پیما :ڈپٹی ڈائریکٹر امجد حسین کی مبینہ کرپشن،ملی بھگت سےدوست ہی انکوائری افسر مقرر
سی او او ، مصطفیٰ شیخ اور پیف سے ڈائریکٹر شفیق امجد حسین کے سہولت کار، گریڈ 17 کے افسر منصور الہیٰ زبانی طور پر انویسٹی گیشن افسرمقرر، ایف آئی اے سے تحقیقات کرائی جائیں:متاثرین
لاہور:(بیوروچیف/سیدظہیر نقوی)پنجاب ایجوکیشن انیشیٹو مینیجمنٹ اتھارٹی(پی ا ی آئی ایم اے) میں الٹی گنگا بہنے لگی ،قوانین کی دھجیاں بکھیرنے اور مبینہ کرپشن میں ملوث ڈپٹی ڈائریکٹر امجد حسین کیخلاف انکوائری کیلئے ادارے نے انہی کے دوست اورجونیئر کو انویسٹی گیشن افسر مقررکردیا۔
رپورٹ کے مطابق امجد حسین کی PEIMA میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر تعیناتی غیر قانونی اور قواعد کی صریح خلاف ورزی پر مبنی قرار دی گئی ،ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امجد حسین مسلسل مختلف اداروں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ہوتے رہے ہیں۔
پنجاب ایجوکیشن انیشی ایٹو مینجمنٹ اتھارٹی PEIMA میں گریڈ 18 کے افسر امجد حسین پر کرپشن کے سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد ادارے نے انکوائری کے لیے انہی کے قریبی دوست اور پیما میں ہی تعینات گریڈ 17 کے افسر منصور الہیٰ کو زبانی طور پر انویسٹی گیشن آفیسر مقرر کر دیا ۔
ذرائع کے مطابق امجد حسین اور منصور الہیٰ کے ذاتی تعلقات پرانی وابستگی ہے،حیرت کی بات یہ ہے کہ اس انکوائری میں منصور الہیٰ نے امجد کو شفاف چٹ دے دی ہے ۔ اب پیما کے ہی سی او او اور امجد کے بہی خواہ مصطفیٰ شیخ اور پیف سے ڈائریکٹر شفیق مل جل کر امجد کو مزید سہولیات دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
اس طرح کی انکوائری صرف ’’گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے‘‘ کے مترادف ہے یعنی نہ انصاف ہوگا اور نہ ہی کسی کو جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔
متاثرین اور شہری حلقوں نے مطالبہ ہے کہ اس کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے معاملہ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ یا فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے سپرد کیا جائے تاکہ غیر جانبدارانہ تفتیش ممکن ہو سکے۔فی الحال پیما انتظامیہ نے اس مطالبے پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔



