دہشتگردی کا نیا خطرہ افغانستان سے اٹھ رہا: عالمی برادری طالبان پر دبائو ڈالے، وزیر اعظم
ترک، ایرانی، تاجک،کرغز صدور سے ملاقاتیں، دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق، خطے میں امن و استحکام کے لئے مشترکہ عزم کا اظہار
اشک آباد، اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے دہشتگردی کا نیا خطرہ افغانستان سے اٹھ رہا ہے، عالمی برادری افغان حکومت پر ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے زور ڈالے۔ ان خیالات کا اظہار اشک آباد میں ترکمانستان کی 30سالہ مستقل غیر جانبداری کی سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ عالمی امن فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے رواں سال سلامتی کونسل میں ذمہ داریاں سنبھالیں، دہشتگردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے، عالمی برادری افغان حکومت پر ذمہ داریوں کی ادائیگی لئے زور ڈالے۔ ان کا کہنا ہے کہ تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔
پاکستان کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ منظور ہوا، غزہ جنگ بندی کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینیوں نے سکھ کا سانس لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد2788پاکستان کے وژن کی تائید ہے، عرب اسلامی ممالک کے گروپ رکن کی حیثیت سے پاکستان کا امن مشن میں کردار ہے، مشرق وسطیٰ میں دیر پا جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی ضروری ہے۔ جنگ بندی کیلئے تعاون پر سعودی عرب، قطر، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، اردن اور ایران کے مشکور ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ پائیدار امن اور پائیدار ترقی لازم و ملزوم ہیں، 2030ء ایجنڈا عالمی ترقی کا جامع لائحہ عمل ہے، مالیاتی شمولیت اور خواتین کو معاشی دھارے میں لانا ہماری ترجیح ہے، پاکستان کا صاف اور سرسبز ترقیاتی ماڈل عالمی مثال ہے۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ موسمیاتی تبدیلی اور عدم مساوات ترقی پذیر ممالک کے بڑے چیلنج ہیں، ترقی یافتہ ٹیکنالوجیز تک منصفانہ رسائی ناگزیر ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے دنیا کے کئی ممالک کو خطرات درپیش ہیں، ترکمانستان کی قیادت کا عالمی امن میں کردار لائق تحسین ہے، فورم کو عملی اقدامات میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ دنیا کو صفر جمع سوچ سے نکل کر مشترکہ تعاون اپنانا ہوگا، تجارت ہی نہیں، انسانوں اور خیالات کو جوڑنے والے پل تعمیر کرنا ضروری ہے۔ قبل ازیں وزیرِاعظم اشک آباد میں عالمی رہنمائوں کے ہمراہ ترکمانستان کی یادگارِ غیر جانبداری پر حاضر ہوئے اور پھول پیش کیے۔ اس موقع پر ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ترک صدر رجب طیب اردوان، ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، قزاقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف سمیت مختلف ممالک کے سربراہ اور نمائندے موجود تھے۔ مزید برآں وزیراعظم نے ترکیہ کے ساتھ سیاسی، توانائی، اقتصادی، دفاع اور سرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے توانائی، پٹرولیم اور معدنیات کے ترجیحی شعبوں میں ترکیہ کی دلچسپی اور سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا ہے۔ جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے اشک آباد میں بین الاقوامی فورم کے موقع پر ملاقات ہوئی۔
وزیراعظم نے رواں برس پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قیادت کی سطح پر ہونے والے مسلسل روابط پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ترکیہ کے ساتھ سیاسی، توانائی، اقتصادی، دفاع اور سرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے میں ترکیہ کے تعمیری کردار کا شکریہ بھی ادا کیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ امن تب ہی ممکن ہو گا جب پاکستان کے سلامتی کے خدشات کو پوری طرح سے حل کیا جائے۔
صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم کی جانب سے نیک خواہشات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات استوار کرنے کے لئے مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ مزید برآں وزیر اعظم اور ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے باقاعدہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعظم نے ترکمانستان کی تیس سالہ مستقل غیر جانبداری کی سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ فورم کے موقع پر ایران کے صدر سے دو طرفہ ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے سنگین سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے افغانستان حکومت بامعنی کارروائی کرے۔ صدر پیزشکیان نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے روسی صدر ولادیمیر پوتن، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان اور کرغزستان کے صدر صادر ڑپاروف سے بھی غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔ دریں اثنا وزیر اعظم ترکمانستان کا سرکاری دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے۔ ترکمانستان کی کابینہ کے نائب چیئرمین اور ٹرانسپورٹ و مواصلات کے سربراہ محمد خان چیکیئف نے وزیر اعظم اور پاکستانی وفد کو الوداع کیا۔



