انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

مقدس مقامات اور ان کا تحفظ

انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی دنیا نے امن کی تلاش کی، اُس کی بنیاد ہمیشہ مقدس عبادت گاہوں کے تحفظ پر رکھی گئی۔ قدیم تہذیبوں سے لے کر جدید عالمی قوانین تک یہ حقیقت تسلیم کی گئی کہ مذہبی مراکز انسانیت کے روحانی ورثے اور اجتماعی احساسات کے امین رہے ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران کئی شہروں میں ہسپتالوں اور بعض عبادت گاہوں کو ’’نیوٹرل زون‘‘ قرار دیا گیا تاکہ جنگ کی تباہ کاریاں ان تک نہ پہنچ سکیں۔ بعد ازاں جنیوا کنونشن 1949 نے مذہبی مقامات پر حملے کو جنگی جرم قرار دیا، اقوامِ متحدہ کے چارٹر 1945 نے مذہبی آزادی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا، اور یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج کنونشن 1972 نے ثقافتی و روحانی ورثے کے عالمی تحفظ پر زور دیا۔ یہ تمام اقدامات اس حقیقت کی تصدیق ہیں کہ عبادت گاہوں کی حرمت دراصل انسانیت کی حفاظت اور عالمی امن کے قیام کا بنیادی ستون ہے۔
موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی، شدت پسندی اور عالمی تنازعات اس تصور کو محض نعروں سے نکال کر عملی شکل دینے کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگر دنیا کو حقیقی امن چاہیے تو تمام مذاہب کے مقدس مقامات کو بین الاقوامی طور پر ’’مقدس شہر فری وار زون‘‘ قرار دیا جانا چاہیے۔ ایسے علاقے جہاں نہ جنگ ہوگی، نہ سیاست، نہ دشمنی—صرف انسانیت، عقیدت اور روحانیت کا احترام ہوگا۔ کیونکہ یہ وہ مقامات ہیں جن سے کروڑوں اور اربوں انسانوں کے جذبات وابستہ ہیں، اور کسی عبادت گاہ پر حملہ محض ایک مذہب پر نہیں بلکہ پوری انسانیت پر حملہ تصور کیا جانا چاہیے۔
حال ہی میں بھارتی ریاست پنجاب کے گورنر نے مورخہ 2026۔12۔01 کو نوٹیفیکیشن نمبر :Home-PS-20MISC/1/2025-3PB2/257 جاری کیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے تحت امرتسر (والڈ سٹی)، سری آنندپور صاحب اور تلونڈی صابو (تخت سری دمدمہ صاحب) کو ریاست کے ’’ہولی سٹیز ( Holy Cities)‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اور مختلف اشیاکے استعمال اور فروخت شراب اور اُس سے جُڑی نشہ آور اشیا، سگریٹ، تمباکُو اور گوشت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

اور وہاں بعض سرگرمیوں پر پابندی کی سفارش کی گئی۔ تاہم آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مقدس شہروں کو عالمی سطح پر جنگ سے پاک زون قرار دیا جائے۔ مگر پاکستان نے عملی ثبوت دیتے ہوئےحالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے کرتارپو صاحب اور ننکانہ صاحب کی طرف انڈیا کی جانب سے بھیجے گئے ڈرون حملوں کو ناکام بنا کر نہ صرف محفوظ بنایا۔ ساتھ ہی ساتھ انڈیا میں موجود ایسے شہر جہاں سری دربار صاحب گولڈن ٹیمپل وغیرہ جیسے گوردوارہ صاحبان موجود ہیں۔ ان کی طرف ایک پتھر بھی نہ پھینکا اور مسلم – سکھ دوستی (لیندے پنجاب اور چڑھدے پنجاب میں بھارتی فوج کی سازش کو ناکام بنایا) کو یقینی بنا کر لاکھوں نہیں کروڑوں انسانوں کی جان کو بچا لیا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ سکھ آبادی کے لحاظ سےدنیا کا پانچواں بڑا مذہب ہے۔ جس کے گورودھام / گوردوارہ صاحبان جو ست گورو صاحبان سے منسلک ہیں، پاکستان میں ہیں۔ جن میں گوردوارہ سری جنم استھان ننکانہ صاحب، گوردورہ سری جوتی جوت استھان سری دربار صاحب کرتارپور صاحب، گوردوارہ جنم استھان سری گورو رام داس چونا منڈی لاہور، گوردوارہ سری ڈیرہ صاحب وغیرہ جیسے بُہت سے گوردوارہ صاحبان سرِ فہرست ہیں۔ تاہم سِکھ برادری کے مقدس مراکز گوردوارہ جنم استھان سری ننکانہ صاحب، گوردوارہ جوتی جوت استھان سری دربار صاحب کرتارپور صاحب دنیا بھر میں سکھ مذہبی اور روحانی عقیدت کا مرکز ہیں۔ ان مقامات کو قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ’’مقدس شہر فری وار زون‘‘ کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام سے پاکستان اور بھارت جیسے حریف ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں امن کی فضا قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک اہم مثال اس وقت سامنے آئی جب مورخہ 2026۔02۔03 کو عالمی بینک کے صدر اجے سنگھ بنگا صاحب نے پاکستان کے شہر خوشاب، اندرون کابلی گیٹ کے قریب واقع تاریخی گوردوارہ سنگھ سبھا خوشاب کا دورہ کیا، جہاں ان کے آباؤ اجداد تقسیمِ ہند سے قبل آباد تھے۔ یہ گوردوارہ 1931 (بکرمی سمت ੧੯੮੮) میں تحریک سنگھ سبھا کے نتیجے میں قائم ہوا تھا، جس کا مقصد سکھ مذہب کو ہندو رسومات سے جُدا شناخت دینا، گوردواروں کو مقامی مہنتوں کے اثر سے آزاد کروانا، پنجابی (گورمُکھی) تعلیم کو فروغ دینا اور سکھ نوجوانوں میں شعور بیدار کرنا تھا۔ حکومتِ پاکستان اس گوردوارہ صاحب کی بحالی اور تحفظ کے ذریعے سکھ مذہب اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی عملی کوشش کر رہی ہے۔

