
لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب میں ایک نئے تنازع نے جنم لے لیا ہے، جہاں ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے تحت ایک ہی ہسپتال میں نرسنگ سپرنٹنڈنٹ کی دو اسامیاں فعال ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
دستاویز کے مطابق ساجدہ پروین (بی ایس 17) کو بہاولپور کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں نرسنگ سپرنٹنڈنٹ (آپریشن تھیٹر) تعینات کیا گیا ہے، جبکہ پہلے سے نرسنگ سپرنٹنڈنٹ کی ایک باقاعدہ اسامی موجود ہے۔ اس اقدام کو متعلقہ حلقوں نے غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس نوعیت کی کوئی مثال ماضی میں موجود ہے یا نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کے انتظامی ڈھانچے میں نرسنگ سپرنٹنڈنٹ کی عموماً ایک ہی پوسٹ ہوتی ہے، جو پورے نرسنگ سسٹم کی نگرانی کرتی ہے۔ تاہم اس نوٹیفکیشن کے بعد ایک نئی نوعیت کی اسامی سامنے آئی ہے جسے بعض حلقے قواعد سے ہٹ کر قرار دے رہے ہیں۔
تنقید کرنے والے حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر واقعی ایک نئی پوسٹ تخلیق کی گئی ہے تو اس کے لیے باقاعدہ منظوری، سروس رولز میں ترمیم اور فنانشل اپروول ضروری ہوتا ہے، بصورت دیگر یہ اقدام انتظامی بے ضابطگی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
دوسری جانب کچھ ذرائع اسے مخصوص افراد کو نوازنے کی پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
قانونی وطبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے فیصلے نہ صرف ادارہ جاتی نظم و ضبط کو متاثر کرتے ہیں بلکہ دیگر اہل افسران میں بے چینی بھی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے۔
متعلقہ حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تعیناتی اور نئی اسامی کے قیام کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔



