جنگ بندی : امریکہ کی15، ایران کی 6 شرائط؟،تہران کےحملہ میں اسرائیلی صدربال بال بچ گئے
ایرانی قیادت ختم کردی، یہ رجیم چینج ہے،اب ہم صحیح لوگوں سے بات کررہے ہیں،نئی قیادت معاہدہ کرنے جا رہی ،ٹرمپ، آج دنیا کے عوام بیدار، آزاد لوگوں کے دل صیہونیوں کیساتھ نہیں:مسعود پزشکیان
تہران،واشنگٹن، تل ابیب (ویب ڈیسک) امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ 25 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے، جبکہ ممکنہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی متضاد اطلاعات بین الاقوامی میڈیا میں گردش کر رہی ہیں اور اس دوران پاکستان کا نام بھی بطور ثالث لیا جا رہا ہے۔
ان مذاکرات میں پاکستان کے کسی ممکنہ کردار کی سرکاری طور پر تصدیق یا تردید تو نہیں ہو سکی ہے تاہم اطلاعات ملی ہیں کہ ایران نے ممکنہ جنگ بندی کے لئے 6اسٹریٹجک شرائط پیش کردی ہیں۔جب کہ امریکا نے بھی جنگ بندی سے متعلق اپنے 15نکاتی مطالبات ایران تک پہنچا دیئے ہیں۔ صدرٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت ختم کردی ہے، یہ رجیم چینج ہے، نئی قیادت معاہدہ کرنے جا رہی ہے، اب ہم ٹھیک لوگوں سے بات کر رہے ہیں، انہوں نے ہمیں ایک تحفہ بھیجا جو کل مل گیا۔
تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہےکہ ایران میں اب کوئی قیادت باقی نہیں رہی، ایران میں شاندار کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔میڈیا سےگفتگو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران رضامند ہےکہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائےگا، ایران اس بار سمجھداری سے بات کر رہا ہے، اب ہم صحیح لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران سے بات کر رہے ہیں، ایران میں شاندار کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، ان کی نیوی، ائیر فورس تباہ کر دی ہے، ہم نے ان کی قیادت ختم کردی ہے۔
یہ رجیم چینج ہے، انہوں نے ہمیں ایک تحفہ بھیجا جو کل مل گیا، ایران نے ہمیں تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران میں اب نئی قیادت ہے دیکھتے ہیں کہ وہ کیسا کام کرتے ہیں، ایران کی نئی قیادت معاہدہ کرنے جا رہی ہے۔ سعودی عرب، یو اےای اور قطر ایران کے معاملے میں بہت بہترین رہے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ ایران سے بات چیت میں نائب صدر جےڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر بھی شریک ہیں۔ادھرایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہےکہ آج ہم دنیا کے کئی ممالک کے عوام کی بیداری کا مشاہدہ کر رہے ہیں، دنیا کے آزاد لوگوں کے دل صیہونیوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان، ترکیے، عراق، لبنان، مصر اور عرب ممالک کے عوام امریکا، اسرائیل اور ان کے جرائم کے خلاف ببانگ دہل نفرت کا اظہار کر رہے ہیں، خطے میں استحکام صرف باہمی تعاون اور اقوام کی مرضی کااحترام کرنے سے ہی ممکن ہے۔
ادھر ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا سے مذاکرات کی حمایت کردی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نے مذاکرات کی حمایت کی ہے جبکہ ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایرانی حکام نے کسی قسم کے مذاکرات سے انکار کردیا تھا۔قبل ازیں ملکی میڈیا کے مطابق ایک اہلکار نے نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ علاقائی پارٹیوں اور ثالثوں نے ایران کو تجاویز پیش کی ہیں کہ جنگ روکی جائے۔اہلکار نے نئے قانونی سٹریٹجک فریم ورک کے تحت شرائط بتائیں جن میں سے اولین جنگ دوبارہ نہ شروع ہونے کی یقین دہانی ہے۔
دوسری خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جانا ہے، تیسری جارح کو پیچھے دھکیلنا اور ایران کو ہرجانے کی ادائیگی ہے۔چوتھے تمام علاقائی فرنٹس پر جنگ کو ختم کیا جانا ہے، پانچویں آبنائے ہرمز کیلیے نئے قانونی رجیم پر عمل درآمد کیا جانا ہے اور چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا آپریٹیوز کیخلاف قانونی کارروائی اور انہیں ملک بدر کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سکیورٹی و سیاسی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی شرائط کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے، ایرانی میڈیا نے ایک سکیورٹی و سیاسی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ مہینوں پہلے سے طے حکمت عملی کو اسٹریٹجک تحمل کے ساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھا رہا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ حکومت کو امریکا کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے کچھ نکات موصول ہوئے ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ثالثوں کے ذریعے ملنے والے نکات کا جائزہ لینے کے بعد باضابطہ بیان جاری کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا مقصد توانائی کی عالمی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ خطے کے کچھ ممالک کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں اور مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں، تاہم ان تمام تجاویز اور درخواستوں کا رخ واشنگٹن کی جانب ہونا چاہیے۔ ایران کا موقف واضح ہے کہ وہ اس جنگ کو شروع کرنے والا فریق نہیں ہے۔ایک اور بیان میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں دوست ممالک کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے، جو ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی درخواست کر رہا ہے، لیکن ایران نے اب تک اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران مذاکرات کے سلسلے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔
بی بی سی کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ’امریکہ اور ایران کی رضامندی کی صورت میں پاکستان اس تنازع کے اختتام کے لیے نتیجہ خیز اور معنی خیز مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے اور اسے اپنے لیے ایک اعزاز سمجھے گا۔ خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو 48 گھنٹوں کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس کو ’تباہ‘ کر دے گا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر یہ دھمکی امریکی صدر نے پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح چار بج کر 44 منٹ پر دی تھی۔ مہلت ختم ہونے میں ابھی چند گھنٹے باقی تھے جب سوموار کے روز صدر ٹرمپ نے ایران میں تمام حملوں کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا اور یہ بھی کہا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران میں ’نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔‘تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کی تردید کی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے بیان کو توانائی کی قیمتیں کم کرنے اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔
ایران کی وزارتِ خارجہ ان مذاکرات پر پاکستان کے کردار پر تاحال خاموش ہے، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے آگاہ ایک ایرانی سفارتکار نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ اس ’بات چیت کے معمولی امکانات موجود ہیں۔‘نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ان کا کہنا تھا کہ ’اگر (ان مذاکرات کے حوالے سے) حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے تو دیگر جگہوں کے علاوہ اسلام آباد بھی میزبانی کا مقام ہو سکتا ہے۔‘’ہم اپنی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تفصیلات کے منتظر ہیں۔‘ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’ہمیں امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے نکات موصول ہوئے ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔وائٹ ہاؤس سے بی بی سی نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز اور امریکی ڈیجیٹل نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹس کا حوالہ دیا۔
ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والے تنازع کو ختم کرنے کے لیے ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کا نام ایک مجوزہ ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ ’ہو سکتا ہے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پاکستان میں ہوں اور امریکہ کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کریں۔ جریدے کے مطابق امریکہ سے آنے والی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات اتوار کے روز ہوئے۔ ان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔’ایک دوسری، زیادہ معتبر رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں ثالث کے طور پر مصر، ترکی اور پاکستان شامل تھے۔‘ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اگر فریقین چاہیں تو اسلام آباد ہمیشہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی مسلسل حمایت کرتا رہا ہے۔‘تاہم دفتر خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی فریق کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی نہ تو تصدیق کریں گے اور نہ ہی تردید۔
وائٹ ہاؤس نے ایران جنگ کے معاملے پر امریکی صدر ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ٹیلی فون بات چیت کی تصدیق کر دی۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے جنوبی ایشیا وِٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کْشنر کے ممکنہ دورہِ اسلام آباد کے بارے میں سوال کے جواب میں ترجمان وائٹ ہاوس کیرولین لیوٹ نے کہا کہ یہ حساس سفارتی بات چیت ہے اور امریکا اس معاملے پر میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔
کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا بدلتے ہوئے حالات میں میٹنگز کے بارے میں قیاس آرائی کو اْس وقت تک حتمی نہیں سمجھنا چاہیے جب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے باضابطہ اعلان نہیں ہو جاتا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر رپورٹ ہوا کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، وٹکوف اور جیرڈ کشنر ممکنہ طور پر اگلے ہفتے اسلام آباد میں ایران کے ہونے والے مذاکرات کی نمائندگی کریں گے۔دوسری جانب اس حوالے سے ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا تھا اگر فریقین راضی ہیں تو پاکستان ثالثی کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
امریکی ٹیلی وژن چینل سی این این نے تو ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کو اپنی توقعات پر مشتمل 15 نکات کی ایک فہرست پاکستان کے ذریعے بھجوائی ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران نے کسی تجویز پر اتفاق کیا ہے یا نہیں۔ ٹیلی وژن چینل سی این این نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی جانب سے انٹیلی جنس چیف لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک ان حکام میں شامل ہیں جو وٹکوف اور کشنر کے ساتھ رابطے میں ہیں۔اگرچہ امریکہ یا ایران کی جانب سے سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی۔ مذاکرات کی متضاد اطلاعات اور پاکستان کے ممکنہ کردار کی خبروں کے دوران دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کا آپس میں رابطہ ہوا۔امریکہ ایران مذاکرات کی انھی متضاد اطلاعات اور پاکستان کے ممکنہ کردار کی خبروں کے دوران پاکستان اور ایران کے اعلیٰ حکام کا آپس میں رابطہ بھی ہوا۔ اس رابطے کے بعد جاری کیے گئے سرکاری بیانات میں بھی ’مذاکرات اور سفارت کاری‘ کے الفاظ نمایاں ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ایک وسیع معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ اور گمراہ کن بیانیہ قرار دیا ہے۔ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ادھرایران نے جنگ روکنے کیلئے 6 سٹریٹجک شرائط پیش کردی ہیں۔ علاوہ ازیں چینی وزیرخارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک بات چیت کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ امید ہے فریقین امن بات چیت کا عمل جلد از جلد شروع کریں گے، لڑنے کے بجائے بات چیت کرنا ہمیشہ بہتر ہوتا ہےاور یہ ایران اور اس کے عوام کے مفاد میں ہے، جبکہ یہ عالمی برادری کی مشترکہ خواہشات کے مطابق بھی ہے۔
وانگ یی نے مزید کہا کہ چین غیر جانبدار اور منصفانہ مؤقف برقرار رکھے گا،امن مذاکرات کو فروغ دے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کام جاری رکھے گا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وانگ یی کو خطے کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا اور چین کی جانب سے فراہم کی جانے والی ہنگامی انسانی امداد پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام بیرونی جارحیت کے خلاف مزاحمت اور قومی خودمختاری و آزادی کے تحفظ کے لیے پہلے سے زیادہ متحد ہو رہے ہیں۔
عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران عارضی جنگ بندی کے بجائے ایک مکمل اور جامع سیزفائر چاہتا ہے۔نہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھلی ہے اور جہاز محفوظ طریقے سے گزر سکتے ہیں، تاہم وہ ممالک جو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہیں ان کے لیے یہ سہولت زیر غور نہیں۔ادھرایران کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی، اس فیک نیوز کا مقصد اقتصادی اور تیل کی مارکیٹس میں ہیرا پھیری کرنا ہے اور اس دلدل سے نکلنا ہے جس میں امریکا اور اسرائیل پھنسے ہوئے ہیں۔ ایرانی قوم جارح ممالک کی مکمل اور شرمناک سزا چاہتی ہے، یہ ہدف حاصل کرنے تک تمام اہلکار اپنے لیڈر اور قوم کے پیچھے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
ایرانی سیکیورٹی اہلکار نے کہا کہ تہران کی موثر جوابی کارروائی کے سبب ٹرمپ ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکی سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اس لیے بھی پسپا ہوئے کیونکہ امریکا اور مغربی ممالک کی اقتصادی مارکیٹ اور بانڈز کو خطرات بڑھ گئے تھے۔اہلکار نے واضح کیا کہ کئی ثالثوں کے زریعے ایران کو پیغام بھیجا جارہا ہے مگر واضح جواب یہی ہے کہ ایران اس وقت تک دفاع جاری رکھے گا جب تک ضروری ڈیٹرینس حاصل نہیں کرلیتا۔اہلکار نے کہاکہ نہ تو آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی حالت پر واپس جائے گی، نہ ہی انرجی مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔
ٹرمپ کا 5 روزہ الٹی میٹم کا مقصد ایرانی عوام کیخلاف جرائم جاری رکھنا ہے، ایران کا جواب، وسیع تر دفاع جاری رکھے گا۔آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران کے نقصانات پورے ہونے تک جنگ نہیں رکے گی۔ انہوں نے کہاکہ تمام پابندیاں ختم ہونے اور آئندہ حملے نہ ہونے کی عالمی گارنٹی لیں گے۔ اس بار آنکھ کے بدلے سر لیں گے، امریکا کو خطے سے نکلنا ہوگا۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا دونوں ڈیل کرنا چاہتے ہیں، اسرائیل سے بات ہوگئی ہے، وہ تازہ پیشرفت پر خوش ہے۔علاوہ ازیں اسرائیلی حکام کا کہنا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے معاہدہ کرنےکے لیے پُرعزم نظر آرہے ہیں، تاہم اس بات کا امکان کم ہے کہ ایران امریکی مطالبات کو قبول کرے گا۔
دریں اثنا امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے ایران کیخلاف پانچ روز تک حملے روکنے کے اعلان کے باوجود اسرائیل باز نہ آ
یا، ایران پر بڑا فضائی حملہ کرکے 50 سے زائد اہداف نشانہ بنانے کا دعویٰ کردیا، تہران کے قلب میں ایرانی حکومت کے انفرا اسٹرکچر کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کیے ، اسرائیلی بمباری میں مزید12ایرانی شہری شہید ہوگئے ۔ ادھرایرانی پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق کی 79ویں لہر کا آغاز کرنے کا اعلان کر دیاہے اور کہا کہ نئے حملوں میں سجیل، عماد اور خیبر شکن میزائلوں کا استعمال کیا گیا،تل ابیب، رامات گان، نیگیو اور بیرشیبا میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
حزب اﷲ نے دعویٰ کیا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی 5 پوزیشنز پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے گئے، جس میں فوجی بیرکس، ریڈار سائٹس اور توپ خانے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ گذشتہ روز سرائیلی فو ج نے تہران میں سپاہ پا سداران انقلاب کے انٹیلی جنس کے 2 ہیڈکوارٹرز اور ایرانی وزارتِ انٹیلی جنس کے ایک ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔کہا گیا کہ ایرانی ہتھیاروں کے ذخائر اور فضائی دفاعی نظام کے مقامات پر بھی حملے کیے گئے۔ترجمان کے مطابق راتوں رات کی گئی اس فضائی کارروائی میں شمالی اور وسطی ایران میں 50 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل حملے کیے، جنوبی اسرائیل میں ایرانی میزائلوں کے ٹکڑے گرنے سے تل ابیب میں دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق تل ابیب میں 7 مقامات پر ملبہ گرا، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد زخمی ہوئے اور 3 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
