بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

کیا اب حیران ہونے کی باری اسرائیل کی ہے ؟

ایازخان

بہت عرصے کے بعد فلسطین کے مسئلے کو عرب ممالک نے سنجیدہ طور پر لیا ہے ،اسرائیلی حملوں نے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے، ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، اور انسانی بحران اپنی انتہا پر ہے۔ اس سنگین صورت حال میں جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کو خریدنے اور فلسطینیوِں کی نقل مکانی کی بات کی اسی دوران عرب ممالک کی طرف سے ایسا منصوبہ پیش کیا جانا جو غزہ کی تعمیرِ نو اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کو یقینی بنانے کا ایک نیا راستہ دکھائے حیران کن ہے۔

یہ منصوبہ نہ صرف عرب ریاستوں کی جانب سے ایک بڑا سفارتی اقدام ہے، بلکہ اس نے یورپی ممالک کی بھی حمایت حاصل کر لی ہے۔
لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ ، جنہوں نے امریکی خارجہ پالیسی کو بدل کر رکھ دیا ہے, مڈل ایسٹ میں عرب ممالک کے ساتھ فلسطین میں مستقل امن کے معاہدے پر پہنچ کر دنیا کو حیران کر سکتے ہیں ؟

سعودی عرب اور مصر کی قیادت میں عرب ممالک نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 53 ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جو پانچ سال میں مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت غزہ میں بنیادی ڈھانچے کو بحال کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، اور اقتصادی ترقی کے لیے خصوصی زونز بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مستقل امن معاہدہ بھی زیر غور ہے تاکہ اسرائیلی کسی نئی جنگ کا آغاز نہ کر سکے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ منصوبے میں غزہ کے فلسطینیوں کو بے دخل کر کے علاقے کو ایک سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا، جہاں لگژری ہوٹلز اور تفریحی مقامات بنائے جاتے۔ یہ منصوبہ اسرائیل کی حمایت میں بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد فلسطینی شناخت کو مٹانا تھا۔ لیکن اب عرب دنیا نے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جو فلسطینی عوام کو تحفظ اور ایک بہتر مستقبل دینے پر مرکوز ہے۔

لیکن کیا ڈونلڈ ٹرمپ سعودی منصوبے کی حمایت کر سکتے ہیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی غیر متوقع موڑ لے رہی ہے۔ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے امریکہ کی عالمی پالیسی میں کئی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، جن میں یوکرین جنگ، نیٹو سے تعلقات، اور یورپ کے ساتھ امریکی سفارتی اور معاشی تعلقات شامل ہیں۔
اس کے علاہ ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی قیادت کو ایٹمی پروگرام پربت چیت کے لیے خط لکھنا اور ٹرمپ کے ایلچی ایڈم بوہلر کی سینئر حماس حکام سے اسرائیل کی لاعلمی میں ملاقات کو بھی ضرور دیکھنا ہو گا۔ بوہلر کی طرف سے حماس کی قید میں اسرائیلیوں کو قیدی اور اسرائیل کی قید میں فلسطینیوں کو یرغمالی کہنے پر بھی اسرائیلی میڈیا کو بہت تکلیف ہوئی۔
اس کے علاوہ روس نے گزشتہ ہفتے کہا کہ وہ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام اور مسلح گروہوں کی حمایت پر ہونے والے مذاکرات میں ثالثی کرنے میں خوشی محسوس کرے گا۔ اگر یہ پیش رفت ہوتی ہے تو روس کی یہ خوشی نیتن یاہو کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوگی ۔

اس پس منظر میں، مشرق وسطیٰ میں امریکی مؤقف میں تبدیلی کا بڑا امکان نظر آرہا ہے۔
ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ میں ایلچی اور پراپرٹی ٹائیکون اسٹیو وٹیکوف نے حالیہ بریفنگ میں عرب منصوبے کو قابل غور قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر کی طرف سے یہ ایک مثبت پہلا قدم ہے اور اس پر مزید بات چیت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ٹرمپ کا غزہ پر بیان دراصل مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو متبادل پیش کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش تھی، جس پر امریکہ غور کر سکتا ہے۔

اب اگر سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستیں ٹرمپ کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں کہ دو ریاستی حل امریکہ کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، تو وہ اسرائیل کی بجائے عرب منصوبے کی حمایت کر سکتے ہیں۔

یہ تبدیلی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگی، کیونکہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے سخت مخالف رہے ہیں۔ او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں عرب منصوبے کو باضابطہ طور پر اپنانے کا اعلان کیا گیا، جس میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اسرائیلی توسیع پسندانہ اقدامات کو مسترد کیا گیا۔ اجلاس میں عالمی مالیاتی اداروں سے کہا گیا کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے مالی امداد فراہم کریں، جبکہ 40,000 یتیم فلسطینی بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک بین الاقوامی فنڈ قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

او آئی سی نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کو نسل کشی کے مترادف قرار دیا جانا چاہیے اور عالمی برادری کو اس کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

یہ واضح ہو رہا ہے کہ یورپ اب امریکہ سے الگ خارجہ پالیسی اپنا رہا ہے۔ جہاں ماضی میں یورپی ممالک امریکہ کے ہر مؤقف کی حمایت کرتے تھے، اب وہ زیادہ متوازن پالیسی اپنا رہے ہیں۔ فرانس، برطانیہ، جرمنی، اور اٹلی نے عرب منصوبے کی حمایت میں مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ یہ غزہ میں تباہ کن حالات کو فوری اور پائیدار طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔

لیکن اہم سوال یہ بھی ہے کہ غزہ میں تعمیرِ نو کے دوران اور بعد میں کون تحفظ دے گا؟

اس وقت اسرائیلی حملوں سے فلسطینی عوام کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اور اسرائیل کسی بھی وقت فلسطنیوں پر حملہ کر کہ نئی تعمیرات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہےاور وہ سب امریکہ کی پشت پناہی کی بنیاد پر کرتا آیا ہے۔

اب جیسا کہ عرب اور مسلم ممالک اکٹھے ہیں تو کیا وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جو اسرائیل کو کسی ایسے معاہدے پر مجبور کریں جس سے فلسطین میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کی ممکنہ قیمت کیا ہوگی؟ اس حوالے سے ٹرمپ کی سودی عرب سے 1 ٹرلین ڈالر کی ڈیل کی بات کو نہیں بھولنا چاہیے۔

مسلم دنیا فلسطین کے لیے متحد ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اگر امریکہ نے سعودی عرب کے دو ریاستی حل کی حمایت کر دی، تو اسرائیل کو شدید سفارتی دھچکا لگ سکتا ہے۔ لیکن ایسا سوچنا قبل از وقت ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کوئی ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جس میں اسرائیل کو خوش کرنے کے لیے کچھ موجود نہ ہو۔
تو ابھی بہت کچھ دیکھنا باقی ہے۔ اگر عرب اور مسلم ممالک نے فلسطین کے حوالے سے اسی طرح اپنے موقف پر مشترکہ دبائو جاری رکھا تو فلسطین میں مستقل امن کے خواب کو حقیت میں بدلنا اتنا بھی مشکل نہیں۔ جتنا بنایا جا چکا ہے۔

اس وقت عرب ممالک اور مسلم دنیا کے پاس فلسطین میں مستقل امن حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے اور امید ہے کہ اس موقع کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button