اسرائیل نے بھوک کو جنگی ہتھیار بنالیا، بمباری بھی جاری، مزید108فلسطینی شہید: دھماکوں میں 2 یہودی فوجی ہلاک
غزہ میں قحط کی صورتحال انتہائی سنگین، صیہونی فوج کے دیر البلح میں عالمی ادارہ صحت کے دفاتر اور گودام پر حملے، عملہ گرفتار
غزہ، لندن (ویب ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے جاری ہیں، قابض فوج نے بچوں اور خواتین سمیت مزید 77 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ جبکہ اسرائیلی فوج نے بھوک کو بھی جنگی ہتھیار بنا لیا ہے، 24گھنٹے میں فاقہ کشی اور بھوک کے باعث بھی 4بچوں سمیت 51فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔
غزہ میں قحط کی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے، اسرائیلی فوج کی مستقل ناکہ بندی کے باعث مصر سرحد پر کھڑے امدادی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی جس کے باعث فلسطینی ایک وقت کی روٹی کو بھی ترس گئے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی اونروا نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں 10لاکھ سے زائد بچے شدید بھوک کا شکار ہیں، اونروا کے مطابق مارچ سے اب تک اسرائیل نے صرف محدود مقدار میں خوراک اور انسانی امداد غزہ میں داخل ہونے دی ہے جو موجودہ ضروریات کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔ اونروا نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ فوری اور بلا تاخیر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ معصوم جانوں کو بچایا جا سکے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج نے بربریت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے غزہ میں عالمی ادارہ صحت کے دفاتر اور گودام پر حملہ کرتے ہوئے عملے کو گرفتار کر لیا۔ عالمی ادارہ خوراک کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے وسط میں واقع دیر البلح میں اس کے عملے کے رہائشی مقام اور مرکزی گودام پر تین بار حملے کیے۔
ادارے کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہا نوم نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ اسرائیلی فوج نے دیر البلح میں عالمی ادارہ صحت کے عملے کے رہائشی مقام پر تین بار دھاوا بولا اور مرکزی گودام کو بھی نشانہ بنایا، اسرائیلی فوج نے عملے کے ایک مرکز میں گھس کر خواتین اور بچوں کو پیدل جنوب کی طرف جانے پر مجبور کیا، مرد عملے اور ان کے اہل خانہ کو ہاتھ پائوں باندھ کر کپڑے اتار کر موقع پر تفتیش کی اور بندوقوں سے زدوکوب کیا۔ ٹیڈروس کے مطابق 32افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، لیکن اسرائیلی فوج نے عملے کے دو ارکان اور ان کے دو اہل خانہ کو حراست میں لے لیا، تین کو بعد میں رہا کر دیا گیا جبکہ ایک اب بھی گرفتار ہے، ادارے نے فوری رہائی اور عملے کی مکمل حفاظت کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر برطانیہ، فرانس، جاپان سمیت 28ممالک نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور امدادی سامان کی تقسیم کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں اسرائیل سے غزہ پٹی پر مسلط جنگ فوری طور پر روکنے اور امدادی سامان کی ترسیل کا مطالبہ کیا گیا۔ اعلامیے کا آغاز اس مطالبے سے ہوتا ہے کہ غزہ میں فوری جنگ ختم ہونی چاہئے، اسرائیلی حکومت کا غزہ میں امداد کی ترسیل کا نظام خطرناک ہے جو عدم استحکام کو ہوا دیتا ہے، یہ نظام انسانی وقار کے منافی ہے۔
مشترکہ اعلامیے پر جن ممالک کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے ہیں، ان میں آسٹریلیا، آسٹریا، بیلجیئم، کینیڈا، ڈنمارک، اسٹونیا، فرانس، فن لینڈ، آئس لینڈ، آئرلینڈ، اٹلی، جاپان، لٹویا، لتھوینیا، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، سلووینیا، سپین، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ کے علاوہ یورپین کمشنر برائے برابری، تیاری اور کرائسز مینجمنٹ شامل ہیں۔ادھر جنوبی غزہ میں حماس کے خلاف ملٹری آپریشن کے دوران دو مختلف واقعات میں 2اسرائیلی فوجی مارے گئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ پہلا واقعہ غزہ کے علاقے رفح میں پیش آیا۔ جہاں ملٹری آپریشن کے دوران جیسے ہی اسرائیلی فوج کی ٹیم ایک عمارت میں داخل ہوئی زوردار دھماکہ ہوگیا اور عمارت منہدم ہوگئی۔ واقعے میں 36سالہ سارجنٹ میجر ( ریزرو) ولادیمیر لوزا ہلاک ہوگیا۔ دھماکہ نصب شدہ بارودی مواد کے باعث ہوا۔ دوسرا واقعہ خان یونس کے علاقے میں پیش آیا جہاں ایک عمارت کو منہدم کرنے کے لیے اسرائیلی فوج کا بچھایا گیا بارودی مواد دھماکے سے پھٹ گیا۔ ہلاک ہونے والے فوجی کی شناخت 19سالہ سٹاف سارجنٹ امیت کوہن کے نام سے ہوئی ہے۔



