لاہور پریس کلب کے چار بار سیکرٹری اور ایک بار نائب صدر رہنے والے عبدالمجید ساجد کو چند روز قبل صبح سویرے ان کے گھر سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا پھر 8 گھنٹے بعد ٹھوکر نیاز بیگ کے پاس چھوڑ دیا گیا ۔
ابھی پچھلے ہی ہفتے کچھ صحافیوں کے بینک اکائونٹس منجمد کر دیئے گئے ہیں جن میں صدیق جان ، اسد طور ، سمیع ابراہیم ،صابر شاکر، اوریا مقبول جان شامل تھے اسد طور کی 80 سالہ والدہ کا بینک اکائونٹ منجمد کر دیا گیا جس میں ان کی پنشن آتی تھی۔
احمد نورانی کے بھائیوں کو مبینہ اغوا کیا گیا پھر ایک فلاپ فلم چلائی گئی کہ کچے کے ڈاکو احمد نورانی کے بھائیوں کو اٹھا کر لئے گئے تھے بعد ازں چھوڑ گئے ۔
عبدالمجید ساجد کے اغوا کار کون تھے اس بارے ساجد بھائی خود ہی بتائیں گے مگر قابل افسوس بات یہ ہے کہ فسطایت کا یہ بازار پچھلے 3 سال سے گرم ہے آزادی اظہار کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے ارشد شریف کی شہادت اور عمران ریاض کے چار ماہ لاپتہ رہنے سے فسطایت کا یہ سلسلہ شروع ہوا ۔
صیدیق جان، شاہد اسلم، سمیع ابراہیم ، اوریا مقبول جان، ایاز میر، شاکر محمود، اسد طور، فرحان ملک کو گرفتار کیا گیا، کاشف عباسی، عارف حمید بھٹی، پارس جہاں زیب آف ائر ہوئے ،ثمینہ پاشا کو نوکری سے نکال دیا گیا ۔
ڈاکٹر معید پیرزادہ ، صبابر شاکر، احمد نورانی، شاہد اسلم ،آفتاب اقبال، عمران ریاض، وجاہت سعید خان بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔
جبرہ فسطایت کا یہ بیہودہ ناچ جاری ہے مگر ریاست کے کان پر جوں تک نہیں رینگ پائی، پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں وکلا کی بار ایسوی ایشن اور صحافتی تنظیمیں کوئی موثر حکمت عملی تشکیل دینے میں ناکام ہیں حکومت اور ییت متدرہ نے میڈیا ما لکان کو اربوں روپے کے اشتہارات اور صحافی اور وکلا تنظیموں کو ہائوسنگ سوسائیٹوں کے چکر ویو میں الجھا کر پیکا کا کالا قانون نافذ کر کے آزادی اظہار کا گلا گھونٹ دیا ہے ۔
اب ایک کے بعد ایک اغوا ہوتا رہے گا جبری برطرفیاں ہوتی رہیں گی آف ائر کرنے کا سلسلہ چلتا رہے گا ، حرف آخر صحافی تنظیمیں ایک بات سمجھ لیں یا تو حکمرانوں کیخلاف جنگ کر کے اپنی بولنے کی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے یا پھر حکومت سے مراعات لیں جنگ اور اور مراعات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔



