بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ حکومت نہیں،بھتہ خور ہیں ،پاکستان میں پانچ بڑی فصلوں گندم،کپاس۔چاول۔گنا اور مکئی کی پیدوار میں نمایاں کمی ہوئی ہے،حالات ایسے ہیں کسان مقروض ہوچکے،تمام فصلیں مسلسل خسارے میں جارہی ہیں۔۔۔۔ورلڈ بینک کی رپورٹ پڑھ لیں،معلوم ہوجائے گافارم47 کے فاتحین قوم کے ساتھ کتنا بڑا جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔۔کیا اس بات سے غربت کااندازہ نہیں ہوسکا،قربانی کے جانور50فیصد کم فروخت ہوئے ہیں۔

تعلیم اورصحت کا بجٹ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے کم ہے،مطلب۔۔۔؟ہماری ترجیحات بھکاری پیدا کرنے میں ہے،تعلیم سے کیا لینا دینا،جھوٹ کتنی دیر چھپایا جاسکتا ہے،حکومت کو اپنے اعدادوشمار میں لکھنا پڑا،تحریک انصاف کے دور میں شرح نمو 6اعشاریہ18فیصد تھی، اب2اعشاریہ7 ہے۔۔۔وفاق کی پختونخوا سے بڑی زیادتی،بجٹ صرف پراپرٹی ڈیلروں،تاجروں کیلئے ہے،عام آدمی اور کسانوں کو تو مزید غربت کی دلدل میں دھکیل دیا گیا،ن لیگ والوں کو ایسے ہی لوگ پٹواری کہتے رہے،انہیں معافی مانگنی چاہیے،ن لیگ میں تو سائنسدان بھی شامل ہیں،جنہوں نے حال ہی میں چاولوں کی نئی اقسام دریافت کی ہیں،بہرحال میں تو مبارک باد دیتا ہوں۔۔۔
آنکھیں بند کرکے کبوتر سمجھتا ہے،وہ بلی سے محفوظ ہوگیا ہے،سینکڑوں بار لکھا یہ ستر کی دہائی نہیں،2025 ہے اور سوشل میڈیا کا دور،کیا حکومت سمجھتی ہے میڈیا کو اربوں روپے کے اشتہار دیکر اپنی کوتاہیوں،نالائقوں،جہالت پر پردہ ڈال لیں گے۔۔۔؟ نہیں،بھائی !! ایسا نہیں ہوسکتا،جس کو میری بات پر اعتراض ہو،وہ خود جمع تفریق کرکے دیکھ لے،زمین کی بوائی،بیج اخراجات،کھاد،ٹیوب ویل کے بجلی بل،مزدوروں کی مزدوری،کسان کی محنت،سب جمع کرلیں اور فصل کی قیمت منفی کرکے دیکھ لیں،کتنا نقصان ہوا۔۔۔؟
دوسال سے مسلسل آلو،مکئی،گندم،کپاس کی فصلیں خسارے میں جارہی ہیں،اسی لئے تو پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی ہے،پانچ بڑی فصلوں میں 13فیصد اوسط کمی ہوئی،کپاس میں30فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی جو70لاکھ بیلز رہی،گنے کی فصل میں 4فیصد کمی ہوئی جو84لاکھ ٹن رہی،چاول کی فصل میں ڈیڑھ فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ،پیدوار 90لاکھ ٹن رہی،مکئی کی پیدوار15فیصد کمی کے بعد82لاکھ ٹن رہ گئی،گندم کی پیدوار میں9فیصد کمی ہوئی اور گندم کی پیداوار 2کروڑ80لاکھ ٹن رہ گئی۔۔۔۔
زرعی ماہرین کے مطابق فصلوں کی پیدوار میں اتنی بڑی کمی25سال بعد ہوئی ہے،25سال قبل پیداوار میں کمی خشک سالی کی وجہ سے ہوئی تھی،اب حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔۔۔پاکستان میں زرعی شعبہ قومی جی ڈی پی میں23فیصد سے زائد حصہ رکھتا ہے اور ملک میں40فیصد کے قریب روزگار بھی فراہم کرتا ہے۔۔۔حکومت زراعت کے ساتھ کتنی مخلص؟ پنجاب حکومت کے ’’دلائل‘‘ سے اندازہ لگا لیں۔
وزیراعلیٰ کی مشیر سلمیٰ بٹ نے ایک پروگرام میں لائیو کہا تھا پنجاب میں 14کروڑ عوام ہیں اور ڈیڑھ ،دو ہزار کسان ہیں،ہم نے 14کروڑ کا سوچنا ہے۔۔۔اس سے آگے چلیں،اسی سلمیٰ بٹ صاحبہ نے چاولوں کی ’’ نئی اقسام ‘‘ دریافت کی ہیں،ادی پکی،پونی پکی،کچی،ادی کچی،پوری کچی،ٹوٹا،سنگل سٹیم،ڈبل سٹیم،رلہ۔۔۔۔
بجٹ میں سولر پر18فیصد ٹیکس عائد کردیا گیا،دنیا بھر میں حکومتیں ایسی اشیا پرٹیکس نہیں لگاتیں بلکہ سبسڈی دیتی ہیں،جیسے امریکا اور یورپ میں الیکٹرونک گاڑیوں پر سبسڈی دی جارہی،ہم نے بس سوچ رکھا،فائدہ چند افراد کو ہی پہنچانا ہے،اگر تمام افراد نے سولر لگا لئے تو بجلی کون خریدے گا۔۔۔۔؟ اگر کوئی بجلی نہیں خریدے گا تو آئی پی پیز مالکان اربوں روپے کیسے کمائیں گے
آئی پی پیز مالکان کون،کوئی وزیراعظم کا بیٹا،کوئی صدر کا پارٹنر،کچھ ان افراد کے فرنٹ مین ہیں۔بجٹ سے پہلے حکومت سروے رپورٹ جاری کرتی ہے،،دو تین ہی پڑھ لیں،اتنی گرمی میں دن کو تارے نظر آجائیں گے،ملک میں ساڑھے 7لاکھ افراد کیلئے صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے،پاکستان میں 38فیصد بچے سکول ہی نہیں جاتے،شرح خواندگی60فیصد ہے،بھارت میں شرخ خواندگی80فیصد،سری لنکا میں93فیصد،نیپال میں77فیصد،بنگلہ دیش میں80فیصد،ایران میں90فیصد،چین میں شرح خواندگی 97فیصد ہے،آپ یہ کہہ سکتے ہیں ایشا میں سب سے کم پڑھے لکھے لوگ پاکستان میں ہیں۔۔۔۔
حکمران ہمیشہ کہتے ہیں پنجاب،سندھ،بلوچستان،خیبرپختونخوا چار بھائی ہیں، تو پھر چاربھائیوں سے یکساں سلوک کیا جانا چاہیے،بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپیہ مختص کیا گیا ہے بلوچستان کے لیے 120 ارب روپے، سندھ کیلئے 65 ارب روپے، پنجاب کیلئے 15 ارب روپے جبکہ خیبر پختونخواہ کے لیے 55 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
ایک اور بری خبر،حکومت نے یوٹیوبر اور آن لائن پیسے کمانے والوں پر بھی ٹیکس عائد کردیا ہے،یوٹیوبر کیلئے حکومت کرتی کیا ہے جس کا ٹیکس لیا جائے،الٹا روز نیٹ بند،ایکس پر پابندی اور ٹیکس نافذ کردیا گیا،سرکاری ملازمین کی10فیصد تنخواہیں بڑھانے کیلئے آئی ایم ایف سے اجازت اور اپنی600فیصد تنخواہ بڑھانے کیلئے ذاتی فیصلے۔۔۔۔واہ۔۔۔پوری قوم کھڑے ہوکر تالیاں بجائے،بجٹ پر صرف ایک لائن میں تبصرہ کرسکتا ہوں۔۔۔اس بجٹ کا تعلق معیشت سے ہے نہ معاشی ترقی سے،بجٹ صرف پیسہ اکٹھا کرنے کیلئے آئی ایم ایف نے بناکردیا،حکومتیں تو عوام کو ریلیف دیتی ہیں،پیسہ تو بھتہ لینے والے بھی اکٹھا کرلیتے ہیں۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



