کامن ویلتھ رپورٹ، الیکشن کمیشن کاکرداراور عوامی مینڈیٹ
تحریر :عاطف عارف
پاکستان کی سیاست میں انتخابات ہمیشہ سے ہی تنازعات کا شکار رہے ہیں، لیکن 2024 کے عام انتخابات کو جس طرح متنازع اور مشکوک بنایا گیا، اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ عوام مہینوں سے یہ سوال پوچھ رہے تھے کہ آخر ان انتخابات کی شفافیت کہاں ہے؟ ووٹ کی امانت کس طرح لوٹی گئی؟ اور وہ کون سی طاقتیں ہیں جنہوں نے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا؟ ان سوالات کا ایک بڑا جواب گزشتہ دنوں کامن ویلتھ آبزرور گروپ کی رپورٹ کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس نے وہی حقائق تسلیم کیے جنہیں عوام پہلے دن سے دہرا رہے تھے۔ اس رپورٹ نے ثابت کر دیا کہ الیکشن 2024 کسی بھی طرح ایک آزادانہ اور شفاف انتخاب نہیں تھا بلکہ اسے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت متنازع بنایا گیا۔
کامن ویلتھ رپورٹ کے نکات
کامن ویلتھ آبزرور گروپ، جو عالمی سطح پر انتخابی عمل کی نگرانی کرتا ہے، اس کی رپورٹ کسی عام تبصرہ نگار یا مقامی تجزیہ کار کی رائے نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی ادارے کی تصدیق ہے۔ رپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ:
1. پی ٹی آئی کا انتخابی نشان چھین لیا گیا
یہ قدم محض ایک قانونی کارروائی کے پردے میں اٹھایا گیا، مگر درحقیقت اس کا مقصد ایک بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی دوڑ سے باہر کرنا تھا۔ کسی بھی جمہوری ملک میں انتخابی نشان چھیننا اس بات کے مترادف ہے کہ عوام کی رائے کو زبردستی محدود کر دیا جائے۔
2. گرفتاریوں اور دباؤ کی مہم
انتخابی عمل کے دوران پی ٹی آئی کے امیدواروں اور کارکنوں کی گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ انتخابی فضا کو غیر متوازن کیا گیا۔ جب ایک جماعت کو انتخابی مہم چلانے کا بنیادی حق ہی نہ دیا جائے، تو پھر نتائج کو شفاف کیسے کہا جا سکتا ہے؟
3. پولنگ کے دن انٹرنیٹ کی بندش
انتخابات کے دن انٹرنیٹ بند کرنا ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔ اس کا مقصد یہی تھا کہ فارم 45 کی تصاویر اور نتائج بروقت عوام تک نہ پہنچ سکیں۔ دنیا کے کسی بھی جدید جمہوری ملک میں انتخابات کے دن معلومات کی ترسیل پر قدغن نہیں لگائی جاتی، لیکن پاکستان میں ایسا کرکے انتخابی عمل کو مزید مشکوک بنا دیا گیا۔
4. فارم 45 اور فارم 47 میں ردوبدل
یہ شاید سب سے سنگین الزام ہے جسے رپورٹ میں تسلیم کیا گیا۔ فارم 45، جو پریزائیڈنگ افسران کے دستخط شدہ نتائج ہوتے ہیں، انہیں تبدیل کر کے فارم 47 میں مختلف نتائج درج کر دیے گئے۔ اس عمل نے پورے انتخابی عمل کو داغدار کر دیا اور عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا۔
یہ تمام نکات اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ 2024 کے انتخابات ایک آزادانہ اور شفاف انتخابی عمل نہیں تھے بلکہ ان میں طاقت کے زور پر نتائج تبدیل کیے گئے۔
الیکشن کمیشن کا کردار اور دوہرا معیار
اب آتے ہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی طرف، جس کا آئینی فرض تھا کہ وہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بناتا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آئی۔ ای سی پی گزشتہ 18 ماہ سے خاموش تماشائی بنا رہا۔ جب پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات بنائے جا رہے تھے، جب امیدواروں کو گرفتار کیا جا رہا تھا، جب فارم 45 کی خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں، تب ای سی پی کو اپنی آئینی طاقت یاد نہ آئی۔
