انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

پہلے فلسطینی ریاست پھر اسرائیل سے تعلقات: سعودی ولی عہد

محمد بن سلمان نے دورے سے قبل امریکی صدر کو سفارتی ذرائع سے پیغام پہنچا دیا

ریاض ( ویب ڈیسک) سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ امریکہ سے قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں کی بنیاد پر خطے میں بڑے بھونچال کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں تاہم سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق اپنے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے شرائط میں اضافہ کر دیا ہے۔
خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعوے کرتے آئے ہیںکہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام پر اتفاق کرلیا ہے لیکن سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے رواں ماہ شیڈول دورہ امریکہ کے موقع پر ایسا ہوتا ہوا ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں سے جاری دشمنی کے بعد سفارتی تعلقات کے قیام سے مشرق وسطیٰ کے سیاسی اور سکیورٹی منظر نامے پر بھونچال آسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں خطے میں امریکی اثر و رسوخ مزید گہرا ہوجائے گا۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ سعودی عرب نے امریکہ سفارتی راستوں سے پیغام دیا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کے معاملے پر ان کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے اور وہ صرف اسی صورت میں معاہدے پر دستخط کرے گا جب فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا روڈ میپ دیا جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب نے یہ پیغام اس لیے بھیجا ہے تاکہ سفارتی طور پر کوئی غلطی نہ ہو اور کسی قسم کا بیان جاری کرنے سے پہلے سعودی عرب اور امریکہ کی پوزیشن واضح کرنا ہے اور وائٹ ہائوس میں بات چیت سے پہلے یا بعد میں کسی قسم کی غلط فہمی سے دور رہنے کے لیے یہ پیغام دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب بہت جلد ان مسلمان ممالک میں شامل ہوگا ۔ دوسری جانب رپورٹس میں بتایا گیا کہ محمد بن سلمان بالکل واضح ہیں کہ وہ مستقبل قریب میں اسرائیل کے ساتھ کسی ایسے ممکنہ تعلقات پر اس وقت تک حق میں نہیں ہیں جب تک فلسطینی ریاست کے قیام پر کوئی مصدقہ قدم نہیں اٹھایا جاتا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button