انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

پاکستان امن چاہتا ہے، اپنی علاقائی خودمختاری اور سالمیت کا ہر قیمت پر تحفظ کرینگے :شہباز شریف

وزیر اعظم اور تاجک صدر کا مشترکہ تاریخ، ثقافت اور جغرافیہ پر مبنی برادرانہ تعلقات کی توثیق کرتے ہوئے جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار، سٹریٹجک شراکت داری کو ایک نئی سطح تک لیجانے کے عزم کا اعادہ

دوشنبے، اسلام آباد ( ویب ڈیسک) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت جنگی اقدام تھا، عالمی برادری غیر ذمہ دارانہ رویئے پر بھارت کی جواب دہی کرے۔ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، اپنی علاقائی خودمختاری اور سالمیت کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے، سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنا ہو گا۔
سی پیک کو وسطی ایشیا تک توسیع دینا چاہتے ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور جمہوریہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے مشترکہ تاریخ، ثقافت اور جغرافیہ پر مبنی برادرانہ تعلقات کی توثیق کرتے ہوئے جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور سٹریٹجک شراکت داری کو ایک نئی سطح تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے، تعلیمی روابط بڑھانے، ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے، معلوماتی ٹیکنالوجی میں اشتراک کو آگے بڑھانے اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے نئے امکانات کی تلاش پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ بیان کے مطابق تاجکستان کی حکومت کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف دوشنبے پہنچے تاکہ 29سے 31مئی 2025ء تک منعقد ہونے والی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس برائے تحفظ گلیشیئرز میں شرکت کر سکیں۔ وزیراعظم کے ہمراہ وفد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی اور سینئر حکام شامل تھے۔ دوشنبے پہنچنے پر تاجکستان کے وزیراعظم قاہر رسول زادہ نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم نے جمہوریہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے دوطرفہ ملاقات کی۔
قصرِ ملت پہنچنے پر صدر نے وزیراعظم اور ان کے ہمراہ وفد کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوئوں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امور پر بھی تفصیلی اور جامع تبادلہ خیال کیا۔ مذاکرات کے دوران، صدر اور وزیراعظم نے جولائی 2024ء میں وزیراعظم کے دوشنبے کے دورے کے دوران طے پانے والے تاریخی سٹریٹجک پارٹنر شپ معاہدے کو یاد کیا، جس نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور مشترکہ مفادات کو فروغ دینے کی ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔
دونوں رہنمائوں نے مشترکہ تاریخ، ثقافت اور جغرافیہ پر مبنی برادرانہ تعلقات کی توثیق کرتے ہوئے جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور سٹریٹجک شراکت داری کو ایک نئی سطح تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ دونوں ممالک اور عوام کو فائدہ ہو۔ دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا جو سیاسی، تجارتی و اقتصادی، توانائی، دفاع، سلامتی، اور علاقائی روابط کے شعبوں پر محیط ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے، تعلیمی روابط بڑھانے، ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے، معلوماتی ٹیکنالوجی میں اشتراک کو آگے بڑھانے اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے نئے امکانات کی تلاش پر اتفاق کیا۔
کاسا۔1000منصوبے کے حوالے سے دونوں رہنمائوں نے اسے علاقائی انضمام کے لیے ایک کلیدی منصوبے کے طور پر اجاگر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ 15مئی 2025ء کو دوشنبے میں منعقدہ کاسا۔1000بین الحکومتی کونسل کے اجلاس کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس منصوبے کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے مشترکہ عزم کا یقین دلایا۔ اقتصادی تعاون کے حوالے سے دونوں رہنمائوں نے دو طرفہ تجارت میں موجود غیر استعمال شدہ مواقع کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، تاجکستان مشترکہ کمیشن برائے تجارت، اقتصادی اور سائنسی و تکنیکی تعاون کے ساتویں اجلاس، جو دسمبر 2024ء میں اسلام آباد میں منعقد ہوا، میں ہونے والے فیصلوں کے مطابق تعاون کے نئے راستے تلاش کیے جائیں۔ دونوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ موجودہ ادارہ جاتی ڈھانچوں، بشمول بارہ مشترکہ ورکنگ گروپس کو موثر طریقے سے استعمال کر کے خاص طور پر تیل و گیس اور توانائی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جائے۔
دونوں رہنماں نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعاون کا خیرمقدم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مشترکہ سلامتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ انہوں نے دہشتگردی، سرحد پار منظم جرائم، اور انسانی و منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنمائوں نے علاقائی اور عالمی جغرافیائی و سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کیا اور خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ملکر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ تاجک،کرغیز سرحدی تنازع کے پرامن حل پر وزیر اعظم نے صدر کو اس سنگ میل پر مبارکباد دی اور مسئلے کو پرامن ذرائع سے حل کرنے میں صدر کی دانشمندی اور بصیرت کو سراہا۔ وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ تاریخی پیشرفت خطے میں تعاون اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گی۔ دونوں رہنمائوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی، شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم جیسے کثیر الجہتی فورمز پر تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور باہمی دلچسپی کے عالمی و علاقائی امور پر تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے تاجکستان کے ساتھ پاکستان کے تاریخی اور خوشگوار تعلقات کی توثیق کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تاجکستان کے ساتھ جاری باقاعدہ اور کثیر الجہتی روابط کو مشترکہ مفاد کے لیی نہایت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے وسطی ایشیائی خطے کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور اس مقصد کے لیے چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری کو علاقائی ربط کا کلیدی منصوبہ قرار دیا۔ وزیر اعظم نے صدر امام علی رحمن کو جنوبی ایشیائی خطے کی تازہ ترین صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمارا خطہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی اقدامات، جو 7مئی 2025ء سے جاری ہیں، کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ اقدامات جنگ کے مترادف اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ وزیر اعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے۔ انہوں نے دہرایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن اگر چیلنج کیا گیا تو وہ اپنی خود مختاری کا بھرپور دفاع کرے گا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازع کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کو خطے میں پائیدار امن کے لیے کلیدی قرار دیا۔
اس پر صدر امام علی رحمان نے کہا کہ وہ پاکستان کے مخلص دوست کی حیثیت سے مئی کے اوائل میں پیش آنے والے واقعات پر شدید فکرمند ہیں، اور انہوں نے علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کی شاندار قیادت کو سراہا، جو خطے میں امن و سلامتی کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ صدر امام علی رحمان نے ہر شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اعادہ کیا اور پاکستان کو ایک قابل اعتماد شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے اعلیٰ سطحی باقاعدہ روابط کا ذکر کرتے ہوئے سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت، پن بجلی پیداوار اور سیاحت کے شعبوں میں قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے آ بی سفارت کاری میں تاجکستان کی قیادت کے کردار کو سراہا اور 29تا 31مئی2025ء کو دوشنبے میں منعقد ہونے والی ’’ بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس برائے گلیشیئرز کے تحفظ‘‘ کے کامیاب انعقاد پر صدر تاجکستان کو مبارکباد دی۔ وزیر اعظم نے صدر علی امام رحمان کو اسلام آباد کے سرکاری دورے کی دعوت دی تاکہ تذویراتی مکالمہ جاری رکھا جا سکے اور کثیر الجہتی شراکت داری کو مزید گہرا کیا جا سکے۔ صدر مملکت تاجکستان نے وزیر اعظم شہباز شریف کے اعزاز میں ایک خصوصی استقبالیہ تقریب کا بھی اہتمام کیا۔ مزید برآں وزیراعظم نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آذربائیجان کے ساتھ تجارت، دفاع ، تعلیم ، صحت سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔
آذربائیجان پاکستان میں 2ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں آذربائیجان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد تاجکستان روانگی سے قبل لاچین ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ مزید برآں وزیر اعظم نے بھارتی سرپرستی میں شر انگیزی پھیلانے والے دہشتگردوں کو ہلاک صل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ مزید برآں وزیراعظم نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ امن مشنز کو درپیش خطرات اور چیلنجز پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن پر خصوصی پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن نہ صرف اقوام متحدہ کے امن دستوں کی جانب سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کے حصول میں دی گئی لاتعداد قربانیوں کی ایک یاددہانی ہے بلکہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال دنیا کے لیے ان امن دوستوں کے اہم کردار کا اعتراف ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ 181پاکستانی امن فوجیوں نے بین الاقوامی امن و سلامتی کے حصول میں اپنی جان کی لازوال قربانیاں دی ہیں۔ آج کے دن میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کی کامیاب پالیسیوں کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کرے اور اقوام متحدہ کی امن فوج کو ان تیزی سے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کے مطابق ڈھالنے کی کوششوں کو دوگنا کیا جائے۔ پاکستان امن مشنز کی حمایت جاری رکھے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button