پاکستانتازہ ترینکالم

ملک،قوم،فوج کیلئے یہی بہتر

بےلگام / ستارچوہدری

محبت اور دوستی کے انوکھے اصول ہیں،اگر آپ اس شخص سےنفرت کرتے ہیں جس سےلوگ کرتے ہیں تو لوگ آپ سے محبت کرینگے،اگر آپ اس شخص سے محبت کرتے ہیں جس سے لوگ نفرت کرتے ہیں تو لوگ آپ سے نفرت کرینگے۔۔۔۔دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے،دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے۔۔۔
’’آپ اس لیئے پاپولر نہیں ہوئے کہ آپ نے جنگ جیتی ہے، آپ اس لیئے پاپولر ہوئے کہ آپ اس سےلڑے جس سے لوگ آپ کو لڑتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں‘‘۔۔۔
ڈیجیٹل دہشتگرد،ڈیجیٹل وارئیر بن گئے،مبارک ہو۔۔۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا قول ہے،دوست جیسا بھی ہو اسے نہ چھوڑیں، جوہڑ کا پانی بھی کبھی آگ بجھانے کے کام آجاتا ہے۔۔۔ نواز کے سپاہی شہباز کے راستوں میں کیوں کانٹے بچھا رہے، ،پہلی بارمعلوم ہوا سخت اورکرخت مزاج عظمیٰ کولطیفے بھی آتے ہیں۔
واقعات،سانحات،جنگ،ناکامیاں،کامیابیاں،اچھے دن،برےدن،امارت،غربت،آزادی ،غلامی،تخت،تختہ،اقتدار،اپوزیشن،عہدہ،بے روزگاری یہ سب کچھ زندگی کا حصہ ہیں،ان سے آدمی سیکھتا ہے،بلکہ بہت کچھ سیکھتا ہے،سیکھتا کون ہے۔۔۔؟جو سوچتاہے، سوچتا کون ہے۔۔۔؟ جو پڑھتا ہے،پڑھنا کتنا ضروری۔۔۔؟پہلی وحی کا آغاز ہی ’’ اقرا‘‘ سے ہوا۔۔۔چند گھنٹوں کی جنگ ہوئی،کتنا بڑا سبق دے گئی،اگر کوئی سوچے تو،فوج کا مورال بہت نیچےجاچکا تھا،چندگھنٹوں میں وہی مورال آسمان کی بلندیوں کوچھونے لگا،عسکری قیادت کی شہرت کے ڈنکے بج رہے۔۔۔اچانک اتنی بڑی تبدیلی کیسے۔۔۔؟ یہ حقائق ہیں،کوئی مانے نہ مانے،عسکری قیادت اس لئے پاپولر نہیں ہوئی کہ انہوں نےجنگ جیتی،اس لئے پاپولر ہوئی ہے،وہ ان سے لڑے جن سےپاکستانی عوام انہیں لڑتے ہوئےدیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔عسکری قیادت چاہے تو یہ پاپولرٹی برقرار رہ سکتی، کیسے۔۔۔؟ جو جنگ سے سیکھا،بیرون ملک تو ہوگیا،اندرون ملک بھی وہی کچھ کیا جائے جو پاکستا ن کے عوام چاہتے، عوام کیا چاہتے۔۔۔؟عسکری قیادت کو سب معلوم،سب نے دیکھ لیا،جنگ کے دوران سوشل میڈیا وار کس نے لڑی، ایسے تو نہیں،ڈیجیٹل دہشتگردوں کو ڈیجیٹل وارئیر کہنا پڑا،بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیئے، کون خاموش رہے،کن کی زبان کو تالے لگے رہے۔۔۔۔؟ کچھ خفیہ تو نہیں رہتا،جیتنے والوں کے ساتھ سب کھڑے ہوجاتے ہیں،ہارنے والوں کوتو اپنےبھی چھوڑ جاتے ہیں،اقتدار ختم ہونے پر مریم،نواز سمیت پارٹی کے دیگر ارکان فوج کو کیا کچھ کہتے رہے،سب ریکارڈ پر ہے،جب مشرف نے اقتدار ختم کیا تھا،شریف خاندان نےفوج کیخلاف بھارتی اخبارات میں اشتہارات شائع کروادیئے دیئےتھے۔۔۔ کشیدگی کے دوران نواز شریف اور آصف زرداری کی پراسرار خاموشی کا کیا مطلب لیا جاسکتا ہے۔۔۔؟ کچھ آزاد رہ کر قید رہے،کچھ قید رہ کر بول اٹھے۔۔۔میاں صاحب اگر اقتدار میں نہ ہوتے، اورلندن ہوتے،پھربتاتے پہلگام میں دہشتگردی کس نے کرائی۔۔۔جیسے ممبئی حملوں کا بتایا تھا۔محترمہ نے ایک جلسے میں نعرے لگوائے تھے۔۔۔یہ جو دہشتگردی ہے،اسکے پیچھے۔۔۔۔عوامی تنقید پر بڑے میاں کا گروپ میدان میں آیا،عظمیٰ بخاری پہلے نمبرپر رہیں،عرفان صدیقی بس چندنمبروں کی وجہ سے دوسرے نمبرپر آئے ’’ جنگ کی ساری پلاننگ تو نوازشریف نے کی تھی ‘‘۔۔۔چھوٹے میاں کا گروپ بھی انہیں’’ مین آف دی میچ‘‘ قراردینے کی کوشش کرتارہا۔۔۔پھر ہوا کیا۔۔۔۔عسکری قیادت کو ساتھ کھڑاکرکے،انہیں تھپکی دیکر وزیراعظم کو کہنا پڑا۔۔۔’’ اللہ دی قسمیں !! میں دل وجان سے کہہ رہاہوں،جنگ کی ساری پلاننگ سپہ سالار جناب حافظ عاصم منیر صاحب نے تیار کی تھی‘‘ ۔۔۔اندیشہ ہے،جنگ ابھی رکی نہیں،وقفہ آیا ہے،مودی رکے گا نہیں،جتنا بھارت ذلیل ہورہا ہےدنیا بھر میں،صرف بھارت نہیں،اس کے دوست،اس کے سرپرستوں کا بھی منہ کالا ہوا ہے،بابا جی کہہ رہے تھے،بیٹا نہ پاکستان جیتا ہے نہ بھارت ہارا ہے۔۔۔چین جیتا ہے،امریکا ہارا ہے۔۔۔عالمی مفکرین بھی یہی کہہ رہے ،بھارتی عوام مشتعل ،چند دنوں تک جلاؤگھیراؤ ہونے کا امکان،کروڑوں عوام سڑکوں پر آجائیں گے،مودی کا اقتدار اور جنتا پارٹی داؤ پرلگ گئی،امت شاہ اوریوگی آدتیہ ناتھ آئندہ وزارت عظمیٰ کے امیدوارہیں،امریکا،اسرائیل اور یورپ کے ’’ مشترکہ کھلاڑی ‘‘ کو شکست ہوئی ہے،وہ کب تک برداشت کرینگے،پاکستان توپہلے ہی ان ممالک کوکھٹکتا ہے،اب اس نے ان کے ’’ ایشین تھانیدار‘‘ کو چھتر مارے ہیں، زخمی سانپ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔۔۔عسکری قیادت اور عوام کو آنکھیں کھلی رکھنی چاہیے۔۔۔سب سے اہم بات،ایسے مواقع پردلیر اورمقبول سیاسی قیادت چاہیے،فوجی افسروں نے چند دنوں میں سب کچھ دیکھ لیا،کون آزاد رہ کر گونگےبنے رہے،کون قید ہوکربولتےرہے،وردی والے یہ بھی جانتے،کون دلیر،کون مقبول۔۔۔بنتا تویہی ہے،مقبول کو قبول کرلیا جائے۔۔۔ملک،قوم،فوج کیلئے یہی بہتر ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button