لاہور ( بیوروچیف /سید ظہیر نقوی) گرینڈ ہیلتھ الائنس کے مظاہرین پر پولیس تشدد کے خلاف ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس سٹاف نے سرکاری ہسپتالوں کے آئوٹ ڈور وارڈز میں ہڑتال کر دی، جس کی وجہ سے مریضوں کو واپس لوٹنا پڑا۔ تفصیل کے مطابق جمعہ کے روز گرینڈ ہیلتھ الائنس کے مظاہرین پر پولیس کے تشدد کے خلاف ینگ ڈاکٹرز نے سرکاری ہسپتالوں کے آئوٹ ڈورز میں کمروں کو تالے لگا دیئے، نرسز اور پیرامیڈیکس سٹاف نے آئوٹ ڈور اور پرچی کائونٹر بند کر دیئے جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ہڑتال کے باعث سروسز ہسپتال، جناح ہسپتال، گنگا رام ہسپتال، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، چلڈرن ہسپتال، جنرل ہسپتال سمیت دیگر سرکاری ہسپتالوں کے آئوٹ ڈورز میں آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کو مایوس واپس لوٹنا پڑا۔ ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس کی ہڑتال کے باعث مختلف وارڈز میں داخل مریضوں کا علاج بھی بری طرح متاثر ہوا۔
ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کل پیر کے روز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ ادھر پنجاب اسمبلی کے سامنے گرینڈ ہیلتھ الائنس کی جانب سے احتجاجی دھرنا دیدیا گیا ، جس میں ہزاروں طبی ملازمین شریک ہیں۔ چیئرمین گرینڈ ہیلتھ الائنس ڈاکٹر سلمان حسیب نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہوتے، دھرنا اور ہڑتال جاری رہے گی۔ ڈاکٹر سلمان حسیب کا کہنا تھا کہ 35ہزار روپے تنخواہ پر کام کرنے والے مزدوروں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب کی پرائمری ہیلتھ کی سیکرٹری نادیہ ثاقب کے اقدامات سے صورتحال خراب ہوئی ہے، جو پرانے ملازمین کو نکال کر نئے افراد کو بھرتی کر رہی ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ نوکریاں دی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر سلمان کے مطابق، پنجاب کے تمام اسپتالوں کے آٹ ڈور آج بند رہے، جبکہ ایپکا کے صدور نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز خواتین مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا گیا اور تیزاب ملا پانی پھینکا گیا، جس کی سخت مذمت کی گئی ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پیر کے روز ( کل) محکمہ صحت یا ڈی جی ہیلتھ کے دفتر ریلی کی صورت میں جائیں گے اور ریلی کے رخ کا بڑا سرپرائز دیا جائے گا۔ اگر کسی ضلع میں احتجاجی ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تو ہسپتالوں کے انڈور سروسز بھی بند کر دی جائیں گی۔
ڈاکٹر سلمان حسیب کا کہنا تھا کہ پیر کے دن حکومت نے مختلف مراکز صحت ٹھیکیداروں کے حوالے کرنے کی تیاری کر رکھی ہے، لیکن اگر کسی ٹھیکیدار نے قبضے کی کوشش کی تو مظاہرین مزاحمت کرتے ہوئے انہیں باہر نکال دیں گے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات کرے تاکہ پنجاب کے مریضوں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔



