پاکستانتازہ ترینکالم

اصل مقصد

بے لگام / ستارچوہدری

تاریخ کا سبق یہی ہے ،تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا، ورنہ آج پیپلز پارٹی اور ن لیگ شادیانے نہ بجا رہے ہوتے،جب شیخ مجیب پر برے دن چل رہے تھے،بھٹو خوش تھے،مجیب نے کہا تھا،مسٹر بھٹو ! یاد رکھنا میرے بعد آپ کے باری ہے،تاریخ گواہ،بھٹو کی باری آئی،جب بے نظیر پر برے دن چل رہے تھے،میاں صاحب خوش تھے،بےنظیر نے کہا،میاں صاحب ! میرے بعد آپکی باری ہے،

تاریخ گواہ،نواز کی باری آئی،بلکہ دو،تین بارآئی،دونوں خاندانوں نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔۔۔اقتدار کی ہوس،جائیدادیں بنانے کا جنون،پیسے جمع کرنے کا پاگل پن۔۔۔ ایک دانا نے کہا اور سچ کہا،دنیا میں قحط روٹی اور پانی کا نہیں احساس کا ہے۔۔۔ ہر فرعون ڈوبتا ہے، ہرنمرود کیلئے ایک مچھر ہی کافی،یزید تھا،حسین ہے۔۔۔ریڑھی والا بھی جانتا تھا،سپریم کورٹ کیا فیصلہ دے گی۔

کوئی آئین،کوئی قانون،کوئی اخلاق،ایک پارٹی کی سیٹیں بانٹ دی گئیں،فیصلے کو چھوڑیں،بینچ ہی غیر آئینی اور غیر قانونی تھا،ریویو کا مطلب،نظر ثانی،نظر ثانی وہی کرے گا جس نے نظر اول کی ہو،جنہوں کی نظر اول تھی،فیصلہ دیا تھا،وہ بینچ میں شامل ہی نہیں تھے،کبھی ایسے ہوتا سنا یا دیکھا۔۔۔؟

ہر فرعون ڈوبتا ہے لیکن ہر عہد لازماً نئے چھوٹے بڑے فرعون پیدا کرتا ہے۔۔۔عدالت سے مرضی کے فیصلے کرنے کیلئےاربوں روپے خرچ کرکے26ویں ترمیم کی گئی تھی،فارم47کے فاتحین کو دوتہائی اکثریت مل گئی،اب27ویں ترمیم آئے گی،سنا ہے،اس ترمیم سے سرکاری ملازم ملک کا صدر بن سکے گا،شہر اقتدار سے کئی ماہ سے سیاسی پنڈت بتا رہے ’’ وہ ‘‘ صدر بننے جارہے ہیں،ویسے ان کا بنتا بھی ہے،ان کی جون میں مصروفیات ہی دیکھ لیں،تمام آثار نظر آرہے،ممکن ہے انکل سام نے تھپکی بھی لگا دی ہو،کافی عرصہ پہلے بابا جی سے پوچھا،کینگرو کورٹ کا کیا مطلب ہے ؟ وہ ہنسے اوربولے،پوچھا،آپ نے کبھی کینگرو نہیں دیکھا۔۔۔؟ دیکھا ہے۔۔۔۔اس کے جسم میں ایک تھیلی لگی ہوتی ہے۔۔۔ جی۔۔۔اس میں اپنے بچے کو رکھتا ہے۔ایک پارٹی ایسی ہے جس کی تین سیٹیں ہیں،معزز جج صاحبان نے گیارہ بنا دی ہیں

آئینی بینچ کے سربراہ ملتان کے رہائشی ہیں اسی شہر سےتعلق رکھنے والے اپنے کلاس فیلو ایک سول جج سے پوچھا،موصوف جج کیسے بنے تھے۔۔۔؟ انہوں نے قہقہ لگایابولے،یار وہ افتخار چوہدری کی بحالی کیلئے جب وکلا تحریک چلی تھی،وہ ملتان تشریف لائے،شاندار استقبال کیا گیا ان میں وہ بھی شامل تھے،افتخار چوہدری بڑے متاثر ہوئے اور انہیں پھر ہائی کورٹ کا جج بنا دیا تھا،بات میں وزن تھا،افتخار چوہدری نے ایسے ہی قاضی فائز کوچیمبرسے اٹھا کر سیدھا ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا تھا۔

تحریک انصاف کو یقین تھا،فیصلہ انکے خلاف آئےگا،عدالت کا بائیکاٹ کرنا چاہتے تھے،پھرسوچا،نہیں،لڑ کر ہاریں گے،ان طاقتور اداروں کے جسم پر جو ڈیڑھ انچ کی ’’چڈی‘‘ بچی ہے وہ بھی اتر جائے،مولانا کےمنہ سےرال ٹپک رہی،خیبرپختونخوا کی حکومت حاصل کرنے کے خواہشمند،جمع،تفریق کی جارہی، میں تو چاہتا،تحریک انصاف سے پختونخوا کی حکومت چھین لی جائے، ’’کنٹرول ڈیموکریسی ‘‘ کا ادھورا باب مکمل ہو۔۔۔طوطا اور طوطی کی کہانی آپ نے پڑھی ہوگی،اُلو نے طوطا کو کہاتھا،ہاں بھائی ! اب معلوم ہوا یہ بستی ویران کیوں ہوئی،مجھ پر ایسے ہی الزام لگتے رہے۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ نظام خراب ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نظام کو ایسے ’’خراب ‘‘نہیں بنایا گیا، بلکہ ایسا ’’چالاکی سے‘‘بنایا گیا ہےتاکہ مخصوص لوگوں کو فائدہ ہو اور عام انسان ہمیشہ پیستا رہے۔تعلیم کا نظام ایسا ہے کہ سوچنے والے پیدا نہ ہوں، بس نمبروں کے غلام ہوں۔انصاف کا نظام ایسا ہے کہ طاقتور بچ جائے اور کمزور گھسٹتا رہے۔معاشی نظام ایسا ہے کہ امیر امیرتر اور غریب غریب تر ہو جائے۔یہ سب ’’غلطی ‘‘نہیں ہیں، ’’منصوبہ بندی ‘‘ہے۔
اور یاد رکھو !!
اگر کسی نظام میں ظلم بار بار ہو رہا ہے، تو وہ حادثہ نہیں، وہی اصل مقصد ہے۔

نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button