اس سے قبل تل ابیب اور وسطی اسرائیل میں سائرن بجنے کے بعد زوردار دھماکے سنے گئے۔ اسرائیلی فوج نے ‘دیمونا’ اور ‘بئر السبع’ کے گردونواح میں بھی نئے میزائل حملوں اور ملبہ گرنے کی اطلاع دی ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی صدر شمالی اسرائیل میں موجود تھے جب پہاڑی پر میزائل گرا، اسرائیلی صدر شمونہ کریات میں نیوز کانفرنس کررہے تھے۔تاہم وہ اس حملے میں بال بال بچے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے مشرقی آذربائیجان میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا، حملوں میں 6 ایرانی شہری شہید،9 زخمی ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ انکے میزائلوں نے اسرائیل کے کئی دفاعی نظاموں کو توڑ دیا ہے۔
ادھر ‘فارس’ نیوز ایجنسی کے مطابق منگل کی صبح امریکہ اور اسرائیل نے وسطی ایران کے شہر اصفہان میں توانائی کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا۔یہ حملے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد ہوئے جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز نہ کھلنے کی صورت میں بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ جنوبی مغربی ایران میں خرم شہر پاور پلانٹ کی گیس پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق تہران کی جانب آنے والے اسرائیلی ڈرون ہرمیس کو تباہ کر دیا گیا۔ایرانی پاسداران انقلاب نے کہاکہ اب تک دشمن کے تباہ کیے گئے ڈرونز کی تعداد 130 سے تجاوز کر چکی ہے۔
ایرانی ایمرجنسی سروس کے مطابق جنگ کے آغاز سے امریکا اور اسرائیل نے ایران کے 215 شہروں کو نشانہ بنایا، 83 ہزار سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچا، امریکی اسرائیلی حملوں میں اب تک 208 بچے شہید ہو چکے،ایران بھر میں امریکی اسرائیلی حملوں میں شہادتوں کی مجموعی تعداد 1500 سے تجاوز کر گئی۔ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد میڈیا پر پیغام میں کہاہے کہ ڈیل ہونے تک ایران اور حزب اللّٰہ پر حملے جاری رکھیں گے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ امریکا اور ایران امن بات چیت کرتے ہیں تو اسرائیل اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں جنگ کے تمام مقاصد معاہدے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ایسا معاہدہ ہمارے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے میزائل حملوں میں اسرائیلی فوج کو شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔حزب اللہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز شمالی اسرائیل میں 2 حملوں میں اسرائیلی فوج کو شدید نقصان پہنچایا، جنوبی لبنان میں چوکی پر اسرائیلی فوجیوں کو گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا،دوسری جانب اسرائیلی وزیر صحت کا کہنا ہے 28 فروری سے اب تک جنگ کے دوران 4 ہزار 829 زخمیوں کو اسپتال لایا گیا، 111 زخمی اب بھی ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے مشرقی صوبے کی جانب آنے والے 30 ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔
جب کہ اماراتی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ایران کے 5 بیلسٹک میزائلوں اور 17 ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا۔ اماراتی حکام نے بتایا کہ 15 کروز میزائلز اور ایک ہزار 806 ڈرونز کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔ حملوں میں اب تک 8 افراد شہید 161 زخمی ہوئے ہیں۔ادھر سینٹکام کا کہنا ہے کہ ایران پر حملوں میں 140 بحری جہازوں کو تباہ کردیا گیا،سینٹ کام کے مطابق ایران پر 28 فروری سے اب تک 9 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ علاوہ ازیں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں۔برینٹ کروڈ کی قیمت تین فیصد اضافے سے 103 ڈالر فی بیرل، ڈبلیو ٹی آئی ساڑھے 3 فیصد بڑھ کر 91 ڈالر 20 سینٹ تک جا پہنچا،گزشتہ روز تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد کمی آئی تھی۔



