بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

پارلیمانی آپریشن کلین اپ

میاں حبیب 

 

لکھنا تو آج طلبہ کے مسائل پر تھا لیکن سیاست جان چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہی روز نت نیا کٹا کھلا ہوتا ہے سیاست کی طرف آتے ہیں پہلے تھوڑی سی بات انٹر کے مظلوم بچوں کے بارے میں کر لیں آج کل یونیورسٹیوں میں داخلے ہو رہے ہیں اور انٹر کے طلبہ شدید دبائو کا شکار ہیں والدین علیحدہ سے پریشان ہیں والدین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی معیاری تعلیم ہے اور اس کے لیے والدین اپنا آپ بیچ رہے ہیں۔

آج کل تعلیم ایک کاروبار بن چکا ہے اور تعلیمی سرمایہ کار والدین کی اس نفسیات سے بخوبی واقف ہیں انھیں پتہ ہے کہ ہر کوئی اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے اپنی جائیداد رہن رکھنے کو تیار ہوتا ہے ہر کوئی قیمتی اشیاء فروخت کر کے بھی ہر صورت بچوں کو پڑھانا چاہتا ہے پرائیویٹ سیکٹر تو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے لیکن پبلک سیکٹر بھی اب پیچھے نہیں رہا مالی بوجھ اپنی جگہ لیکن جو زیادتی طلبہ سے انٹری ٹیسٹ کے نام پر ہو رہی ہے اس کا کسی کو احساس نہیں۔

ہر یونیورسٹی داخلے کے لیے اپنا انٹری ٹیسٹ لے رہی ہے اگر ایک ہی انٹری ٹیسٹ ہوتا تو پھر بھی کسی حد تک قابل قبول تھا جس طرح میڈیکل میں داخلے کے لیے ایک ہی ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ ہے لیکن یہاں تو ہر سبجیکٹ کا علیحدہ سے انٹری ٹیسٹ ہے اور ہر انٹری ٹیسٹ کے لیے ایک ہزار سے تین ہزار فیس ہے۔

اگر ایک طالب علم کو دس یونیورسٹیوں میں اپلائی کرنا ہو اور تین چار مضامین کا آپشن ہوتو اس کے چالیس پچاس ہزار گئے مالی بوجھ اپنی جگہ لیکن نت نئی طرز کے ٹیسٹوں نے بچوں کو پاگل کر چھوڑا ہے حکومت تعلیم کو عام کرنے کا سلوگن دیتی ہے لیکن یہاں تو ہر مرحلہ پر تعلیم کے راستے میں سپیڈبریکر کھڑے کر دیے گئے ہیں۔

لگتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کو ہمارے امتحانی سسٹم پر اعتبار نہیں اس لیے ہر مضمون میں داخلے کے لیے علیحدہ علیحدہ انٹری ٹیسٹ رکھے گئے ہیں اگر داخلے انٹری ٹیسٹ کی بنیاد پر ہی ہونے ہیں تو پھر امتحانی سسٹم ختم کر کے انٹری ٹیسٹ ہی لے لیے جائیں امتحانات کی لمبی مشق علیحدہ سے کی جا رہی ہے اور انٹری ٹیسٹ کا شغل علیحدہ سے لگایا ہوا ہے بچوں کو آگے بڑھنے کے لیے ان کے سہولت کار بنیں نہ کہ انھیں بدظن کرنے کے لیے نت نئی رکاوٹیں کھڑی کریں، ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ وہ اس بارے ضرور سوچیں والدین اور طلبہ کی مشکلات کو آسان کریں۔

اب آتے ہیں سیاسی معاملات کی طرف پیر کے روز پارلیمنٹ کا عالمی دن تھا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عالمی دن کے حوالے سے پارلیمنٹ کی اقدار کو مضبوط بنانے کے لیے کچھ کیا جاتا لیکن اس روز بہت کچھ ایسا ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا ساہیوال سے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار چوہدری عثمان مور کے انتخابی نشان پر کامیاب ہوئے تھے انھوں نے تحریک انصاف کی قیادت کو قرآن پر حلف دیا تھا کہ وہ اپنی وفاداری تبدیل نہیں کریں گے اور تحریک انصاف کے ساتھ ہر قسم کے حالات میں کھڑے رہیں گے چوہدری عثمان نے پارلیمنٹ کے عالمی دن پر وزیراعظم سے ملاقات کرکے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کر دیا ۔

