جب ہلاکو خان نے بغداد کا محاصرہ کیا تو وہاں کے چوراہوں پرعلما یہ بحث کر رہے تھے کہ کوا حلال ہے یا حرام ؟ پھر ہلاکو خان نے حملہ کر دیا اور کھوپڑیوں کے مینار بنا دئیے، جب کوئی قوم فکری زوال کا شکار ہو جائے تو وہاں فضول بحثیں عام ہوتی ہیں۔۔۔
ایک دفعہ روسی مصنف انتون چیخوف سے پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک ناکام معاشرے سے کیا مراد ہے؟
انتون چیخوف نے جواب دیا۔۔۔!!
ناکام معاشروں میں ہر دانشمند ذہن کے خلاف ہزار احمق ذہن اکٹھے ہوجاتے ہیں۔۔۔ اور ہر باشعور لفظ کے مقابلے میں ہزار جاہل الفاظ گھڑ لیے جاتے ہیں، اکثریت ہمیشہ بیوقوف لوگوں پر مشتمل ہوگی جو دماغ کی طاقت کے بجائے جسمانی طاقت کے ساتھ عقلمندوں پر ہمیشہ غالب رہے گی ،ہر جگہ معمولی مسائل کو شعوری باتوں سے اوپر اٹھا کر بحث و تمحیص کا موضوع بنا لیا جاتا ہوگا، غیر معمولی اور قابل لوگوں کو متنازعہ بناکر انتہائی معمولی اور نااہل لوگ مرکز میں براجمان ہوں گے،تو پھر جان لیں کہ آپ ایک نہایت ہی ناکام معاشرےکی بات کر رہے ہیں۔۔۔
جب دہشتگرد جعفر ایکسپریس کے سینکڑوں مسافروں کو یرغمال بنائے ہوئے تھے،سوشل میڈیا پر انجینئر محمد علی مرزا،آفتاب اقبال،عمران ریاض،ارشاد بھٹی اور وغیرہ وغیرہ کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا مقابلہ چل رہا تھا،انکے فالورزکے درمیان یہ بحث چل رہی تھی کون بڑا دانشور ہے ؟۔۔۔اس سے آگے چلیں۔۔!!
قومی اسمبلی میں ملک کے وزیردفاع تحریک انصاف کو حسب معمول اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات ہونے کے طعنے دے رہے تھے،ملک بھر کی تمام خرابیوں کی جڑ عمران خان کو قرار دے رہے تھے،پی ٹی آئی کو ملک دشمن ہونے کے فتوے جاری کررہے تھے،وزیرمملکت برائے داخلہ بھی اپنے لیڈر کی خوشنودی کیلئے تحریک انصاف،عمران خان اور انکی اہلیہ کو’’ گالیاں‘‘ نکال رہے تھے۔۔۔اگلی بات پڑھیں۔۔۔!!
سوشل میڈیا پر دوسری بحث دو طبقوں کے درمیان چل رہی تھی،ایک طبقہ تحریک انصاف کے حامیوں کو دشمن ملک کی زبان بولنے والے، اور پی ٹی آئی کے حامی انہیں حقائق بتا کر جاہل قرار دے رہے تھے۔۔۔۔ سب سے اہم بات۔۔۔!!
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا جعفر ایکسپریس میں 440 لوگ تھے،ریلوے حکام نے اس تعداد کی تصدیق کی۔۔۔ پھر وزیراعظم نے کہا کہ 339 لوگوں کو بچا لیا گیا ہے،21شہید ہوگئے اور اس طرح یہ تعداد360 بنتی ہے،باقی 80 افراد کہاں ہیں ۔۔۔ ؟ یہ ہے حکومت کا سنجیدہ پن، شہباز شریف ڈی جی سے تعداد تو پوچھ لیتے،اگرکوئی اس بات پر سوال کرے گا کہ80 افراد کہاں اور کس کے پاس ہیں؟ تو اسے ملک دشمن قرار دے دیا جائے اور کہا جائے گا بھارت کی زبان بولتا ہے۔۔۔ اور اس کے خلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج ہوجائے گا،حکومت کی ایک اور سنجیدگی پڑھیں،پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ٹرین کا ڈرائیور شہید ہوچکا،چند لمحوں بعد ڈرائیورمنظرعام پر آگیا، لیکن کسی کو اس بات پر سوال کرنے کی اجازت نہیں،ورنہ پیکا۔۔۔حکومتی پالیسی ہے کیا۔۔۔۔؟ میری سمجھ میں یہی آتا ہے، پاکستان میں بُرا ہوتا ہے وہ پی ٹی آئی اور عمران کی وجہ سے ہوتا ہے، اور جو اچھا ہوتا ہے (اگر ہو تو) وہ ن اور پی پی اور ان کی وجہ سے ہوتا ہے، سب پاکستانیوں کو اس پر متفق ہو جانا چاہیے، ورنہ پیکا قانون کی گرفت، وہ غدار یہودی ایجنٹ اور بھارتی پٹھو کہلائے جائیں گے۔۔۔چلو ایک بات مجھے کچھ بہتر محسوس ہوئی،ڈی جی آئی ایس پی آر کی طویل پریس کانفرنس میں کسی کو ڈیجیٹل دہشتگرد،ملک دشمن نہیں کہا گیا،،سیدھی سادھی بات، ماضی کی پریس کانفرنس کی طرح اس بار تحریک انصاف کیخلاف کوئی بات نہیں ہوئی،اشاروں کنایوں میں بھی کوئی ذکر نہیں چھیڑا گیا،اس نیتجے پر پہنچا ہوں،ایک طرف سےسیز فائر ہوگیا ہے،بیرسٹر گوہر نے پریس کانفرنس کی تعریف بھی کردی،لگتا ہے اب کپتان کی طرف سے بھی مطلوبہ سیزفائر ہوجائےگا،پھر کچھ بات آگے بڑھے گی،یہ بہت ضروری،دہشتگردی کا جن جو بوتل سے ایک بار پھر باہر نکل آیا،قومی اتحاد انتہائی ضروری،ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریبان ہونے کے بجائے ملکی سلامتی کا سوچا جائے،سیاست ہوتی رہے گی۔۔۔
ہم سب لوگ ذرا ایک منٹ کیلئے اپنے گریبان میں جھانکیں، پھر روسی مصنف انتون چیخوف کی بات پڑھیں، ایسے لگتا ہے،انہوں نے پاکستانی معاشرے کی بات کی ہے، اور ہمیں ایک ناکام معاشرہ قرار دیا ہے۔۔۔اس کے بعد767 سال قبل سقوط بغداد سے پہلے عباسی خلافت کے دارالحکومت میں جو بحثیں چل رہی تھیں، سوچئیے آج کل ہم کیا کیا بحثیں کررہے ہیں۔۔۔؟سوچیئے،سوچنے پر کوئی پابندی نہیں، نہ ہی کوئی پیکا قانون نافذ ہوتا ہے،نہ ہی کوئی آپکو ملک دشمن قرار دے گا، انسان کے تمام جذبات ، احساسات اور خیالات سوچنے کے عمل سے پیدا ہوتے ہیں۔ سوچنے کا عمل ہمیں زندہ رکھتا ہے جب ہم سوچنا چھوڑ دیتے ہیں تو ہماری ذہنی موت واقع ہو جاتی ہے۔۔۔۔سوچوپاکستانیو۔۔۔۔!!
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



