لاہور (ویب ڈیسک ) لاہور ہائیکورٹ نے زیر حراست ملزموں پرتشدد کی روک تھام اور پالیسی وضع کرنے کی درخواست پر فریقین کے وکلا کو 28 جنوری کو دلائل کیلئے طلب کرلیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے آمنہ لیاقت کی درخواست پر سماعت کی تو آئی جی جیل کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، عدالت نے درخواست گزار وکیل کو رپورٹ کی نقول فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے درخواست گزار وکیل اظہر صدیق کے پیش نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ جب بھی سماعت ہوتی ہے تو درخواست گزار وکیل پیش نہیں ہوتے اور پھر تاریخ نہ دینے شکایت کرتے ہیں،معاون وکیل نے بتایا وکیل اظہر صدیق بیماری کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تاحیات نااہلی کی سزا کو کم کرنے اور پانچ برس مقرر کرنے کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت کے وکیل کو اپنے موقف کے دفاع میں دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کر دی،مزید کارروائی 23 جنوری کو ہوگی۔
لاہور ہائیکورٹ نے آوارہ کتوں کو تلف کرنے کیلئے حکومتی پالیسی پیش کرنے پر درخواست نمٹا دی،جسٹس شاہد کریم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے رانا سکندر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست پر سماعت کی، سرکاری وکیل نے آوارہ کتوں کے حوالے سے پالیسی پیش کی اور بتایا آوارہ باؤلے کتے کو تلف کیا جائے گا، باؤلے کتے کا دنیا میں کوئی علاج نہیں، صوبہ بھر میں اس پالیسی پر عملدرآمد کیا جائے گا۔



