لاہور:(رپورٹ:عقیل انجم اعوان)علم وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے اور تعلیم وہ روشنی ہے جو فرد کو نہ صرف اپنی ذات کی پہچان عطا کرتی ہے بلکہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بھی بناتی ہے۔ موجودہ دور میںکچھ ادارے ایسے ہیں جو حقیقی معنوں میں تعلیم کو مقصدِ حیات بناکر نئی نسل کی کردار سازی اور ذہنی تربیت میں مصروف ہیں۔

انہی اداروں میں سے ایک روشن مثال’’کارنراسٹون سکول‘‘ ہے، جس کا حال ہی میں پاکستان کے معروف موٹیویشنل اسپیکر اور ماہر تعلیم قاسم علی شاہ نے دورہ کیا۔قاسم علی شاہ کا تعلق ان افراد میں ہوتا ہے جو صرف تقریریں کرنے تک محدود نہیں بلکہ وہ عملی زندگی میں بھی تعلیم، تربیت اور مثبت سوچ کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
کارنراسٹون اسکول کے دورے کے دوران انہوں نے نہ صرف ادارے کی کاوشوں کو سراہا بلکہ اپنے خیالات سے طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ کو حوصلہ بھی دیا۔قاسم علی شاہ نے کارنراسٹون سکول کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تین ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم دینا ایک عظیم اور قابل فخر کارنامہ ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ ادارہ صرف تعلیمی نصاب تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کی ہمہ جہت تربیت کے ذریعے انہیں عالمی سطح پر مقابلے کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ یہ وہ خواب ہے جو ہر قوم دیکھتی ہے لیکن صرف چند ہی قومیں اس کو حقیقت میں بدلنے کی سکت رکھتی ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کارنراسٹون سکول کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ میں مثبت رویہ، تنقیدی سوچ، خود اعتمادی اور مسائل حل کرنے کی مہارت جیسے بنیادی عناصر کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔
آج کے تیز رفتار اور بدلتے ہوئے دور میں یہ صلاحیتیں کسی بھی کامیاب فرد کی شناخت ہوتی ہیں۔ جو ادارہ طلبہ کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ عملی زندگی کی چیلنجز کا سامنا کرنے کی تربیت بھی دے وہی ادارہ درحقیقت قوم کا معمار کہلانے کا حق رکھتا ہے۔اس ضمن میں کارنراسٹون سکولز کی ڈائریکٹر وجیہہ رؤف کی کاوشیں خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں، جن کی قیادت، حکمت اور وژن نے ادارے کو ایک خواب سے تعبیر تک پہنچایا۔ وہ نہ صرف انتظامی معاملات کو خوش اسلوبی سے چلا رہی ہیں بلکہ تعلیمی معیار اور طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہر لمحہ سرگرمِ عمل ہیں۔
ان کی قیادت میں کارنراسٹو ن سکول ایک ایسا تعلیمی ماڈل بن چکا ہے جسے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے لیے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔قاسم علی شاہ نے اپنے تاثرات میں’’اسپیچ تھراپی‘‘ جیسے جدید طریقہ کار کی موجودگی کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقہ علاج سے طلبہ کی ابلاغی صلاحیتیں نکھرتی ہیں وہ بہتر انداز میں اپنے خیالات کا اظہار سیکھتے ہیں اور اعتماد کے ساتھ گفتگو کرنے کے قابل بنتے ہیں۔
آج کے دور میں جب کہ بات چیت اور اظہار کی قوت سب سے اہم ہنر بن چکی ہے ایسے میں ’’اسپیچ تھراپی‘‘ جیسے اقدامات کسی انقلابی قدم سے کم نہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ کارنراسٹون سکول جیسے ادارے معاشرے میں ایک خوش آئند مثال ہیں۔ ان کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے معاشرے میں ابھی بھی ایسے افراد موجود ہیں جو تعلیم کو صرف کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر نئی نسل کی تربیت کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف تعلیمی میدان میں انقلاب برپا کر رہے ہیں بلکہ پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی فراہم کر رہے ہیں۔
قاسم علی شاہ کا یہ دورہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور وژن واضح ہو تو تعلیمی ادارے بھی تبدیلی کے مراکز بن سکتے ہیں۔ کارنراسٹون سکول کی کاوشیں، اس کا تعلیمی معیار اور طلبہ کی ہمہ جہت تربیت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ یہ ادارہ صرف ایک اسکول نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے۔ اور اس تحریک کو عملی شکل دینے میں وجیہہ رئوف جیسے رہنما کردار ادا کر رہے ہیں جنہوں نے معیاری تعلیم کو عوام کی دسترس میں لانے کا عزم کیا اور اس پر مستقل مزاجی سے کاربند ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر تعلیمی ادارے بھی کارنراسٹون سکول سے رہنمائی حاصل کریں اور تعلیم کو صرف نصابی حد تک محدود رکھنے کے بجائے طلبہ کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور عملی مہارتوں کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔ ملک و ملت کی ترقی ان اداروں کی مرہونِ منت ہے جو آنے والی نسل کو نہ صرف تعلیم دیتے ہیں بلکہ کردار بھی سنوارتے ہیں۔قاسم علی شاہ جیسے رہنما، وجیہہ رئوف جیسی وژنری منتظم اور ادارے جیسے کارنراسٹون سکول اس بات کا عملی مظہر ہیں کہ پاکستان میں تعلیم ابھی بھی زندہ ہے اور اس کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے والے لوگ موجود ہیں۔
اگر یہی جذبہ، یہی عزم اور یہی وژن ملک کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی رائج ہو جائے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان علمی، فکری اور اخلاقی میدان میں دنیا کی صفِ اول کی اقوام میں شامل ہو گا۔ کیونکہ تعلیم صرف علم کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے۔ اور کارنراسٹون سکول نےڈائریکٹر کارنرا سٹون سکولز وجیہہ رئوف کی قیادت میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت اور طریقہ کار درست ہو تو تعلیمی ادارے قوم کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔



