لفظوں کی جنگ میں فتح کسی بھی فریق کی ہو، شہید ہمیشہ سچائی ہوتی ہے۔
راحت اندوری کہتے ہیں۔۔۔!!
سورج سے جنگ جیتنے نکلے تھے بےوقوف
سارے سپاہی موم کے تھے گھل کے آ گئے
پڑھا کریں !! تاکہ فکرزنگ آلود نہ ہو۔۔۔ پڑھا کریں !! تاکہ جہالت سے سر اٹھاتے سرکش لہجوں ،بدلحاظ لفظوں اور بدتہذیب عادتوں کو مہار کرسکیں۔۔۔ پڑھا کریں !! تاکہ باشعور مزاجوں سے آشنائی پیدا کرکے زیست سے بدظن ہوکر نہ مریں۔۔۔جو پڑھتے نہیں، وہ سوچتے نہیں،جو سوچتے نہیں، وہ ’’ کھلے خط ‘‘ کا مطلب سمجھ نہیں پاتے،جو سوچتے نہیں،انہیں معلوم ہی نہیں ، ادب تو زیادہ تر جیلوں میں ہی لکھا گیا ہے۔۔۔اوپر سے لیکرنیچے تک ہم انفرادی اور اجتماعی، دونوں حوالوں سے بہادر اور بے وقوف واقع ہوئے ہیں۔۔۔ ہم بہادر ہیں رونے والی باتوں پر ہنستے ہیں اور بے وقوف ہیں ہنسنے والی باتوں پر روتے ہیں۔ دراصل ہمیں علم ہی نہیں کہاں ہنسنا ہے اور کہاں رونا ہے؟۔ کس سے کیا پوچھنا ہے اور کیا نہیں پوچھنا، جن باتوں پر قومیں احتجاج کرتی ہیں ہم جشن مناتے ہیں، جس بات پر لوگ اپنے لیڈروں کا گریبان پکڑتے ہیں ہم ان باتوں پر اپنے لیڈروں کے پاؤں پکڑتے ہیں، جن باتوں پر لوگ حکمرانوں پر جوتے برساتے ہیں ہم پھول برساتے ہیں اور جس چیز پر رونا چاہیئے اس سے لطف لیتے ہیں۔۔۔۔کھلا خط کیاہوتا ہے۔۔۔؟صحافت کی دلدل میں پھنسے عرصہ بیت گیا،سینکڑوں کھلے خط پڑھ چکے،اخبارات کے پہلے صفحے پر شائع ہوا کرتے تھے،آرمی چیف کے نام،چیف جسٹس کے نام،وزیراعظم کے نام،وزیراعلیٰ کے نام،اب ڈیجیٹل میڈیا کا دور،اب کھلے خط اخبارات کے بجائے،سوشل میڈیا پر آگئے۔۔۔ کھلا خط ایک ایسا خط ہوتا ہے جو کسی مخصوص فرد، گروہ یا ادارے کو مخاطب کرکے لکھا جاتا ہے لیکن اسے نجی طور پر بھیجنے کے بجائے عوام کے سامنے شائع کیا جاتا ہے، کھلا خط لکھنے کے مقاصد میں کسی مسئلے پر وسیع پیمانے پر بحث شروع کرنا، عوامی آگہی پیدا کرنا، کسی شخصیت یا ادارے کو عوامی سطح پر جواب دینے پر مجبور کرنا، کسی پالیسی یا رویے میں تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالنا، کسی خاص معاملے پر عوامی حمایت حاصل کرنا یا کسی غلطی کی نشاندہی کرنا شامل ہوتے ہیں،مختصر۔۔۔ کھلا خط ارسال یا موصول نہیں ہوتا، شائع یا نشر ہوتا ہے۔۔۔سپہ سالار کویہ کہنے کی کیوں ضرورت پیش آگئی۔۔۔ ؟ ’’ مجھے کوئی خط نہیں ملا ‘‘۔۔۔ سمجھنے والے ہنس رہے ہیں،کیا پہلے تھوڑے مذاق ہورہے تھے۔۔۔؟۔۔۔اوپر سے عرفان صدیقی نےدہلا ماردیا۔۔۔ اچھےبھلے تھے، سیاست میں گئے تو حسن نثار نے لکھا تھا،میاں صاحب !! آپ ملک کا بہت کچھ کھاگئے،ہمارا عرفان تو واپس کردیں،شریفوں کے دوست شامی صاحب نے خود گواہی دی تھی،نوازشریف کے کمرے میں چیک بک کے علاوہ کبھی کوئی بک نہیں دیکھی،صدیقی صاحب پر نواز شریف کا رنگ چڑھ گیا۔۔۔کھلے خط کامطلب سمجھ نہ پائے یا سپہ سالارکی خوشامد میں ’’ جاہلیت‘‘ کا مظاہرہ کردیا۔۔۔۔چلوچھوڑوکھلے خط کو۔۔۔