
رات کے اندھیرے میں اگردنیا کی معیشت کا نقشہ دیکھا جائے تو ایک باریک سی لکیر چمکتی نظر آتی ہے۔۔۔۔یہ کوئی سڑک نہیں، کوئی سرحد نہیں۔۔۔۔ یہ پانی کا ایک راستہ ہے۔۔۔’’ آبنائے ہرمز ‘‘۔۔۔دنیا کے تیل کا بڑا حصہ اسی تنگ گزرگاہ سے گزرتا ہے،یہ محض سمندر نہیں۔۔۔۔۔ یہ شہ رگ ہے۔۔۔۔ اب ذرا تصور کریں، اگر یہ شہ رگ مکمل بند رہے تو۔۔۔؟ جہاز رک جائیں، تیل تھم جائے، منڈیاں کانپ جائیں گی۔۔۔ اور دنیا کی سب سے بڑی معیشت، جو خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتی ہے، ایک ایسے بحران میں داخل ہو جائے گی جس کا اس نے کبھی کھل کر سامنا نہ کیا ہو۔۔۔۔

آپ کہیں گے، یہ ممکن نہیں۔۔۔۔ امریکا اتنا کمزور نہیں ۔۔۔۔ بالکل۔۔۔۔امریکا کمزور نہیں، لیکن تاریخ ہمیں ایک خطرناک سچ بتاتی ہے، کوئی بھی طاقت ہمیشہ طاقتور نہیں رہتی، کل تک اسپین سمندروں کا بادشاہ تھا، پھر برطانیہ نے دنیا کو اپنی کالونی بنا لیا، اس کے بعد سوویت یونین ایک نظریے کی شکل میں آدھی دنیا پر چھا گیا۔۔۔۔ اورآج ۔۔۔۔۔؟ یہ سب تاریخ کی کتابوں میں مثالیں ہیں، سوال یہ نہیں کہ امریکا طاقتور ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا وہ انہی راستوں پر تو نہیں چل رہا جن پر چل کر ماضی کی طاقتیں بکھر گئیں۔۔۔۔۔؟ کہانی یہاں سے دلچسپ ہوتی ہے۔
1971 ء ایک ایسا سال، جس نے خاموشی سے دنیا کی معیشت کا رخ بدل دیا، امریکا نے سونے کے ساتھ ڈالر کا رشتہ توڑ دیا، یعنی اب ڈالر کے پیچھے سونا نہیں تھا، صرف اعتماد تھا، یہ ایک جوا تھا۔۔۔ مگر ایسا جوا جو کامیاب ہو گیا،دنیا نے ڈالر کو قبول کر لیا۔۔۔۔ اور پھر ایک اور چال چلی گئی، تیل کو ڈالر سے جوڑ دیا گیا۔۔۔ اب جو بھی ملک تیل خریدنا چاہتا تھا، اسے پہلے ڈالر خریدنا پڑتا تھا، یوں امریکا صرف مصنوعات نہیں، کاغذ ( کرنسی ) بھی بیچنے لگا، یہ وہ لمحہ تھا جب طاقت بندوق سے نکل کر معیشت میں منتقل ہوئی، مگر ہر نظام کے اندر ایک خاموش کمزوری چھپی ہوتی ہے،سوچیں، اگر آبنائے ہرمزبند رہنے سے تیل کا بحران پیدا ہوگیا،ایرانی مطالبے پر دنیا نے ڈالر کے بغیر تیل خریدنا شروع کردیا تو۔۔۔ تو کیاہوگا۔۔۔؟ یہی وہ سوال ہے جس سے اصل بحث شروع ہوتی ہے۔
یہ 1991 کی ایک سرد رات تھی، ماسکو کی فضا میں عجیب سا سکوت تھا، نہ کوئی جنگ، نہ کوئی دھماکہ، نہ کوئی حملہ،پھر بھی ایک سپر پاور مر رہی تھی، سوویت یونین۔۔۔۔وہ ریاست جو آدھی دنیا پر نظریاتی اثر رکھتی تھی، جس کے پاس ایٹمی ہتھیار تھے، جس کی فوج کو ناقابلِ شکست سمجھا جاتا تھا، وہ بغیر گولی چلے ٹوٹ گئی۔۔۔۔ کیسے۔۔۔؟ جواب، ایک لفظ میں ہے’’ معیشت ‘‘۔۔۔سوویت یونین نے طاقت کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی معیشت پر مسلسل بوجھ ڈالا،فوجی اخراجات بڑھتے گئے، افغانستان جیسی جنگوں نے وسائل کو چاٹ لیا، اور اندرونی نظام،بیوروکریسی،اتنا سست اور بوجھل ہو گیا کہ پیداوار رکنے لگی، دوسری طرف دنیا بدل رہی تھی۔
ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی تھی، مارکیٹ اکانومی تیزی سے پھیل رہی تھی۔۔۔ اور سوویت نظام اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں میں جکڑا ہوا تھا۔ پھر ایک اور خاموش دھچکا لگا، تیل کی قیمتیں گر گئیں، سوویت یونین کی معیشت کا بڑا حصہ تیل اور گیس پر کھڑا تھا، جب قیمتیں گریں، تو اس کی آمدن سکڑ گئی ۔۔۔اور جب آمدن سکڑتی ہے، تو طاقت بھی سکڑنے لگتی ہے۔۔۔ نتیجہ۔۔۔؟ ایک دن سرخ پرچم نیچے اترا۔۔۔۔ اور سوویت یونین تاریخ بن گیا۔ اب سوال یہ ہے، کیا آج امریکا بھی کسی ایسے ہی دباؤ کا شکار ہے۔۔۔؟
دوسری کہانی کی طرف چلتےہیں۔۔۔ کہتے ہیں، برطانیہ کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتاتھا۔ مگر تاریخ کا ایک اصول ہے، جو بہت اونچا جاتا ہے، وہ اگر سنبھلے نہ تو اتنی ہی شدت سے گرتا بھی ہے۔برطانیہ کے زوال کی کہانی کسی ایک دن یا ایک جنگ سے شروع نہیں ہوئی۔ یہ ایک خاموش تھکن تھی جو سالوں میں جمع ہوئی۔ پہلا بڑا دھچکا آیا، جنگِ عظیم اول۔ برطانیہ جیت گیا، مگر اس جیت نے اس کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔ قرض بڑھا، وسائل کم ہوئے، اور ایک تھکی ہوئی سلطنت نے بمشکل خود کو سنبھالا۔ پھر آیا دوسرا وار، جنگِ عظیم دوم۔ یہ جنگ برطانیہ کیلئے صرف میدان جنگ نہیں تھی، یہ اس کی معیشت کا امتحان تھی،اور وہ امتحان مہنگا پڑا۔ جنگ ختم ہوئی، خزانے خالی، قرض آسمان پر۔۔۔۔نتیجہ ۔۔۔ ؟ اور وہ سلطنت جو دنیا کو کنٹرول کرتی تھی، اپنے ہی جزیرے تک محدود ہوگئی۔۔۔ آج اگر ہم امریکا کو دیکھیں، تو کیا ہمیں کچھ ویسے ہی آثار نظر آتے ہیں۔۔۔؟ عالمی فوجی موجودگی، بڑھتا ہوا قرض، اور ایک ایسی معیشت جو عالمی نظام کے مرکز پر کھڑی ہے،اگر یہ مرکز ہل جائے تو۔۔۔۔؟
کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔۔۔ تصور کریں ایک ایسی سلطنت کا جہاں خزانے سونے سے بھرے ہوں، جہاز چاندی اور سونا لاد کر ساحلوں پر اترتے ہوں، اور دنیا کی دولت ایک مرکز کی طرف بہہ رہی ہو۔ یہ کوئی خواب نہیں تھا، یہ اسپین تھا،16ویں صدی صدی میں اسپین دنیا کی سب سے طاقتور سلطنتوں میں شمار ہوتا تھا۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے، اتنی دولت کے باوجود، اسپین کیوں ٹوٹ گیا۔۔۔؟ جواب حیران کن ہے۔ زیادہ دولت۔۔۔۔ ہمیشہ طاقت نہیں دیتی،اسپین نے سونے پر انحصارکرلیا، اس نے صنعت نہیں بنائی، پیداوار نہیں بڑھائی، نتیجہ۔۔۔۔؟ مارکیٹ میں سونا بڑھا اور اس کی قدر گرنے لگی۔
مہنگائی بڑھی،مقامی صنعت تباہ ہوئی ۔۔اور اسپین ایک ایسی معیشت بن گیا جو خود کچھ بناتی نہیں تھی،صرف خرچ کرتی تھی،اوپر سےیورپ میں مسلسل لڑائیاں۔۔ فوجی اخراجات زیادہ، چند دہائیوں میں، وہ سلطنت جو سونے میں کھیل رہی تھی، قرض میں ڈوب گئی،نیتجہ۔۔۔؟اسپین ٹوٹ گیا۔اسپین کی مماثلت امریکا سے ملائیں،سونے پر کھڑا ملک قیمتیں کم ہونے پر ٹوٹ گیا،امریکا ڈالر پرکھڑا ہے،اگر دنیا نے ڈالر کے بغیر تیل اور دیگر اشیا خریدنا شروع کردیں تو۔۔۔۔؟
کہانی کےآخری مرحلے میں جاتے ہیں، ہم نے ایک سفر طے کیا۔ آبنائے ہرمز کی ایک باریک لکیر سے شروع ہونے والی بات سوویت یونین کے انہدام تک پہنچی، برطانیہ کی سکڑتی ہوئی سلطنت سے گزری، اور اسپین کے سونے سے بھرے مگر کمزور خزانے تک جا پہنچی۔ تین مختلف کہانیاں، مگر ایک مشترک سبق۔۔۔’’ طاقت ہمیشہ باہر سے نہیں، اندر سے ٹوٹتی ہے‘‘۔۔۔۔اب سوال سیدھا ہے، کیا امریکا بھی اسی راستے پر ہے۔۔۔۔؟ حقیقت کیا ہے۔۔۔؟ امریکا پرقرض بڑھ رہا ہے۔۔۔۔ اور دنیا پہلی بار سنجیدگی سے متبادل نظام پر غور کر رہی ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں خبردار کرتی ہے۔ سوویت یونین کو یقین تھا کہ وہ قائم رہے گا، برطانیہ کو یقین تھا کہ اس کی سلطنت ہمیشہ رہے گی،اسپین کو یقین تھا کہ سونا کبھی ختم نہیں ہوگا۔ لیکن تاریخ یقین پرنہیں، حقیقت پر چلتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی طرف نظر دوڑائیں، لگتا یہی ہے امریکا کے ٹوٹنے کا سب بن جائےگا،کیونکہ بحران جاری رہا تو دنیا ڈالر کو خیرباد کہہ دے گئی،سعودی عرب بھی اس معاہدے سے نکلنا چاہتا ہے۔ شاید ہاں اور اصل خطرہ یہی ہے۔ سپر پاورز ایک دن میں نہیں گرتیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی برتری کھوتی ہیں، پھر ایک دن دنیا ان کے بغیر جینا سیکھ لیتی ہے۔ تو کیا ہم ایک ایسے ہی دور کے آغاز پر کھڑے ہیں۔۔۔۔؟ یہ فیصلہ ابھی نہیں ہوا، مگر ایک بات طے ہے، دنیا بدل رہی ہے، نظام بدل رہا ہے۔۔۔۔ اور طاقت کا توازن خاموشی سے ایک نئے رخ کی طرف جا رہا ہے، اب یہ ہم پر ہے، ہم اس کہانی کو ایک افسانہ سمجھیں، یا آنے والی حقیقت کا ابتدائیہ۔



