حماس،اسرائیل میں جنگ بندی،یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ،امریکہ،قطر کی تصدیق
غزہ (ویب ڈیسک )اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
قطر میں جاری مذاکرات کے آخری لمحوں میں قطری وزیراعظم نے حماس اور اسرائیلی وفود سے الگ الگ ملاقات کی جس کے بعد فریقین نے معاہدے پر رضامندی کا اظہار کر دیا،امریکی صدرجوبائیڈن اور قطری وزیر اعظم نے بھی معاہدہ کی تصدیق کی ہے۔
قطر ،مصر اور امریکہ کی ثالثی میں بات چیت کے کئی دور قطر میں ہوئے ہیں۔ حماس کے وفد کی سربراہی خلیل الحیہ کر رہے ہیں جبکہ اسرائیلی وفد میں سول حکام اور خفیہ ایجنسیوں موساد اور شین بیت کے سربراہ بھی شامل ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق معاہدہ تین مراحل پر مشتمل اور پہلا مرحلہ 6ہفتوں پر محیط ہوگا۔پہلے مرحلے میں حماس 33یرغمالیوں کو اوراسرائیل لگ بھگ ڈیڑھ ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جن میں عمر قید کے 250 قیدی بھی شامل ہوں گے۔ اسرائیل زخمیوں کو علاج کیلئے غزہ سے باہر سفر کی اجازت دے گا۔معاہدے کے دیگر اہم نکات کے مطابق اسرائیل ہر یرغمالی کے بدلے 30 فلسطینی قیدی اور ہر خاتون فوجی قیدی کے بدلے 50 فلسطینی قیدی رہا کرے گا۔
حماس اس مدت میں 33یرغمالیوں کو رہا کرے گی، پہلے مرحلے میں 19 سال سے کم عمر یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔ اسرائیل 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار 19 سال سے کم عمر افراد کو رہا کرے گا۔اسرائیل یومیہ 600امدادی سامان سے لدے ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دے گا۔دوسرے مرحلے میں حماس فوجی یرغمالیوں کو رہا کرے گا اور اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے مکمل انخلا کرے گی۔اسرائیلی فوج کی واپسی مرحلہ وار ہوگی۔
مصر کے ساتھ ملحقہ صلاح الدین محور (فلاڈلفیا کراسنگ) کیلئے علیحدہ سکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے اور شمالی غزہ سے غیر مسلح فلسطینیوں کوواپسی کی اجازت دی جائے گی۔معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت قطر، مصر اور امریکہ دیں گے۔
دوسرے مرحلے کے مذاکرات کا آغاز پہلے مرحلے کے 16ویں دن سے شروع ہو گا۔دوسرے مرحلے میں تمام باقی یرغمالیوں کی رہائی، مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوجیوں کے مکمل انخلا کے معاملات پر بات چیت ہو گی۔
دریں اثنا معاہدہ طے پا جانے کی خبر بریک ہوتے ہی غزہ کی پٹی اور اسرائیل میں شہریوں نے جشن منانا شروع کر دیا۔
غزہ میں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے اور قومی پرچم اٹھائے خوشی کا اظہار کیا اور نعرے لگائے۔