صدیقی صاحب کی اس بات پرزیادہ صدمہ پہنچا جب انہوں نے کہا جیل میں تو ایک لفظ لکھنا مشکل ہوتا ہے،عمران خان کیسے تیس،تیس صفحات کے خط لکھ رہا ہے۔۔۔صدیقی صاحب !! زیادہ تر ادب تو لکھا ہی جیلوں میں گیا ہے، روم کے فلسفی بوئیتھیس نے قید کے دوران پانچ کتابوں پر مشتمل ’’ کونسلیشن آف فلاسفی‘‘ جیسا عظیم ادب تخلیق کیا،جو ان کی موت کے بعد نو صدیوں تک دنیا پر اثر انداز ہوتا رہا۔۔۔مارکوپولو کی مہمات بھی جیل میں لکھی گئیں،ہسپانوی ناول نگار کیرونٹس نے اپنی مشہور تصنیف ’’ ڈان کوئگزوٹ‘‘ قید کے دوران لکھی۔سر والٹر سکاٹ ریلیگ نے لندن ٹاور میں گیارہ سالہ اسیری میں ’’ہسٹری آف ورلڈ‘‘ تحریر کی۔۔جان بنیان نے اپنی سوانح عمری قید کے دوران ہی لکھی،دوبارہ گرفتاری ہوئی تو شہرہ آفاق ’’ پلگرمز پراگرس‘‘ تخلیق کیا۔آسکر وائلڈ نے بھی دو سال جیل میں گزارے،اس دوران انہوں نے ’’ڈی پروفنڈی‘‘ لکھا جسے ایک شاہکار ادب کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔غالب نے بھی تین ماہ قید کاٹی،اس دوران انہوں نے فارسی میں کلام لکھا تھا۔بہادر شاہ ظفر نے اسیری کے دوران بہت زیادہ شاعری کی تھی۔علامہ فیض الحق خیر آبادی نے قید کے دوران عربی میں ’’ صورت الہندی ‘‘ لکھی۔جعفر تھانیسری نے بھی جیل میں ’’ نصائح جعفری ‘‘ لکھی لیکن اس کا مسودہ ضبط کرلیا گیا تھا۔۔۔بعد میں پھر انہوں نے قید کے دوران دو کتابیں لکھیں ’’ تاریخ پورٹ بلیئر‘‘ اور ’’ تاریخ عجیب ‘‘۔۔۔حسرت موہانی نے بھی قید کے دوران بہت ساری غزلیں اور نظمیں لکھیں،مولانا محمد علی جوہر نے دوران اسیری شاعری کے علاوہ ’’ مائی لائف اور اے فریگمنٹ‘‘ کتابیں لکھیں۔مولانا عبدالکلام آزاد نے دوران قید اپنی سوانح عمری لکھی۔۔۔’’ غبار خاطر’ اور کاروان خیال‘‘ بھی مولانا آزاد نے جیل میں ہی لکھے۔۔۔چوہدری افضل نے اپنی مشہور کتابیں ’’زندگی‘‘ اور ’’ محبوب خدا‘‘ جیل میں لکھیں۔۔۔مولاناظفر علی خان نے جیل میں ’’ حبسیات‘‘ لکھی۔فیض احمد فیض کی ’’دشتِ صبا‘‘ کا بڑا حصہ جیل میں تخلیق ہوا، ان کا تیسرا مجموعہ کلام ’’زنداں نامہ‘‘ قید کی مرہون منت تھا۔۔احمد ندیم قاسمی، حبیب جالب، علی سردار جعفری اور نعیم صدیقی نے بھی اپنی کئی نظمیں جیل میں لکھیں۔۔۔راجہ انورنے قید کے دوران ’’ چھوٹی جیل سے بڑی جیل تک ‘‘ کتاب لکھی۔۔۔یہ چند ایک مثالیں ہیں،زیادہ تر ارب قید کے دوران ہی لکھا گیا ہے،لیکن صدیقی صاحب فرماتے ہیں جیل میں تو کاغذ کا ایک ٹکڑانہیں لکھا جاتا۔۔۔مسئلہ صرف اتنا ہے، صدیقی صاحب بک سے چیک بک تک پہنچ چکے ہیں،جب بندہ چیک بک تک پہنچ جاتا ہے،پھر پڑھتا نہیں،جو پڑھتا نہیں وہ سوچتا نہیں،جو سوچتا نہیں وہ کھلے خط کا مطلب سمجھ نہیں پاتا۔۔۔
راحت اندوری کہتے ہیں۔۔۔!!
سورج سے جنگ جیتنے نکلے تھے بےوقوف
سارے سپاہی موم کے تھے گھل کے آ گئے۔۔۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔




Bohat alla column sattar Chaudhary sahib …!