یمن بحران: پاکستان کی حل کیلئے سیاسی مذاکرات کی اپیل
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں پر تشویش: منیر اکرم کا سلامتی کونسل میں بیان
نیویارک (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے یمن کے بحران کے حل کیلئے سیاسی مذاکرات کی اپیل کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سلامتی کونسل میں یمن کے تنازع میں شامل تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مسائل کے پرامن حل کیلئے یمن کے عوام کی شمولیت سے سیاسی عمل کو ترجیح دیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ اور علاقائی کوششوں، خصوصاً سعودی عرب اور عمان کی جانب سے یمن کے تنازع کو طے کرنے کیلئے متفقہ فریم ورک کے تحت سیاسی حل کی حمایت کی ہے۔
یمن پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بریفنگ کے دوران اپنے بیان میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے یمن میں انسانی بحران کو دنیا کے شدید ترین بحرانوں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں تقریباً آدھی آبادی یعنی ایک کروڑ 70لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جب کہ 35لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے حوثیوں کی جانب سے اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کے کارکنوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا، جو کہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے، اور ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ پاکستان نے یمن کے شہری انفراسٹرکچر، بشمول صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ، بحیرہ احمر کی بندرگاہوں اور بجلی گھروں پر اسرائیلی فضائی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے یمن کے سنگین انسانی اور سیاسی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
منیر اکرم نے کہا کہ ہم بحیرہ احمر میں تجارتی اور بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں پر بھی گہری تشویش رکھتے ہیں، جو عالمی تجارت، علاقائی استحکام اور ماحولیات کیلئے خطرہ ہیں۔ پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ یمن میں طویل تنازع نے ایک کثیر الجہتی بحران کو جنم دیا ہے، جس میں معاشی زوال، موسمیاتی اثرات اور جدید تاریخ کے بدترین انسانی بحران شامل ہیں۔ انہوں نے دسمبر 2023کے امن مذاکرات میں ہونیوالی اہم پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات سے ایک ملک گیر جنگ بندی کے ذریعے دشمنیوں کو روکنے کے اہم معاہدے کئے گئے۔ منیر اکرم نے ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے، ایک روڈ میپ تیار کرنے اور پائیدار امن کے فروغ کیلئے وعدوں پر مکمل عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستانی سفیر منیر اکرم نے سلامتی کونسل کو یاد دلایا کہ یمن کی صورتحال کو وسیع تر علاقائی حرکیات (broader regional dynamics)، بشمول غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی حملے سے الگ تھلگ نہیں دیکھا جاسکتا۔ انہوں نے انسانی بحران کے حل کیلئے ایک مضبوط اور مربوط بین الاقوامی کوشش کی ضرورت پر زور دیا اور ڈونر ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن کیلئے 2025کے انسانی ردعمل کے منصوبے میں اپنی معاونت میں اضافہ کریں۔



