انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

غزہ پر بمباری، مزید 60شہید: ترکیہ نے اسرائیل سے تجارتی تعلقات منقطع کر دئیے

بھوک سے 2 بچوں سمیت مزید 4فلسطینی انتقال کر گئے: اقوام متحدہ کا قتل عام کو نسل کشی قرار دینے کا مطالبہ

غزہ، نیویارک، انقرہ (ویب ڈیسک ) غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری تھمنے کا نام نہیں لے رہی، تازہ حملوں میں 61فلسطینی شہید ہوگئے۔، شہدا میں امداد کے متلاشی 19افراد بھی شامل ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں بھوک کی شدت سے مزید 4فلسطینی انتقال کر گئے جن میں 2بچے بھی شامل ہیں۔
ادھر اقوام متحدہ کے سیکڑوں ملازمین نے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ کو خط میں غزہ میں قتل عام کو نسل کشی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب ترک وزیر خارجہ حقان فدان نے کہا ہے کہ ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات منقطع کر دئیے ہیں۔ ترک پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے حقان فدان نے کہا کہ ترک بحری جہازوں کے اسرائیلی بندرگاہوں پر جانے اور اسرائیلی بحری جہازوں کے ترک بندرگاہوں میں آنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
حقان فدان نے مزید کہا کہ اسرائیلی طیاروں کے لیے ترکیہ کی فضائی حدود کے استعمال پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترک قوم فلسطینیوں کے دکھ اور درد کا احساس رکھتی ہے اور ترکیہ فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کے کسی بھی منصوبے کو مسترد کرتا ہے، چاہے یہ منصوبہ کسی کی بھی طرف سے پیش کیا جائے۔
ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف یہ فیصلہ غزہ پٹی میں جاری نسل کشی، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کے خلاف ردعمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی لامحدود حمایت پر غزہ کی پٹی پر قبضے کا اسرائیلی منصوبہ دو ریاستی حل کو ناکام بنانے کی کوشش ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے یمن دارالحکومت صنعا پر ایک بار پھر شدید بمباری کی ہے،
جس کے نتیجے میں یمنی حوثی تنظیم انصاراللہ سے وابستہ وزیراعظم احمد غالب تین ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے۔ جبکہ انصاراللہ نے اسرائیلی دعوے کی تردید کی ہے۔ صنعا میں درجنوں اسرائیلی طیاروں نے صدارتی کمپلیکس کے نزدیک میزائل اور ایندھن کے گودام اور پاور سٹیشن کو نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا ذرائع کے مطابق یمن میں حوثی تنظیم سے وابستہ وزیراعظم احمد غالب اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوئے، بتایا گیا ہے کہ انہیں ان کے گھر دارالحکومت صنعا کے جنوبی علاقے حدہ میں بمباری کے دوران نشانہ بنایا گیا۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق احمد غالب کو پچھلے سال 10اگست کو وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا اور حوثیوں کی سپریم سیاسی کونسل کے رکن بھی تھے جبکہ وہ یمن کی مرکزی بینک کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ واضح رہے کہ بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر بھی ان کی شہادت کے حوالے سے خبریں آرہی ہیں مگر انصاراللہ کے ذرائع ابھی تک اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکے۔ دوسری جانب، یمنی وزارت دفاع نے اپنے بیانات میں قیادت کو نشانہ بنانے کی بات کو قابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے عوام سے غزہ میں نسل کشی کے خلاف اور فلسطینی عوام کی بحالی کے لئے جذباتی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button