لیکن جیسے ہی خیبر پختونخوا کی اینٹی کرپشن نے میرٹ پر ایک کارروائی کی، تو صرف 18 گھنٹوں کے اندر الیکشن کمیشن ایکٹو ہو گیا۔ اس نے نہ صرف خیبر پختونخوا حکومت کو خط لکھ کر مزید کارروائی سے روک دیا بلکہ اینٹی کرپشن کے عملے کے خلاف کارروائی کی دھمکیاں بھی دیں۔
یہ وہی الیکشن کمیشن ہے جو مہینوں تک عوامی شکایات پر کان نہیں دھرتا تھا، مگر جیسے ہی اس کے پسندیدہ بیانیے کو چیلنج ہوا، فوراً حرکت میں آ گیا۔ یہ دوہرا معیار عوام کے سامنے واضح کر دیتا ہے کہ ای سی پی کس طرف جھکا ہوا ہے اور اس کی ترجیحات کیا ہیں۔
خیبر پختونخوا اینٹی کرپشن کی جرات مندی
یہاں پر خیبر پختونخوا اینٹی کرپشن کے عملے کی جرات اور دلیری کو خراجِ تحسین پیش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے تمام تر دباؤ اور رکاوٹوں کے باوجود میرٹ اور قانون کے مطابق کارروائی کی۔ ایسے وقت میں جب ادارے دباؤ میں آ کر سمجھوتے کرتے ہیں، اینٹی کرپشن نے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھائی۔
اسی طرح کئی پریزائیڈنگ آفیسرز بھی تعریف کے مستحق ہیں جنہوں نے اصلی فارم 45 عوام کے سامنے پیش کر کے الیکشن کمیشن کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کیا۔ یہ اقدام آسان نہیں تھا، کیونکہ ایسے فیصلے کرنے والے افسران پر مختلف اطراف سے دباؤ ڈالا جاتا ہے، لیکن انہوں نے حقائق کو چھپانے کے بجائے سچ کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔
عوامی ردعمل اور سیاسی مضمرات
کامن ویلتھ رپورٹ اور الیکشن کمیشن کے اقدامات کے بعد عوامی سطح پر بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر انتخابات شفاف نہیں تھے، اگر مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، تو پھر یہ حکومت کس جواز کے تحت قائم ہے؟
یہ سوال صرف ایک جماعت یا ایک رہنما تک محدود نہیں ہے۔ یہ پاکستان کے ہر ووٹر کا سوال ہے۔ ووٹ دینے والے ہر شخص کا حق ہے کہ اس کا ووٹ گنا جائے اور اس کی رائے کو تسلیم کیا جائے۔ اگر یہ بنیادی اصول ہی پامال ہو جائے، تو پھر جمہوریت محض ایک دکھاوا بن کر رہ جاتی ہے۔
سیاسی سطح پر یہ صورتحال پاکستان کے لیے مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک ایسا نظام جس پر عوام کا اعتماد نہ ہو، وہ دیرپا نہیں ہو سکتا۔ اگر عوام کا یقین انتخابات سے اٹھ جائے تو پھر سڑکوں پر احتجاج ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے، اور یہی وہ صورتحال ہے جو کسی بھی ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
نتیجہ
کامن ویلتھ آبزرور گروپ کی رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ 2024 کے انتخابات شفاف نہیں تھے۔ الیکشن کمیشن کے دوہرے معیار نے اس حقیقت پر مزید مہر ثبت کر دی۔ خیبر پختونخوا اینٹی کرپشن اور بہادر پریزائیڈنگ افسران نے اپنی جرات سے یہ دکھا دیا کہ سچ کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی ادارے اپنی ساکھ بچانے کے لیے کوئی حقیقی قدم اٹھائیں گے یا پھر عوام کو ایک اور چوری شدہ الیکشن کے نتائج کو برداشت کرنا پڑے گا؟
پاکستان کے مستقبل کا دارومدار اسی سوال کے جواب پر ہے۔ اگر عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا، اگر ووٹ کی عزت پامال ہوتی رہی، تو پھر یہ بحران صرف سیاست تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
یہ لڑائی کسی ایک جماعت یا رہنما کی نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے ہر ووٹر کی لڑائی ہے۔ ووٹ کی عزت بحال کرنا اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانا ہی اس ملک کو حقیقی معنوں میں جمہوری بنا سکتا ہے۔