ajay-singh

تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اقلیتوں کے مقدس مقامات کی حفاظت کو اپنی مذہبی، اخلاقی اور آئینی ذمہ داری سمجھا ہے۔ کرتارپور راہداری اس کا روشن استعارہ ہے، ایک ایسا راستہ جو زمینوں سے زیادہ دلوں کو جوڑتا ہے۔ گوردواروں کی تزئین و آرائش، زائرین کے لیے سہولیات اور سیکیورٹی کے انتظامات نے پاکستان کو محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک روحانی میزبان بنا دیا ہے۔

ajay-singh-1
حالیہ برسوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سیکیورٹی کے حوالے سے تعاون کے معاہدے عالمی سطح پر پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر اعتماد کا مظہر ہیں۔ یہ پیشرفت مسلم دنیا کے مقدس ترین مقامات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے اور بین المذاہب ہم آہنگی کا عملی اظہار بھی۔ جس طرح پاکستان اپنی سرزمین پر سکھ، ہندو اور مسیحی مقدس مقامات کی حفاظت کرتا ہے، اسی طرح عالمی روحانی مراکز کے تحفظ میں کردار ادا کر کے ایک نئے عالمی روحانی اعتماد کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری اس تصور کو تسلیم کرے اور اقوامِ متحدہ سمیت عالمی ادارے مذہبی مقامات کو ’’Holy Cities as Free War Zones‘‘ کا درجہ دیں تاکہ نہ صرف عبادت گاہیں بلکہ انسانیت کا اجتماعی شعور بھی محفوظ رہے۔ کیونکہ مقدس مقامات کا سیاست یا دشمنی کے لیے استعمال عالمی امن کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی لیے پاکستان کا پیغام واضح ہے:
We want peace — No terrorism, No racism, No battlefield.
یہ مطالبہ محض خواہش نہیں بلکہ عالمی امن کی بنیادی ضرورت ہے۔ لہٰذا مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، کربلا و نجف، بیت المقدس، ویٹی کن، شری کٹاس راج مندر، گوردوارہ جنم استھان سری ننکانہ صاحب اور گوردوارہ جوتی جوت استھان سری دربار صاحب کرتارپور صاحب کو آج کے عالمی خطرات کے پیش نظر ’’Holy Cities as Free War Zones‘‘ قرار دینا وقت کی اشد ضرورت ہے۔

ajay-singh-1
سب سے آخر میں، میری یہ رائے ہے کہ Ajay Singh Banga President of World Bank جیسی شخصیات کو امن کے حصول کی خاطر No War Zone یعنی (Holy Cities) جیسے علاقے نامزد کرنے کے لئیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، جو کہ اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاکہ پوری دُنیا میں بھارت کی جانب سے جاری جارحیت (یعنی UK, Canada, USA, Pakistan ) Transnatiinal Repression, Terrorism وغیرہ کو شکست دے کر امن کے جھنڈے کو لہرایا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button