ کے بام پیلس ہوٹل شانگلہ ٹاپ میں منعقد ہونے والے جرگے میں سابق سینیٹر مولانا راحت حسین ، تحصیل چیئرمین الپوری وقار احمد خان ،پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان، مرکزی چیئرمین عبدالستار،ایگزیکٹو ممبر علی باش خان، شانگلہ کول مائنز ورکرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (سموا) کے صدر گلاب خان شاہ پوری ،

ماسٹر ٹرینر عبدالحلیم خان،سابق ناظم فرمان اللہ ، تحصیل الپوری کے سابق تحصیل اومیدوار اور عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی رہنما عطاءاللہ خان سمی، صحت مند، آصف شاہ،ولید سمیت ملک بھر سے ٹریڈ یونین نمائندوں اور اور ضلع شانگلہ کے مختلف علاقہ مشران شریک نے شرکت کی ۔

جرگے میں شریک افراد کا مشترکہ طور پر کہنا تھا کہ مائننگ کے شعبے سے مالکان اربوں روپے کماتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کان کنوں کی صحت وسلامتی اور ان کی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے اقدامات نہیں کیے جاتے، ٹھیکیداری نظام کی وجہ سے مائننگ کے شعبے مےں لیبر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

مختلف گیسوں کے اخراج سے مائن منہدم ہونے کے واقعات پیش آتے ہیں جس کے نتیجے میں غریب مزدور شہید ہو جاتے ہیں لہٰذا کان کنی کے شعبے سے ٹھیکیداری نظام فوری طورپرختم کیا جائے ،انسپکٹر مائنز جدید مشینری کے ذریعے مائن کی انسپکشن یقینی بنائے، مائن ورکرزحفاظتی آلات کا استعمال یقینی بنائیں،اگرمائن مالکان، کان کن اور لیبر انسپکٹر اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھائیں تو حادثات میں کمی آسکتی ہے۔

جرگے میں شریک افرادنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مائننگ ایریاز میں جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال ، ریسکیو سنٹر ،کان کنوں کو فوری ریسکیو کرنے کیلئے ہیلی کاپٹرز سروس متعارف کرانے ، حادثات کی کورٹ آف انکوائری میں مزدور نمائندوں کو شامل کرنے،مائنز پر موجود انسپکٹوریٹ کا نمائندہ (مائن سردار)کو با اختیار اور ذمہ دار بنانے سمیت کان کنوں کی سوشل سیکیورٹی ، ای او بی آئی ، مائننگ کمپنی کے پاس رجسٹریشن اور انشورنس کو یقینی بنایا جائے ،خطرناک مائن کو بند کئے جائیں، کول مائنز مزدوروں کے بچوں کیلئے میڈیکل وانجینئرکالجوں میں کوٹہ مقررکیا جائے۔

کوئلہ کان میں جان بحق مزدوروں کیلئے یکساں معاوضہ مقرر کیا جائے،لواحقین،یتیموں،بیواﺅں کی دادرسی کیلئے ماہانہ پندرہ ہزار روپے کا معاوضہ مقرر کیا جائے ،کوئلہ کان میں معذورافراد کیلئے بیت المال اور زکوة فنڈ سے مالی معاونت کی جائے،کوئلہ مائن مزدوروں کو مستقل مزدور تصور کیا جائے جبکہ مائنز ورکرز کی صحت وسلامتی یقینی بنانے کیلئے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او )کے قوانین اور مائن ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button