پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاصحتعلاقائی خبریں

عمران کو آنکھ کی خطرناک بیماری ،بینائی متاثر ہونے کاخدشہ؟،پارٹی رہنمائوں،کارکنوں کوتشویش

اڈیالہ:(ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ’باوثوق صحافتی ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ تاہم اب تک جیل انتظامیہ یا ان کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں کی طرف سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا مکمل میڈیکل چیک اپ کیا تھا اور جیل انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کو فٹ قرار دیا تھا۔

جب بی بی سی نے اس بارے میں پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ٹیم میں شامل ارکان سے بات کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بارے میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

تاہم منگل کو پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ انھیں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی صحت سے متعلق تشویش ہے اور ان سے جیل میں ملاقات نہ ہونے کے باعث ان کی جماعت کے کارکنوں میں ’بے چینی پھیل رہی ہے۔‘

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ نہ نیا پاکستان بنا نہ پرانا واپس لوٹا اور نہ ہی ہائبرڈ نظام چل سکا ہے۔ میری گزارش ہے جو بھی بانی سے ملاقات کرا سکتا ہے ملاقات کرا دے۔ جتنا رخنہ ڈالا جائے گا حالات اتنے ہی خراب ہوں گے۔

اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا مزید کہنا تھا کہ آج پاکستان ریورس میں چلا گیا ہے، مجھے بانی کی آنکھ میں انفیکشن کی بات میڈیا سے پتہ چلی ہے اگر ایسا کوئی معاملہ ہے تو یہ تشویش کی بات ہے۔

جب ملاقاتیں ہوں گی تو سیاست ہوگی پھر مختلف باتیں بھی جنم لیں گی، فیملی کی ملاقاتوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے، پورا سسٹم جب ساکت ہو جائے عدلیہ کام نہ کرے تو عوام باہر نکلے گی، یہ وہ ملک نہیں جس کی لوگوں نے خواہش کی تھی۔

سیاست میں ایک دوسرے کو اسپیس دینی پڑتی ہے، جتنی مرضی قانون سازی اور آئینی ترامیم کریں، جب تک لوگوں کے دلوں میں آپ کی عزت نہ ہو اس قانون سازی کا کوئی فائدہ نہیں، اگر آپ آٹھ فروری تک ملاقاتیں بند رہیں تو کیا 9 فروری کو سیاست ختم ہو جائے گی۔

بانی نے اچکزئی صاحب اور علامہ ناصر کو مینڈیٹ دیا ہے ان کی جوڑی اب پوری ہوگئی ہے، دونوں اپوزیشن لیڈرز اب فیصلہ کریں گے کس کے ساتھ مذاکرات کرنے ہیں اور کب کرنے ہیں، 8 فروری کی کال واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، غیر ذمہ دارانہ بیانات نہیں دیئے جانے چاہیئے۔

کسی کا باپ کسی کی بہن جیسے الفاظ استعمال نہیں کیئے جانے چاہیئے، سب کو کہتا ہوں اپنی زبانوں پر قابو رکھیں، دہشتگردی کے ایشو پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے نہ نرم گوشہ ہونا چاہیئے۔

ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ کا ایک بیان ہے آپ نے بانی پی ٹی آئی کا سیل دیکھا ہے یہ کب کی بات ہے؟ جس پر بیرسٹر گوہر خان مسکرائے اور جواب دیتے ہوئے کہا پتہ نہیں۔ لیکن میں نے کہا تھا بانی نے کہا تھا ان کے سیل میں کیمرے لگے ہیں۔

ایک سوال پر کہا کہ ہیلتھ کے شعبہ میں میرے پاس اعداد و شمار نہیں کہ کے پی حکومت نے کتنے نئے ہسپتال بنائے لیکن ہیلتھ کارڈ کا اجراء بہت اچھا اقدام ہے۔ مجھے پچھلی دفعہ بھی لوگوں نے کہا شاید آپ کی ملاقات ہو جائے لیکن میں نے کہا اکیلا نہیں ملوں گا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا بچیوں کی شادی کی عمر میں مزید اضافہ ہونا چاہیئے، اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے لیکن فیملی لاز کے مطابق دوسری شادی پر بھی 6 ماہ سزا ہو سکتی ہے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button