خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں اس سال پھر سے رمضان المبارک نصیب ہوا۔یہ وہ مہینہ ہے جو اپنے ساتھ رحمتیں اور برکتیں لے کر آتا ہے ۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکی کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا یے۔
رمضان المبارک کے روزے ہر مسلمان پر فرض کیے گئے ہیں ۔ روزہ اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ روزہ رکھنے سے انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور جسمانی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایک نبی علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ آپ اپنی قوم کو خبر دیجئے کہ جو بھی بندہ میری رضا کے لیے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے تو میں اس کے جسم کو صحت بھی عنایت فرماتا ہوں اور اس کو عظیم اجر بھی دوں گا۔
ماہ رمضان کا ایک روزہ رکھنے والے کے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ جنت میں ایک دروازہ ہے جسکو ریان کہاجاتا ہے اس سے قیامت کے دن روزہ دار داخل ہوں گے ان کے علاوہ کوئی اور داخل نہ ہو گا کہا جائے گا روزے دار کہاں ہیں ؟ پس یہ لوگ کھڑے ہوں گے ان کے علاوہ کوئی اور اس دروازے سے داخل نہ ہو گا ۔ جب یہ داخل ہو جائیں گے تو دروازہ بند کر دیا جائے گا پس پھر کوئی اس دروازے سے داخل نہ ہو گا۔
روزہ درا کا سونا عبادت اور اس کی خاموشی تسبیح کرنا اور اس کی دعا قبول اور اس کا عمل مقبول ہوتا ہے۔ بروز قیامت روزہ داروں کے لیے ایک سونے کا دسترخوان رکھا جائے گا ، جس سے وہ کھائیں گے حالانکہ لوگ (حساب کتاب ) کے منتظر ہوں گے ۔
جیسے ماہ رمضان میں نیکی کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے ویسے ہی گناہ کا عذاب بھی بڑھا دیا جاتا ہے ۔ "نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک جنت ماہ رمضان کے لیے ایک سال سے دوسرے سال تک سجائی جاتی ہے۔ پس جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنگ کہتی ہے اے اللہ عزوجل مجھے اس مہینے میں اپنے بندوں میں سے (میرے اندر) رہنے والے عطا فرما دے اور حورعین کہتی ہیں اے اللہ عزوجل اس مہینے میں ہمیں اپنے بندوں میں سے شوہر عطا فرما۔
پھر نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے اس ماہ میں اپنے نفس کی حفاظت کی کہ نہ تو کوئی نشہ آور شے پی اور نہ ہی کسی مومن پر بہتان لگایا اور نہ ہی اس ماہ میں کوئی گناہ کیا تو اللہ تعالیٰ ہر رات کے بدلے اس کا سو حوروں سے نکاح فرمائے گا اس کے لیے جنت میں سونے، چاندی، یاقوت اور زبرجد کا ایسا محل بنائے گا کہ اگر ساری دنیا جمع ہو جائے اور اس محل میں آجائے تو اس محل کی اتنی ہی جگہ گھیرے گی جتنا بکریوں کا ایک باڑہ دنیا کی جگہ گھیرتا ہے اور جس نے اس ماہ میں کوئی نشہ آور شے پی یا کسی مومن پر بہتان باندھا یا اس ماہ میں کوئی گناہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک سال کے اعمال برباد فرما دےگا۔
بس تم ماہ رمضان میں کوتاہی کرنے سے ڈرو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے گیارہ مہینے کر دیئے کہ ان میں نعمتوں سے لطف اندوز ہو اور لذت حاصل کرو اور اپنے لیے ایک مہینہ خاص کر کیا ہے ۔ پس تم رمضان کے معاملے میں ڈرو”
رمضان المبارک کے مقدس لمحات کو فضول کاموں میں برباد ہونے سے بچائیے! زندگی بے حد مختصر ہے اسکو غنیمت جانئے فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرنے کی بجائے تلاوت قرآن اور ذکر و درود میں وقت گزارنے کی کوشش کیجئے ۔ بھوک لگنے کی صورت میں صبر کیجئے کیونکہ افضل عبادت وہ ہے جس میں مشقت زیادہ یے۔
روزے کی حقیقت رکنا ہے اور رکے رہنے کی بہت سی شرائط ہیں مثلاً معدے کو کھانے پینے سے روکے رکھنا ، آنکھ کو بد نگاہی سے روکے رکھنا ، کان کو غیبت سننے، زبان کو فضول اور فتنہ انگیز باتیں کرنے اور جسم کو حکم الٰہی عزوجل کی مخالفت سے روکے رکھنا روزہ ہے۔ جب بندہ ان تمام شرائط کی پیروی کرے گا تب وہ حقیقتاً روزہ دار ہو گا۔



