پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

سینٹ: خواتین سے زیادتی،سرعام برہنہ کرنے پر سزائے موت ختم،پی ٹی آئی کا احتجاج

ہائی جیکر کو پناہ دینے پربھی سزائے موت ختم : وفاقی وزیرقانون،حوالگی ملزمان ، پاکستانی شہریت کے ترمیمی بل بھی منظور،این ایچ اے میں افسر کی 16سال سے ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کا انکشاف

اسلام آباد:(سیاسی رپورٹر ) سینٹ میں فوجداری قوانین ترمیمی بل 2025 منظور کر لیا گیا،ریپ کے ملزمان کےلیےموت کی سزا ختم، صرف عمرقید ہوسکے گی ، تحریک انصاف نے ریپ کے ملزمان کے لیے موت کی سزا ختم کرنے کی مخالفت کی اور احتجاج کیا۔

سینٹ کااجلاس ڈپٹی چیئرمین سید ال خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے فوجداری قوانین ترمیمی بل 2025 پیش کیا ۔ بل میں خاتون پر مجرمانہ حملہ کرنے یا سر عام اس کو برہنہ کرنے پر سزائے موت ختم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ خاتون پر مجرمانہ حملہ کرنے یا اسے سرعام برہنہ کرنے پر ملزم کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکے گا، ابتدائی طور پر وارنٹ جاری کیا جائے گا۔

جرم ناقابل ضمانت اور ناقابل مصالحت ہوگا جبکہ خاتون پر مجرمانہ حملہ کرنے یا اسے سرعام برہنہ کرنے پر مجرم کو عمر قید، جائیداد کی ضبطی اور جرمانہ ہو گا۔بل میں ہائی جیکر کو پناہ دینے والے کیلئے سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ہائی جیکر کو پناہ دینے والے کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جاسکے گا، ابتدائی طور پر وارنٹ جاری کیا جائے گا، جرم ناقابل ضمانت اور نا قابل مصالحت ہو گا اور مجرم کو عمر قید اور جرمانہ بھگتنا ہو گا۔

سینیٹرعلی ظفر نے کہا عورتوں سےریپ اور بےحرمتی کی سزائے موت کو عمرقید میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے، سنگین جرم ہے اس پر سزائے موت برقرار رکھنا چاہیے،ثمینہ ممتاز زہری نے کہاریپ اور دیگر کیسز میں سزائیں دینے کی شرح کم ہے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا سزا کی سنگینی جرائم کو نہیں روکتی، یورپ میں سزائے موت نہیں جرائم کی شرح دو فیصد ہے،پاکستان میں سخت سزائیں ہیں مگر جرائم کی شرح زیادہ ہے،ہمیں زمینی حقائق کو بھی دیکھنا چاہیے،عمر قید کی سزا بہت زیادہ ہے ، سزائے موت دینے سےکرائم کم نہیں ہو گا، ہمارے معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کے خلاف قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں ، اسلام میں جن واقعات میں سزائے موت ہے وہ قانون رہنا چاہیے،شریعت کے مطابق 4 جرم کے سوا کسی جرم پر سزائے موت نہیں ہونی چاہیے۔

جس کے بعدمجموعہ تعزیرات 1860 اور مجموعہ فوجداری 1898 میں مزید ترامیم کا بل فوجداری قوانین ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور کرلیاگیا۔ سینٹ نے حوالگی ملزمان ترمیمی بل بھی منظور کرلیا۔

تحریک انصاف نے مخالفت کی،سینیٹر علی ظفر نے کہا اگر کوئی ملک درخواست کرے تو ملزمان کو وہاں بھیج دیا جاتا ہے، دوسرے ممالک کے لوگ اپنے شہریوں کو بہت زیادہ تحفظ دیتے ہیں، ہم پاکستانی شہری دینے میں آسانی کیوں پیدا کر رہے ہیں، ہمارے مقصد اپنے لوگوں کے تحفظ کا ہونا چاہیے،بھیجنے کا کابینہ کی سطح پر فیصلہ ہونا چاہیے، قانون کے مطابق تو جوائنٹ سیکرٹری کے فیصلے پر لوگوں کو باہر بھیج دیں گے۔ سینٹ نے پاکستان شہریت ترمیمی بل بھی منظور کرلیا۔

بل کے مطابق پاکستان کی شہریت کو چھوڑنے والا ڈیکلریشن جمع کر کے دوبارہ پاکستان کی شہریت بحال کر سکتا ہے، متعلقہ شخص کا چھوٹا بچہ جس کی پاکستانی شہریت ختم ہو گئی تھی وہ بھی پاکستانی شہری بن جائے گا۔ایوان نے قائم مقام وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی کے خلاف تحریک استحقاق کا معاملہ بھی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو سپرد کردیا۔

وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ اکرم نے فیڈرل بورڈ برائے ثانوی تعلیم ترمیمی بل 2025 پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔وزیر مملکت عقیل ملک نے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی آرڈیننس ایوان میں پیش کیا۔آرڈیننس کو بل کی صورت میں قائمہ کمیٹی کے سپردکردیا گیا۔اجلاس میں این ایچ اے میں ایک افسر کے 16سے ڈیپوٹیشن پر تعنیات ہونے کا انکشاف ہوا۔سینیٹر شہادت اعوان نے ایوان بالا میں غیر قانونی تعیناتی سے متعلق سوال کرتے ہوئے کہا افسر کی سولہ سال سے تعیناتی سپریم کورٹ فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔

وفاقی وزیر علیم خان نےلاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو 15دن نہیں 15 منٹ میں فارغ ہونگے۔سینیٹر سیف اﷲ ابڑو نے کہا این ایچ اے میں اربوں روپے کی کرپشن کی جارہی ہے، این ایچ اے افسر قائمہ کمیٹیوں میں آکر جھوٹ بولتے ہیں، وزیر مواصلات ان افسران کیخلاف ایکشن لیں۔

وفاقی وزیر علیم خان نے کہا سینیٹر نے جس طرف توجہ دلائی ہے، اس پرایکشن لیا جائے گا۔لواری ٹنل منصوبے پر بات کرتے ہوئے وزیر مواصلات نے بتایا منصوبے کے پہلا اور دوسرا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے، تاہم نارتھ ایکسس پر 2ٹھیکیداروں کی عدالتی لڑائی کے باعث حکمِ امتناع رہا، جو اب ختم ہو چکا ہے اور جون سے کام دوبارہ جاری ہے۔

ٹی آر ون سے کلریک سٹاف کی سطح تک بھرتیوں سے متعلق سوال پروفاقی وزیر قانون اعظم نذیز تارڑ نے کہا وزیراعظم میرٹ پر بھرتیوں کیلئے پرعزم ہیں،کوٹے کے مطابق بھرتی کیلئے تعلیمی معیار پر پورا نہ اترنے والوں کیلئے بھی آسانی پیدا کی جائے گی، اگر ہم تعلیم پہ سمجھوتہ کرنا چھوڑ دیں تو ملک سنور جائے گا،اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آنے والی نسلوں کو سنوارنے کیلئے تعلیم پہ سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے وقفہ سوالات میں جواب دیتے ہوئے کہامیڈیکل کالجوں کی سالانہ فیس18 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، زیادہ فیس لینے والے میڈیکل کالجززائد رقم واپس کریں گے یا پھر آئندہ سال میں ایڈجسٹ کرنے کے پابند ہوں گے۔ اجلاس میں بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔

نکتہ اعتراض پربات کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے وفاقی دارالحکومت اور پنجاب میں بارشوں سے ہونی والی تباہی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت این ڈی ایم اے کی کارکردگی ناقص ہے ،اس معاملے پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

وزیر مملکت بیرسٹرعقیل ملک نے بتایا ای او بی آئی کے رجسٹرڈ ورکرز کی تعداد ایک کروڑ 16 لاکھ سے زائد ہے ،پنشن میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے،وزیراعظم نے ای او بی آئی کے معاملات سے متعلق کمیٹی بھی قائم کی ہے،اب گھریلو ملازمین کو بھی رجسٹرڈ کیا جائے گا، ای او بی آئی کی ملکیتی عمارتوں کی تعداد 49 ہے جبکہ 40 عمارتیں کرائے پر حاصل کی گئی ہیں۔

وزارت سمندر پار پاکستانیز میں اوپن میرٹ پہ بھرتیاں کی گئی ہیں ،بلوچستان کے کوٹے سے بھرتی نہ ہونے کے حوالےسے معلومات لیکر تفصیلات فراہم کر دی جائیں گی۔ایوان میں مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔ اجلاس سوموار کی شام پانچ بجے تک کیلئے ملتوی کردیاگیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button