انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

امت مسلمہ، پاکستان اور امن کی آزمائش

عاصم رضا خیالوی

پاکستان ایک خواب، ایک نظریہ اور ایک امتحان ہے۔ لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والا یہ ملک، دو قومی نظریے کی پہچان، پہلا اسلامی ایٹمی ملک اور اسلام کے نام پر قربانی دینے والوں کی زمین ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں اسلام زندہ رہے کے نعرے بلند ہوتے ہیں، جہاں قومیں، زبانیں اور مذاہب سانس لیتی ہیں، اور اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے بیچ فرقہ واریت اور مفاد پرستی اتنی گہری ہے کہ دشمن اس تقسیم کا فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔
تاریخ کے صفحات دیکھیں تو ہر دور میں امت مسلمہ نے اتحاد کی کمی کی قیمت ادا کی۔ خلافت کے بعد اسلامی ریاستیں سیاسی اقتدار، مفاد پرستی اور بیرونی طاقتوں کے دباؤ میں بٹتی گئیں۔ سعودی عرب میں خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کے مقدس مقامات ہمیشہ مسلمانوں کی روحانی یکجہتی کا مرکز رہے۔

ایک روز میں نے اپنی گلی کے قریب ایک منظر دیکھا جو آج کی امت مسلمہ کی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ صبح چھے بجے کے قریب ایک بڑی گاڑی کے ساتھ پنجرے میں برائلر مرغیاں قید تھیں، جنہیں گوشت کی دکانوں میں سپلائی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا کہ جیسے ہی ترازو وزن پورا کرنے کے لیے تیار ہوا، ہر مرغی نے اپنی جان بچانے کی کوشش شروع کر دی۔ وہ ایک دوسرے کو دھکیلتی، آگے بڑھنے کی کوشش کرتی اور کچھ لمحوں کے لیے اپنی بقا کے جشن میں مصروف ہو جاتی۔

ایک مرغی خاص طور پر یادگار تھی: اس نے اپنی چونچ باہر نکالی، آنکھیں بند کر کے گہری سانسیں لیتی رہی، محسوس کر رہی تھی کہ جب تک اس کی چونچ باہر ہے، ترازو کا ہاتھ اسے نہیں پکڑ سکتا۔ اس کی زندگی اس لمحے کے لیے محفوظ تھی، مگر جیسے ہی ترازو کا وزن مکمل ہوا اور قصائی نے اپنا ہاتھ دوسرے پنجرے میں ڈال دیا، وہ مرغی دوبارہ اپنی جان بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہو گئی۔ یہ منظر نہ صرف ایک برائلر مرغی کی بقا کی کہانی تھی بلکہ ایک استعارہ بن گیا: مسلمانوں کی موجودہ حالت، جو اپنے مفادات اور خوف میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اصل خطرہ دشمن اور عالمی طاقتوں کا دباؤانہیں مسلسل خطرے میں رکھتا ہے۔

آج مشرق وسطیٰ ایک کھلے پنجرے کی طرح ہے۔ ایران، شام، یمن، عراق… ہر ملک ایک پنجرے میں بند برائلر مرغی کی مانند ہے، اور عالمی طاقتیں وہ قصائی ہیں، جو اپنے ترازو اور چھری کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایران پر پہلے اسٹمپ لگایا گیا، اس کا وزن ناپا گیا، پھر ترازو دوسرے اسلامی ممالک کی طرف بڑھا، ہر ملک ایک ایک کر کے اپنا انجام دیکھے گا، جب تک مسلمان خود آپس میں اتحاد قائم نہیں کرتے۔ اسرائیل کی ہٹ دھرمی، عالمی طاقتوں کی مفاد پرستی اور خطے میں امن کو تباہ کرنے کی سازشیں واضح ہیں۔ دنیا اپنی اپنی حفاظت اور مفاد میں اتنی بھوکی ہو چکی ہے کہ اگر کوئی رکاوٹ نہ آئی تو پوری دنیا کو آگ لگا دے گی۔

پاکستان اس وقت ایک مشکل ترین پوزیشن میں ہے۔ قرضوں کی بھاری ذمہ داریوں، سیاسی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کی پیچیدہ صورتحال، اور دفاعی و معاشی دباؤ کے درمیان پھنس گیا ہے۔ اگر پاکستان اپنا دفاعی زور مشرق وسطیٰ پر لگاتا ہے، تو کیا ہوگا؟ اگر نہیں لگاتا، تو بھارت کے ساتھ ایک بڑی جنگ کے خطرات پھر سامنے آئیں گے۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے گاؤں کا چودھری کسی چھوٹے بندے کو اپنے ساتھ کھانے پر بٹھا کر اپنے بڑے مفادات پورے کرتا ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو عالمی طاقتوں نے ٹیبلوں پر بٹھا کر کھانے کھلوا دیے، اب انہیں صرف ہاں یا نہ کہنا ہے، جبکہ ہر جواب زندگی اور موت کا تعین کرے گا۔

اگر امت مسلمہ نے اتحاد، بھائی چارہ اور بردباری کے اصول اپنانے میں تاخیر کی، تو عالمی طاقتیں ہر اسلامی ملک کو ایک ایک کر کے اپنے مفادات کے ترازو پر تولتی رہیں گی۔ ایران، پاکستان، شام، یمن… سب اپنی جانوں کی قیمت ادا کرتے ہوئے صرف عالمی طاقتوں کے کھیل کا حصہ بن جائیں گے۔ لیکن اگر مسلمان آج اپنے اختلافات، فرقہ واریت اور مفاد پرستی کو چھوڑ کر اتحاد کریں، تو یہ ترازو، یہ چھری اور یہ پنجرے کی صورتحال بدل سکتی ہے۔ پاکستان اور عالم اسلام ایک مضبوط بلاک کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، جو نہ صرف اپنی بقا کو یقینی بنائے بلکہ امن کا پیغام بھی دنیا تک پہنچائے۔

زندگی کی حفاظت، محبت، بھائی چارہ اور اتحاد ہی حقیقی طاقت ہیں۔ ہمیں ایک ایسے پاکستان اور ایک ایسے عالم اسلام کے لیے کام کرنا ہوگا جہاں کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے خوف یا نقصان میں زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہو۔ اگر ہم ایک ہو جائیں، تبھی عالمی طاقتوں کے پیمانے اور چھری کے ہاتھ کی دھونس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کا اصل پیغام یہی ہے کہ محبت، بردباری اور امن کے ساتھ ہر دل کو جوڑا جائے، ہر ہاتھ کو تھام کر دنیا میں امن قائم کیا جائے، اور ہر زندگی کی عزت برقرار رکھی جائے۔ پاکستان اور امت مسلمہ کی بقا اسی میں ہے کہ ہم سب ایک ہوں، اور امن کی بنیاد پر اپنی شناخت کو مضبوط کریں۔ ورنہ، ترازو، چھری اور پنجرے کے ہاتھ، ایک ایک کر کے امت مسلمہ کی زندگی کو ختم کر دیں گے، اور دنیا کے بڑے مفاد پرست طاقتیں اپنے مقاصد پورے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button