گریٹر اسرائیل کے نقشے کا اجرا اور اسرائیل کے حالیہ اقدامات خطے میں ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے امن کو داؤ پر لگاتے ہوئے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے فلسطین، شام، لبنان اور اردن کے علاقوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ اسرائیلی میڈیا اور حکومتی بیانات میں مشرق وسطیٰ کے "نئے نقشے” کا تذکرہ اس بات کا غماز ہے کہ یہ صرف جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سامراجی منصوبہ ہے۔
اس سے پہلے نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ ہے کہ گولان ہائٹس میں بفر زون قائم کرنا اور شامی علاقوں میں حملے اسرائیل کے دفاع کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں اپنی برتری قائم کرنا ، علاقوں پر قبضہ اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا ہے۔ شام کے صدر بشار الاسد کے ملک چھوڑنے کے بعد اسرائیل کی طرف سے 480 سے زائد فضائی حملے اور شام کے غیر جانبدار علاقوں پر قبضے کی کوششیں بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
لیکن چونکہ اسرائیل کو امریکہ کی آشیر باد حاصل ہے تو اسے ان اقدامات سے روکنے والا کوئی نہیں۔
نیتن یاہو کے سامراجی منصوبوں کے ساتھ ساتھ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توسیع پسندانہ پالیسیاں بھی دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن رہی ہیں۔ ٹرمپ نے نہ صرف گرین لینڈ اور پاناما کینال پر قبضے کی بات کی بلکہ کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا، "پاناما کینال ہماری معیشت اور فوج کے لیے ضروری ہے،” اور انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ کا کنٹرول امریکہ کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی یہ پالیسیاں بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں اور دنیا میں ایک نیا سامراجی ماحول پیدا کر رہی ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ کے یہ اقدامات نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ خطے میں مزید تنازعات اور جنگوں کا بھی باعث بن سکتے ہیں۔ فلسطین، شام، اور اردن جیسے ممالک کے عوام پہلے ہی انسانی بحران کا شکار ہیں، اور ایسے اقدامات ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کریں گے۔۔
بنیامین نیتن یاہو تنازعات کا مرکز رہے ہیں، فلسطین میں ہونے والے مظالم اور نسل کشی کے حوالے سے عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف نسل کشی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزام میں بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں، لیکن بین الاقوامی طاقتوں کی سیاسی منافقت اور اسرائیل کو امریکہ اور برطانیہ سمیت مغربی ممالکی مضبوط پشت پناہی کی وجہ سے وہ اب تک قانونی گرفت سے بچے ہوئے ہیں۔ فلسطین میں اسرائیلی افواج کی جارحیت، معصوم شہریوں کی ہلاکت اور غزہ کی تباہی کو دنیا نے دیکھا ہے، لیکن ان مظالم کے باوجود نیتن یاہو خود کو ناقابل تسخیر سمجھتے ہیں۔ ان کے اقدامات کو نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں بلکہ عالمی اخلاقیات کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ کی مکمل حمایت کے ساتھ، نیتن یاہو "گریٹر اسرائیل” کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مزید جارحانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ ان کا یہ خواب نہ صرف فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی ہے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور استحکام کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں، غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر، اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کی کوششوں کو نیتن یاہو امریکہ کے سیاسی اثر و رسوخ اور فوجی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنی طاقت اور امریکی حمایت کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اقدامات کو کوئی روک نہیں سکتا۔ لیکن عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور نیتن یاہو کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امن اور انصاف کو یقینی بنائے۔
اور اگر عالمی برادری اسرائیل اور امریکہ کی سامراجی پالیسیوں کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کرتی تو دنیا کو مزید تنازعات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی سامراجی پالیسیاں مشرق وسطیٰ کے امن کو مستقل خطرے میں ڈال سکتی ہیں اور خطے کو جنگ کے دہانے پر لے جا سکتی ہیں۔
مسلم ممالک کی لیڈرشپ جو صرف مذمتی بیانات اور قرادادوں تک محدود ہے اسے اب اس حوالے جامع حکمت عملی بنانی پڑے گی۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