فنی طور پر وہ آزاد رکن اسمبلی تصور کیے جاتے ہیں لیکن اخلاقی طور پر وہ تحریک انصاف کے ووٹوں سے منتخب ہوئے تھے انھیں تحریک انصاف کے ساتھ کھڑا رہنا چاہیے تھا بات چوہدری عثمان کی وفاداری تبدیل کرنے کی نہیں دراصل اب ایک نیا پنڈورا باکس کھولا جا رہا ہے چوہدری عثمان نے تحریک انصاف کے لوگوں کو راہ دکھائی ہے کہ اگر وہ اپنی وفاداریاں تبدیل کرکے حکومتی جماعت میں شامل ہو جائیں گے تو ایک تو وہ ہرقسم کی آزمائشوں سے محفوظ ہو جائیں گے اور دوسرا وہ اقتدار کے مزے انجوائے کریں گے انتظامیہ پولیس ان کے ہر حکم کی تعمیل کرے گی انھیں اپنے حلقے کی بادشاہی مل جائے گی کیونکہ اس وقت تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی پر خوف طاری ہے کہ نہ جانے کس کو 9مئی کی کیس میں فکس کر کے سزا دے دی جائے اور پھر وہ اسمبلی کی رکنیت سے بھی نااہل ہو جائے۔

لہذا اب توقع کی جارہی ہے کہ تحریک انصاف کا نیا امتحان شروع ہونے والا ہے کئی ارکان اسمبلی چوہدری عثمان کی تقلید کے لیے پر تول رہے ہیں دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے انھیں بجٹ اجلاس میں ہلہ گلہ کرنے کا ایسا سبق سکھایا جا رہا ہے کہ انھیں سمجھایا جا رہا ہے کہ اگر اسمبلی میں رہنا ہے تو خاموشی سے دہی کے ساتھ روٹی کھاتے رہیں جس نے چوں چراں کی کوشش کی اس کو قرار واقعی سزا ملے گی۔

بجٹ اجلاس میں شور شرابا کرنے کی پاداش میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے قائمہ کمیٹیوں کے چار چیئرمینوں کے خلاف عدم اعتماد کرکے انھیں فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ 13 سٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کو فارغ کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے توقع ہے کہ انھیں بھی فارغ کرکے تحریک انصاف کو اسمبلی کے بزنس سے فارغ کر دیا جائے گا۔

اس سے قبل تحریک انصاف کے 26 ارکان کو اسمبلی کارروائی میں خلل ڈالنے پر ان کو لمبے عرصے کے لیے معطل کر دیا گیا ہے ان کے 16 اجلاسوں میں شرکت پر پابندی لگا دی ہے اس کا مطلب ہے انھیں سال سوا سال کے لیے معطل کر دیا گیا ہے جبکہ 10 ارکان کو مائیک توڑنے اور بنچوں کو نقصان پہنچانے پر 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 105 ہے 26 ارکان کی معطلی کے بعد یہ تعداد 79 رہ گئی ہے اسمبلی کا اجلاس بلوانے کے لیے 93 ارکان کے دستخطوں سے ریکوزیشن دی جاتی ہے اب تحریک انصاف اسمبلی کا اجلاس بلوانے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہی اب حکومت کی مرضی ہے وہ اپنی مرضی سے جب چاہے اجلاس بلوائے یہ من مانی کی نئی پارلیمانی روایات متعارف کروائی جا رہی ہیں بظاہر تو حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ یہاں وہی کچھ ہو گا جو ہم چاہیں گے لیکن یہ سیاست اور جمہوریت کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں ہم نفرت کے بیج بو کر محبت کی فصل اگانا چاہ رہے ہیں اللہ پاکستان کی خیر کرے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button