اسرائیل کی بیروت، غزہ میں وحشیانہ بمباری جاری، مزید 96شہید
حزب اللہ نے اسرائیلی شہر جلیلی پر 20راکٹ داغ دئیے، یہودی خوف و ہراس کا شکار: حماس جنگ بندی کیلئے تیار
دحیہ، حریت حریک، چیاہ، رفاہ، شجاعیہ اور بیت لاہیہ کے علاقوں پر متعدد حملے، جبالیہ کیمپ میں رہائشی عمارتوں کو تباہ کرنا شروع کر دیا
بیروت، غزہ (ویب ڈیسک )اسرائیلی فضائیہ کی لبنان کے دارالحکومت بیروت پر مسلسل پانچویں روز بمباری جاری ہے۔ دحیہ، حریت حریک اور چیاہ کے علاقوں پر متعدد فضائی حملے کئے، 24گھنٹے میں صیہونی حملوں میں 59افراد شہید اور 182زخمی ہو گئے۔ دوسری طرف دہشتگرد اسرائیل کی غزہ بھر میں بھی وحشیانہ بمباری نہ تھم سکی، 24گھنٹے میں صیہونی حملوں میں مزید 37فلسطینی شہید، 120زخمی ہو گئے۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کا مسلسل محاصرہ کر رکھا ہے، ہزاروں فلسطینی نقل مکانی کر چکے ہیں۔ جنوبی علاقے رفاہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 5افراد شہید ہو گئے، اسرائیلی فورسز نے شمال میں جبالیہ کیمپ میں رہائشی عمارتوں کو بھی تباہ کر نا شروع کر دیا، شجاعیہ پر اسرائیلی حملے میں 3فلسطینی شہید ہوگئے۔ بیت لاہیہ میں فلسطینی گروپ پر اسرائیلی فضائیہ کے حملہ میں 3افراد شہید ہو گئے، دوسری جانب خان یونس کی انتظامیہ کے پاس پانی اور سیوریج کی سہولیات چلانے کیلئے ایندھن ختم ہو گیا۔ جبکہ اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 12فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا، اسرائیلی نسل کشی میں مجموعی طور پر 43ہزار 799فلسطینی شہید، 1لاکھ 3ہزار 601زخمی ہو چکے ہیں۔دوسری طرف لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جبکہ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر ڈرون حملے بھی کیے گئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے داغے جانے والے ڈرونز میں سے ایک ڈرون اسرائیلی شہر نہاریا کی ایک عمارت سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں عمارت کی بالکونی کو معمولی نقصان پہنچا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیلی شہر جلیلی پر 20راکٹ داغے، جن میں سے کچھ کو ناکام بنادیا گیا۔ حزب اللہ کے حملوں کے باعث اسرائیلی شہر حیفہ سمیت دیگر مقامات پر خطرے کے سائرن گونجنے لگے اور ان مقامات پر موجود اسرائیلی شہری خوف و ہراس کا شکار ہوگئے اور فوری طور پر مختلف جگہوں پر بنائے گئے زیرزمین بنکرز میں چھپ گئے۔علاوہ ازیں عراق کی مزاحمتی تنظیم نے بھی اسرائیل کے شہر ایلات پر ڈرونز داغنے کا دعوی کیا ہے۔
ادھر فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دبائو ڈالیں کیونکہ وہ مسلسل فلسطینی علاقے پر بمباری کر رہا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے قطر نے بطور ثالث اپنا کردار معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ فریقین ’سنجیدگی‘ کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔ دوحہ سے تعلق رکھنے والے حماس کے سیاسی ونگ کے رکن باسم نعیم نے کہا کہ حماس غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے تیار ہے لیکن اس شرط پر کہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی جائے اور اسرائیل اس کا احترام کرے۔ ہفتہ کے روز قطر نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے بالواسطہ مذاکرات میں ثالث کے طور پر اپنا کردار معطل کر رہا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک بیان میں کہا کہ جب فریقین جنگ بندی کے لیے آمادگی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے تو وہ اپنا کردار دوبارہ ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ حماس کی جانب سے جمعہ کے روز یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور وسطی شہر دیر البلاح کے رہائشی رات بھر کے اسرائیلی حملوں کے بعد صبح کے وقت تباہ شدہ ملبے میں اپنوں کی تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔



